- Advertisement -
پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماءوپشتون قومی جرگہ کے کنو نیئر نواب ایاز خان جو گیزئی نے کہا ہے کہ موجودہ اور صوبائی حکومتوں نے معذور افراد کی حقوق کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے مدینہ ریاست کی باتیں کرنے والے پہلے معذوروں پر توجہ دیںپھر ملک کی ترقی وخوشحالی میں اپنا کردا رادا کریں مدینہ ریاست میں حیوانوں کی قدر کی جاتی تھی مگر یہاں تو انسانوں کی قدر نہیں کی جاتی کیا مدینہ ریاست اس طرح بنائے جا تے ہیں مدینہ ریاست میں انسانوں کو ان کے حقوق اور انصاف ان کی دہلیز پرملتے تھے آج تو معذور افراد شاہراہوں اور پریس کلب کے سامنے احتجاج کر کے تھک چکے ہیںمگر ان کے پانچ فیصد کوٹہ پر عملدرآمد نہیں ہوا ان خیالات کا اظہار انہوں نے معذور افراد کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی مبین خلجی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا نواب ایاز خان جو گیزئی نے کہا ہے کہ جب میں معذوروں کو دیکھتا ہوں تو مجھے دکھ درد ہو تا ہے کیونکہ میں خود اس اذیت سے گزر رہا ہوں اور میرا بیٹا معذور ہے مجھے معذورافراد کے لئے احساس ہے اور دکھ بھی ہے جب صحیح معنوں میں حکمران اور حکومتیں معذور افراد کی بحالی کے لئے اقدامات اٹھائے تو ان کے حالت بہتر ہو سکتے ہیں اگر ہم معذوروں کے پانچ فیصد کوٹہ پر عملدرآمد نہیں کر سکتے تو ہزاروں کی تعداد میں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کیسے میسر کر سکتے ہیں جو لوگ آج مدینہ ریاست کی مثالیں دیتے ہیں وہ ملک کو ترقی دینے کی بجائے ان معذور افراد کی روزگار کی بحالی پر توجہ دیں تو ملک کے کئی فیصد مسائل حل ہو سکتے ہیں مدینہ ریاست میں حضرت عمرؓ نے اپنے دور اقتدارمیں حیوانوں کیلئے وہ کچھ کیا جو آج ہم انسانوں کے لئے نہیں کر سکتے ہمیں چا ہئے کہ ان معذور افراد کی زندگی بسرکرنے کے لئے عملی طور پر کچھ کریں انہوں نے کہا ہے کہ جب ہم اقتدار میں تھے تو ہم ہمیشہ حکومت پر تنقید کر تے تھے اور حکومت کے خلاف بو لتے تھے آج بھی ہم غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہتے ہیں ۔