- Advertisement -
بلوچستان حکومت کے 100 دن پورے ہونے کو ہے مگر قانون سازی کے لئے اب تک کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے اور نہ ہی قائمہ کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہے جس کے باعث قانون سازی کا عمل تعطل کا شکار ہے اپوزیشن لیڈر اور قائمہ کمیٹیاں نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان اسمبلی سے پاس ہونیوالے مسودہ قانون پر کوئی کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوا اور نہ ہی صوبے میں قانون سازی ہوئی ہے اٹھارویں ترمیم میں اختیارات کیساتھ ساتھ تمام صوبوں کو قانون سازی تیز کرنے کی بھی شق شامل ہے زرائع کے مطابق بلوچستان حکومت کے سو دن پورے ہونے پر حکومت نے تو دعوے بہت کئے کہ بلوچستان کی ترقی اور روزگار کے مواقع کے لئے ملازمتوں پر پابندی ہٹا دی مگر 100 دن پورے ہونے پر اب تک کوئی قائمہ کمیٹی تشکیل نہیں پائی جس کی وجہ سے بلوچستان میں قانون سازی تعطل کا شکار ہے جمعیت علماءاسلام کے پارلیمانی لیڈر واپوزیشن رکن ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ قانون سازی کے لئے کمیٹیاں بنانا حکومت اور اپوزیشن کا کام ہے مگر بد قسمتی سے حکومت نے سو دن میں کچھ نہیں کیا صرف دو دن پہلے پی ایس ڈی پی ریلیز کر دی اور موجودہ حکومت سے قبل صحت، تعلیم اور دیگر محکموں میں جو بے ضابطگیاں ہوئی تھی ان کے خلاف حکومت نے کمیٹی بنائی کہ غیر قانونی ہونیوالے بھر تیوں کو روکا جائے گا اور ان کے خلاف ایکشن لیا جائیگا مگر اب تک کچھ نہیں ہوا اور اسپیشل اسسٹنٹ پر وزیراعلیٰ اور اسپیکر کے درمیان سرد جنگ جاری ہے جس پر اسپیکر نے تحفظات کا اظہار کیا ہے ظلم اور زیادتی بلوچستان کا مقدر بنا دیا ہے صوبے میں کوئی ترقیاتی کام شروع نہیں کیا گیا اپوزیشن حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہے ممتاز قانون دان نصیب اللہ ترین نے بتایا کہ جب 100 دن میں حکومت قائمہ کمیٹیاں تشکیل نہیں دے سکتی تو وہ حکومت کو کیسے چلائیں گے حکومت ناکامی سے دوچار ہے ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہے اور حکومت کے جو ذمہ دار لوگ ہے وہ بے بس ہے اور اختیارات ان کے پاس نہیں ہے جن کے پا س اختیار ہے ان کا قانون سازے سے کوئی تعلق نہیں ہے بلوچستان اس وقت قانون سازی کے حوالے سے بحران کا شکار ہے اگر عملی طور پر اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے جو شق موجود ہ ے ان پر عملدرآمدنہ کرنا حکومت کی ناکامی ہے ۔