لاہور اوراسلام آباد کی بجائے سی پیک سے متعلق مذاکرات اورمعاہد ے کوئٹہ اور پشاور میں کئے جائیں،نواب محمد اسلم خان رئیسانی

0

- Advertisement -

چیف آف سراوان سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور رکن بلوچستان اسمبلی نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے کہا ہے کہ آئین کا تقاضہ ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کو ہر پانچ سال بعد آجانا چائیے تاکہ قومی وحدتوں کو آئین میں دیئے گئے مالی حقوق منتقل ہوسکیں2009ءبعدسے اب تک دوسرا این ایف سی ایوارڈ کا نہ آنا آئین کی سراسر خلاف ورزی ہے جس کے مرتکب سابق اور موجودہ وزیراعظم عمران خان ہوچکے ہیں ۔ وفاق کو مضبوط کرنے کیلئے قومی وحدتوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیئے جائیں 1940 ءکی قرار داد کی دستاویز کو بنیاد بناکر ملک میں نیا عمرانی معاہدہ وقت کی ضرورت ہے ۔سی پیک کے بلوچستان اورجنوبی پشتونخواءبڑے اسٹیک ہولڈر زہیں سی پیک کے حوالے سے اسلام آباد، لاہوراور بیجنگ میں مذاکرات دھوکہ دہی اور قومی وحدتوں کے اختیارات کو سلب کرنے کا ڈرامہ ہے ۔سی پیک سے متعلق جو بھی مذاکرات اورمعاہد ے ہوں وہ کوئٹہ اور پشاور میں بیٹھ کر کئے جائیں اس کے علاوہ ہمیں کوئی بھی معاہدہ یا مذاکرات قابل قبول نہیں ہونگے یہ بات انہوں نے گزشتہ روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور رکن بلوچستان اسمبلی نواب محمد اسلم رئیسانی کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ9 200 میں ان کی دور حکومت میں آیا تھا آئین کا تقاضا ہے ہرپانچ سال بعد دوسرا این ایف سی ایوارڈ آجانا چائیے مگر افسوس کہ مرکز میںحکومت نوازشریف کی ہو یا آج عمران خان کی دونوں نے آئین کے تقاضہ کو پوار نہیں کیا اور آئین کر سراسر خلاف ورزی کی جارہی ہے اب تو اینگرو کو تباہ کرنے والے وزیر خزانہ اسد عمر کہتے ہیں کہ این ایف سی ایوارڈ کو 2 سال مزید موخر کرنے کی تجویز ہے ۔ان کے اس عمل سے1973ءکے آئین کا وجود مشکوک ہونے لگاہے جب کہ قومی وحدتوںکی مالی مشکلات کو بھی نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حالت تو یہ ہے کہ سی پیک سے متعلق معاہدہ اور مذاکرات لاہور ، اسلام آباد،اور بیجنگ میںہورہے ہیں ہونا توچائیے سی پیک سے متعلق مذاکرات اور معاہدہ کوئٹہ اور پشاور میں ہوںگوادر بلوچستان کا حصہ ہے اور سی پیک کا مغربی روٹ جنوبی پشتونخواءسے گزرتا ہے ۔ بلوچستان اور جنوبی پشتونخواءاس کے بڑے اسٹیک ہولڈرز ہیں ۔ کرتا درھتا ہوںکا اس طرح کا عمل سی پیک کو دھوکہ دہی اور قومی وحدتوں کے اختیارات کو سلب کرنے کا ایک ڈرامہ نظر آرہا ہے جو کہ 1973ءکے آئین میں قومی وحدتوں کو دیئے گئے اختیارات کے منافی ہے اور ہمیں یہ طریقہ کار کسی بھی طرح قبول نہیں ہے میں ہمیشہ سے یہ کہتا چلا آرہاہوں ملک کو ایک نئے عمرانی معاہدہ کی ضروت ہے اب تو انہیں 18 ویں ترمیم بھی قابل قبول نہیں َ اور 73 کے آئین میں قومی وحدتوں کو دیئے گئے اختیارات میں عملدرآمد نہ کرنا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے لہذا ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر اس ساری صورتحال کو سنجیدگی سے جائزلینا چائیے میں مطالبہ کرتا ہوں 1940ءکی قرار داد کی دستاویزات کو بنیاد بناکر قومی وحددتوں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دیئے جائیں حکومت کے پاس جواز باقی نہیں کہ 1973ءکے آئین کے تحت ملک کی بھاگ دوڑ چلائی جائے ، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے بھوت بنگلوں میں بیٹھے ان لوگوں کی سمجھ دانی میں ہماری ی باتیں سماءنہیں پارہیں۔ انہیں چائیے کہ وہ ہماری ان باتوں کو سنجیدگی سے لیں اور فیڈریشن کو مضبوط بنانے کیلئے ہمارے اس مطالبہ پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.