کوئٹہ23 نومبر :۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت منعقدہ صوبائی کابینہ کے اجلاس نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے خالی اسامیوں پر نئی بھرتیوں کی منظوری دے دی ہے

0

- Advertisement -

کوئٹہ23 نومبر :۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت منعقدہ صوبائی کابینہ کے اجلاس نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے خالی اسامیوں پر نئی بھرتیوں کی منظوری دے دی ہے اور کابینہ نے تمام محکموں کو فوری طور پر بھرتی کے عمل کا آغاز کرنے کی ہدایت کی ہے، صوبائی کابینہ کی جانب سے صوبے کے بے روزگار نوجوانوں کے پیغام دیا گیاہے کہ وہ اعتماد کے ساتھ بھرتی کی درخواست دیں بھرتیاں خالصتاً میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر کی جائیں گی۔ کابینہ کے اجلاس میں نگران دور حکومت میں کی گئی بھرتیوں کا جائزہ لینے کے لئے قائم کابینہ کی سب کمیٹی کی جانب سے رپورٹ بھی پیش کی گئی، گیارہ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اجلاس میں اہم نوعیت کے دیگر کئی ایک فیصلے کئے گئے جن پر عملدرآمد سے صوبے کی مالی وانتظامی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، صوبائی کابینہ نے صوبے کے اپنے محاصل میں اضافے کے ذریعہ خود انحصاری کے حصول کو ناگزیر قراردیتے ہوئے بلوچستان ریونیو اتھارٹی کی استعداد کار میں اضافے کے لئے ریونیو اتھارٹی ترمیمی بل 2018ء اور خدمات کی فراہمی پر عائد بلوچستان سیلز ٹیکس ترمیمی بل 2018 ء کی بھی منظوری دی۔ چیئرمین بی آر اے اور سیکریٹری خزانہ نے اجلاس کو بتایا کہ ادارے کی وسعت اور استعداد کار میں اضافے سے ایک اندازے کی مطابق آئندہ چند برسوں میں گوادر سمیت دیگر شعبوں سے تقریباً چار سو ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے،صوبائی کابینہ نے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے قواعد میں بعض اہم ترامیم کی منظوری بھی دی جس کے تحت کمیشن کے اراکین کی تعداد بمعہ چیئرمین بارہ ہوگی جن میں کم از کم دو خواتین بھی شامل ہوں گی۔ اراکین میں پچاس فیصد گریڈ 20یا اس سے زیادہ کے گریڈ میں ریٹائر ہونے والے انتظامی سیکریٹری اور ریٹائرڈ جج جبکہ دیگر پچاس فیصد میں نجی اور سرکاری شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، ریٹائرڈ ماہرین تعلیم اور دیگر شعبوں کے ماہرین جو مقررہ معیار پر پورے اترتے ہوں شامل ہوں گے۔ کمیشن کے چیئرمین اور اراکین کی تعیناتی کے لئے چیف سیکرٹری بلوچستان کی سربراہی میں سلیکشن بورڈ تشکیل دیا جائے گا جو ہر رکن کی تعیناتی کے لئے تین امیدواروں کا پینل وزیراعلیٰ کو بھجوائے گااور وزیراعلیٰ کی سفارش پر گورنر بلوچستان چیئرمین اور اراکین کی تعیناتی کی منظوری دیں گے، اراکین میں صوبے کے تمام ڈویژن کی نمائندگی شامل ہوگی۔ ان ترامیم کا مقصد بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی کارکردگی اور افادیت میں اضافہ کرنا ہے، کابینہ نے غیرملکی سرمایہ کاروں کے لئے لینڈ لیز پالیسی کی منظوری بھی دی ۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ چونکہ صوبے میں سماجی واقتصادی ترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے جس سے بیرونی سرمایہ کاری کے مواقعوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، موجودہ نافذالعمل لینڈلیز پالیسی بیرونی سرمایہ کاروں کو سرکاری اراضی اجارہ پر دینے سے متعلق رہنمائی نہیں کرتی، کابینہ نے بیرونی سرمایہ کاروں کو کسی بھی منصوبے کے لئے درکار اراضی صرف اجارہ کی بنیادپر دینے کی منظوری دی جبکہ مذکورہ اراضی کے مالکانہ حقوق حکومت، پاکستان شہری، کمپنی اور حاکم مجاز کے پاس رہیں گے۔ اس حوالے سے لینڈ الاٹمنٹ کمیٹی کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا، کمیٹی کے اختیارات اور خدوخال کے حوالے سے کابینہ کے آئندہ اجلاس کو بریفنگ دی جائے گی، صوبائی کابینہ نے صوبے کے ساحلی علاقوں میں ماہی گیروں کے لئے لینڈنگ سائٹس کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ ماہی گیری کو ساحلی علاقوں کا سروے کرکے موجود سہولتوں کا جائزہ لینے کی ہدایت کی اور فیصلہ کیا گیا کہ لینڈنگ سائٹ کے انتخاب کے لئے جامع پالیسی مرتب کرکے صوبے کے ساحلی علاقوں میں بین الاقوامی معیار کی لینڈنگ سائٹ کے بنیادی ڈھانچے ک…

Leave A Reply

Your email address will not be published.