بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کے لئے اٹھنے والا سیاسی طوفان تھم گیا

0

- Advertisement -

بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کے لئے اٹھنے والا سیاسی طوفان فی الحال تھم سا گیا ہے لیکن حکومت میں شامل بلوچستان عوامی پارٹی کے اندرونی اختلافات منظر عام پر آنے لگے اسپیکر بلوچستان اور صوبائی وزیر کے اختلافات ختم ہونے کے بعد پارٹی کے اہم رہنماءاور سابق صوبائی وزیر امان اللہ نو تیزئی نے پارٹی قیادت سے اختلاف کر تے ہوئے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ مزید کئی پارٹی کے سرکردہ رہنماءآئندہ کچھ دنوں میں پارٹی چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں ذرائع کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری حکومت کے تبدیلی کے لئے اٹھنے والا سیاسی طوفان فی الحا ل تھم گیا مگر بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماﺅں کے درمیان اٹھنے والے اختلافات کے باعث پارٹی کئی دھڑوں میں تقسیم ہونے کا امکان ہے امان اللہ نو تیزئی کے بعد سابقہ وزراءجو کہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کر سکیں پارٹی قیادت کی جانب سے ان سابقہ وزراءکو مسلسل نظرانداز کئے جانے کے خلاف آئندہ کچھ دنوں میں پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے بلوچستان عوامی پارٹی کی مرکزی قیادت پارٹی اختلافات کو ختم کرنے اور ناراض رہنماﺅں کو منا نے کے لئے تگ ودو کوششیں کر رہے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ ایک بار پھر پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم کرنے کے لئے جلد کوئٹہ کا دورہ کرینگے اور پارٹی رہنماﺅں سے ملاقات کر کے ان کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے چیئرمین سینیٹ نے حکومت بلوچستان او ر اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کے در میان اختلافات ختم کر دیئے ہیں اب سب مل کر صوبے میں پارٹی کو منظم کریں گے۔چیئرمین سینیٹ سینجرانی نے کہا ہے کہ اسپیکر صاحب چونکہ ایک سرگرم سیاسی رہنماء ہیں، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ بلوچستان میں پارٹی سرگرم رہے۔ کیونکہ پارٹی بنانے میں انہوں بڑا کردار ادا کیا تھا۔ بی اے پی کے سربراہ اور وزیر اعلی کو قدوس بزنجو کے تحفظات سے آگاہ کر دیا گیا ہے جنہوں نے اسپیکر کی شکایات کا ازالہ کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ میں اسپیکر کے عہدے سے الگ ہو کر دوبارہ سرگرم سیاسی کردار ادا کرنا چاہتا تھا مگر وزیر اعلی اور سینیٹ کے چئیرمین کی کو ششوں سے میرے خدشات دور ہو گئے اور اب میں پارٹی کی قیادت کے احکامات کے مطابق اپنا کام جاری رکھوں گے بلوچستان میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں سیاسی تبدیلی حزب اختلاف کی جماعتوں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل، ایم ایم اے اور دیگر جماعتوں کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.