باپ پارٹی کا کوئی مستقبل نہیں ، چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ خان زہری

0

- Advertisement -

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان وچیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ زہری نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتوں نے مجھے اپوزیشن لیڈر نامزد کرینگے تو عہدہ قبول کرینگے باپ پارٹی کا کوئی مستقبل نہیں ہے جو سابقہ وزراءاور سابقہ اراکین اسمبلی ہمارے خلاف عدم اعتماد میں پیش پیش تھے وہ عام انتخابات میں ہار گئے جو مسلم لیگ(ن) کو چھوڑے تھے اور اقتدار کی خاطر کسی اورجماعت میں گئے تھے ان کو دوبارہ مسلم لیگ(ن) میں کسی صورت قبول نہیں کرینگے ان ہاﺅس تبدیلی کے بارے میں وقت آنے پر بتاﺅنگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ زہری نے کہا ہے کہ عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف نے عوام کے ساتھ جو وعدے کئے تھے 100 دن میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی پیٹرول ، ڈالر سمیت دیگر ایشیاءخوردنوش مہنگی ہو گئی اور اب تک آئی ایم ایف سے قرض نہیں لیا گیا لیکن معیشت کی حالت بری ہو گئی اور ڈالر آسمان کو چو گئے عوام تبدیلی سے بیزار ہے صرف عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے مسلم لیگ(ن) کے دور حکومت میں ڈیزل وپیٹرول 60 روپے اور نئے پاکستان میں113 روپے فی لٹر ہو گیا ہے فلاحی ومدینہ ریاست بنانے والے پہلے مہنگائی پر کنٹرول کریں جب تک ملک کی معیشت بہتر نہیں ہو گی اس وقت تک حالات بہتر نہیں ہونگے پی ٹی آئی کی حکومت نے انتخابات سے قبل عوام کیساتھ جو وعدے کئے تھے ان وعدوں کی نفی کی اور کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی اور عوام کو دھوکہ دیا گیا انہوں نے کہا ہے کہ روس اس لئے حصوں میں تقسیم ہو گئے کہ ان کی معیشت خراب ہوئی جب کسی بھی ملک کا معیشت خراب ہو جاتی ہے تو وہ ملک چلانے کے قابل نہیں ہو تے انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سب کچھ جام ہے اور وفاقی حکومت نے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر کٹ لگا کر صوبے کو مزید پسماندگی کی طرف دھکیل دیا صوبے میں ہمارے دور میں مالی بھران نہیں تھا اور ہم جا تے جا تے خزانہ بھرا چھوڑا تھا ایک دم کیسے قومی خزانہ کو نقصان ہوا ہم نے بجٹ بنا تے وقت ہر ڈویژن کو ترقیاتی مد میں ایک ارب روپے کوئٹہ پیکج کو10 ارب روپے اور شہر کو پانی کی فراہمی کے لئے پٹ فیڈر کینال سے چالیس ارب روپے مختص کئے تھے جو کہ رواں سال کے لئے 10 ارب روپے رکھے تھے جن اضلاع میں اربوں روپے دیئے تھے وہ کیسے استعمال نہیں ہوئے موجودہ حکومت مالی بحران سے نمٹ نہیں سکیں کوئٹہ واٹر سپلائی کے لئے اربوں روپے پیکج رکھا تھا انہوں نے کہا ہے کہ جو لوگ ہمیں چھوڑ کر گئے تھے وہ کسی کا نہیں رہا ہم سے جانے کے بعد اب جس جماعت میں گئے ہیں ان کو بھی چھوڑنے جا رہے ہیں باپ میں شامل ہونیوالے عام انتخابات میں اکثریت ہار گئے اور آزاد امیدواروں نے باپ کو جوائن کیا کیونکہ جو لوگ اقتدار کے بھو کے ہو تے ہیں وہ کبھی بھی کسی کا نہیں ہو سکتا ہمارے خلاف عدم اعتماد میں پیش پیش ہونیوالوں کو دوبارہ مسلم لیگ(ن ) میں قبول نہیں کرینگے بلوچستان عوامی پارٹی کا کوئی مستقبل نہیں ہے جس طرح مشرف کے دور میں (ق) لیگ بنا اور کچھ عرصہ بعد ہی اختلافات کی نذر ہو گئی اسی طرح مذکورہ جماعت بھی اختلافات کی نذر ہو جائینگے انہوں نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتوں نے مجھے بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کیا تو بخوشی عہدہ قبول کرونگا ان ہاﺅس تبدیلی میں وقت بتائے گا کیونکہ ہم اپوزیشن کا حصہ ہے اور پوزیشن جو بھی قدم اٹھائے گا ہم ان کے ساتھ ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے دور حکومت میں ہمارے ساتھیوں نے ہم کو چھوڑ کر چلے گئے مگر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے بھر پور ساتھ دیا جن پر ان کا میں زندگی بھر مشکور رہونگا انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے بہت قربانیاں دی ہے امن وامان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرنے چا ہئے کیونکہ اگر حالات دوبارہ اس نہج پر پہنچ گیا تو پھر سنبھالا بہت مشکل ہو گا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.