- Advertisement -

صوبائی مشیر برائے تعلیم محمد خان لہڑی نے کہاہے کہ بد عنوانی معاشرے کا ناسور ہے ،کرپشن کے خاتمے میں اساتذہ کا کردار کلیدی ہے ،باکردارساز معاشرے کے قیام کے لئے اساتذہ نئی نسل کی صحیح خطوط پر تربیت کریں ، اساتذہ کی طلباءو طالبات کی تربیت کے عمل میں غفلت اور رو گردانی معاشرے میں کرپشن کے ناسور کے پھیلاﺅ کا سبب بنی، طلباءو طالبات کے بد عنوانی کے خلاف نفرت کے جذبات و خیالات سے فکری دریچے وا ہوئے، تعلیمی اداروں میں زیر ِ تعلیم طلباءو طالبات ملک کا اثاثہ ہیں ،بد عنوانی کے خلاف ان کا جذبہ ہمارے لئے اُمیدِ سحر ہے۔ان خیالات کا اظہارصوبائی مشیر برائے تعلیم محمد خان لہڑی، ڈائر یکٹر اسکولز سید انور شاہ اور ڈائریکٹر نیب بلوچستان فیصل قریشی نے قومی احتساب بیورو کے زیر اہتمام صوبائی سطح کے تقریری مقابلوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ تقریب نیب کے زیر اہتمام ہونے والے تقریری مقابلوں کے آخری مرحلے کے حوالے سے منعقد کی گئی جس میں ضلع اور ڈویژن کی سطح سے اسکولز کے فاتح طلباءو طالبات نے صوبائی سطح کے مقابلے میں شرکت کی۔صوبائی مشیر برائے تعلیم محمد خان لہڑی نے اس موقع پر طلباءوطالبات کے کرپشن کے خلاف جذبات و خیالات کو سراہتے ہوئے کہا کہ کرپشن ایک ناسور ہے جس کا فوری تدارک نا گزیر ہے ، ہمیں آنے والی نسلوں کو کرپشن فری پاکستان دینا ہو گاجسکے لئے تعلیمی اداروں بالخصوص اساتذہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت کرپشن کے خاتمے کے لئے پر عزم ہے ، تعلیم اور شفافیت کے فروغ کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات جاری ہیں۔ڈائر یکٹر اسکولز سید انور شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا اساتذہ معاشرے میں تبدیلی لانے کا سب سے بڑے محرک ہیں۔ اساتذہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے نئی نسل کی صحیح خطوط پر آبیاری کے لئے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کے چراغ بھی فروزاں کریں، اساتذہ کا کام صرف تفویض شدہ مضامین پڑھانا نہیں بلکہ طلباءکی درست سمت رہنمائی بھی ہے ۔ اساتذہ کی جانب سے پرویا گیا تعلیم و تربیت کا یہ گلدستہ ہمارے معاشرے میں کرپشن سمیت تمام معاشرتی برائیوں کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتاہے۔انہوں نے اظہار تاسف کیا کہ اساتذہ کی جانب سے تربیت کے عمل سے پہلوتہی نے کرپشن جیسی بیماریوں کو جنم دیا، ہمیں کرپشن سے پاک معاشرے کے لئے نئی نسل کے ازہان میں کردار سازی کے نگینے جڑنے ہونگے۔ڈائریکٹر نیب بلوچستان فیصل قریشی نے اس موقع پر طلباءو طالبات کے جوش و خطابت اور خوبصورت خیالات کو سراہتے ہوئے انہیں اُمید سحر قرار دیا انہوں نے کہا طلباءو طالبات کے خوبصورت خیالات سے تمام حاضرین مجلس کے لئے سوچ کے نئے دریچے وا ہوئے۔ انہوں نے کہا آج کے طلباءو طالبات ماضی سے یکسر مختلف ہیں طلباءکو حاصل معلومات کے جدید ذرائع کی وجہ سے اساتذہ کو بھی عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔ اساتذہ کو انفارمیشن کی بجائے طلباءکی ریفارمیشن پر توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا قومی احتساب بیورو کرپشن کے تدارک کے لئے اپنی سہ جہتی حکمت عملی کے تحت تمام مکاتب ِ فکر کے ساتھ شعور و آگاہی کے پروگرام ترتیب دیتا ہے ۔ ہمیں اُمید ہے نئی نسل کی اصلاح کے لئے ہماری کو ششیں بار آور ثابت ہو نگی۔