- Advertisement -
جمعیت علماءاسلام کے پارلیمانی لیڈر
نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نے 100 دن اپوزیشن اور عوام کو مایوس کیا حکومت اور اتحادیوں کے درمیان مفادات کی لڑائی میں بلوچستان کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیل دیا ہے موجودہ حکومت صوبے کے حقوق کے حوالے سے دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے قائمہ کمیٹیاں نہ ہونے کی وجہ سے قانون سازی بھی روکی ہوئی ہے اور جب صوبے میں قانون سازی نہ ہو تو معاملات آگے کیسے لے جائے گا ان خیالات کا اظہا رانہوں نے صحافیوں سے بات چیت کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی کارکردگی ماضی کی حکومتوں کی طرح ہے سو دن میں ماسیوائے آپس میں اختلافات کے سوا کچھ نہیں کیا حکومت اور ان کی جماعت کے درمیان اختلافات کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ قانون سازی کے لئے کمیٹیاں بنانا حکومت اور اپوزیشن کا کام ہے مگر بد قسمتی سے حکومت نے سو دن میں کچھ نہیں کیا صرف دو دن پہلے پی ایس ڈی پی ریلیز کر دی اور موجودہ حکومت سے قبل صحت، تعلیم اور دیگر محکموں میں جو بے ضابطگیاں ہوئی تھی ان کے خلاف حکومت نے کمیٹی بنائی کہ غیر قانونی ہونیوالے بھر تیوں کو روکا جائے گا اور ان کے خلاف ایکشن لیا جائیگا مگر اب تک کچھ نہیں ہوا اور اسپیشل اسسٹنٹ پر وزیراعلیٰ اور اسپیکر کے درمیان سرد جنگ جاری ہے جس پر اسپیکر نے تحفظات کا اظہار کیا ہے ظلم اور زیادتی بلوچستان کا مقدر بنا دیا ہے صوبے میں کوئی ترقیاتی کام شروع نہیں کیا گیا اپوزیشن حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہے۔