- Advertisement -
نے کہا ہے کہ ماضی میں حکمرانوں نے بلوچستان اور خاص کر ژوب کے عوام کے حقوق پر سمجھوتہ کر کے اجتماعی مفادات کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی جس کی وجہ سے مسائل دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں اگر ماضی میں حکمرانوں نے عوام کے حقوق کا دفاع کر تا تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہو تی موجودہ حکومت بلوچستان کی تعمیر وترقی کے لئے ہر ممکن تعاون کرینگے ہم عوام کے منتخب کر دہ نمائندے ہیں اور آئندہ چند سالوں میں تبدیلی ضروری آئے گی ان خیالات کا اظہا رانہوں نے مختلف وفود سے بات چیت کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کی حکومت پر تنقید کرنے والے خود بھی دوسروں کا کندھا استعمال کر کے اقتدارمیں آئے تھے جب عوام نے ان کو مسترد کیا تو انہوں نے موجودہ حکومت کو غیر آئینی حکومت قرار دیدیا جب خود اقتدار میں ہو تے تو ہر حکومت جمہوری ہو تا ہے جب خود اقتدار میں نہیں ہے تو ہر حکومت غیر آئینی ہو تا ہے اب اس طرح ڈرامے نہیں چلے گا عوام نے پانچ سال ان قوم پرستوں کو بھی خدمت کرنے کا موقع دیا مگر انہوں نے پشتون علاقوں کو بائی پاس کر کے صرف قلعہ عبداللہ کو ترجیح دی میرٹ کو پامال کر کے سابقہ وزراءنے اپنے ہی بیٹے اور بیٹیوں کو نوازا گیا کیا یہ میرٹ اور انصاف ہے اگر میرٹ اور انصاف یہی ہے تو پھر اس طرح سیاست نہیں ہوتی انہوںنے کہا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کی منتخب کر دہ حکومت ہے اور حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں جمہوریت پسند جماعتیں ہے اور ان جماعتوں کے اکابرین نے بہت بڑی قربانیاں دی ہے ۔