- Advertisement -
قبائلی رہنماہ سردار معصوم خان ترین کی کوششوں کے باعث سابق صوبائی وزیر ایم پی اے سردار مسعود علی خان لونی اور سردار میر غوث کبزئی کے درمیان زمین کے تنازعے کا تصفیہ ہو گیا۔اس سلسلے میں ایک قبائلی جرگہ لونی ہاﺅس کوئٹہ سے پشتون قومی جرگے کے کنونیئروسابق صوبائی وزیر نواب محمد ایاز خان جوگیزئی کی قیادت میں قبائلی رہنماءسردار میرغوث کبزئی کے رہائش گاہ گئی قبائلی جرگے میں ایم این اے مولانا عبدالواسع ،سینیٹرسردار شفیق خان ترین،سابق سینیٹرروزی خان کاکڑ ،صوبائی وزیر انجینئر زمرک خان اچکزئی ،وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر ملک نعیم بازئی ،اے این پی کے صوبائی صدر ایم پی اے اصغر خان اچکزئی ,جمعیت علما اسلام نظریاتی کے صوبائی امیر مولانا عبدالقادر لونی ،ضلعی چیئرمین لورالائی شمس حمزہ زئی ،نوبزادہ محبوب خان جوگیزئی ،قبائلی رہنماہ سردار معصوم خان ترین ،سردار اسد خان ناصر ،عبد الحلیم آغا، حاجی گلاخان ٹھیکیدار ,حاجی ولی محمد غبزئی ,صابر خان جوگیزئی ،سردار افضل کبزئی,ڈاکٹر نواز کبزئی ڈاکٹر نور اللہ کبزئی, ملک نوراللہ شبوزئی ،چیئرمین میونسپل کمیٹی بوری نعمت جلازئی ,سردار رشید زرکون ,سردار جعفر خان اتمانخیل ،ملک شمس کاکڑ ،اور قبائلی عمائدین علما کرام اور سیاسی شخصیات بڑی تعداد میں شریک تھے.قبائلی جرگے کے شرکا نے سردار میر غوث کبزئی کو اپنا عذر پیش کردیا .جسے سردار میر غوث کبزئی نے تسلیم کرکے تنازعے کے تصفیے کا مکمل اختیار قبائلی جرگے کو دیا ،قبائلی جرگے نے زمین کے تنازعے کا تصفیہ کرکے اپنا فیصلہ سنا دیاجس کے بعد دعائے خیر کی گئی ،قبائلی جرگے کے شرکا سے پشتون قومی جرگے کے کنونیئرنواب ایاز خان جوگیزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتون قبائل کو اپنے رسم و رواج کے تناظر میں اپنے تمام مسائل کا حل قبائلی جرگوں کے ذریعے نکالنا چاہئے.انہوں نے کہا کہ جنگ اور اسلحہ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا.چھوٹے چھوٹے تنازعات کو بروقت گفت و شنید کے ذریعے سے حل نہ کرنے کی وجہ سے خونی تنازعات جنم لیتے ہیں. انہوں نے کہا کہ پشتون قوم کے سرکاردہ قبائلی معتبرین ,سرداران ,ملکان اور علما کرام پشتون قوم کے مختلف قبیلوں اور گروہوں کے تنازعات ختم کرنے کے لئے ہمارا ساتھ دیتے ہوئے کار خیر میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ لیکر ہر ممکن کوشش کریں۔