رخشان ڈیوژن اور ھیڈ کوارٹر تنازعہ

0

- Advertisement -

رخشان ڈیوژن اور ھیڈ کوارٹر تنازعہ
سوشل میڈیا پر رخشان ڈویژن کے ھیڈ کوارٹر کے متعلق ڈویژن کے اضلاع کے عوام کے درمیان کافی۔تناو پائی جاتی ہے ضلع خاران کے عوام۔چاہیتی ہے کہ ڈویژن ھیڈ کوارٹر خاران کو قرار دی۔گئی ہے اسکو برقرار رکھی جائے اور سوشل میں کے گروپوں میں خارانی عوام کافی پریشر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے کہ رخشان ڈویژن کے ھیڈ کواٹر کو خاران میں ہی ھونا چاہیئے ۔ اور ضلع چاغی اور نوشکی جبکہ ضلع واشک کے تحصیل ماشکیل کی عوام بھی نوشکی کو رخشان ڈویژن کے ھیڈ کوارٹر بنانے میں دلچسپی رکھتی ہے نومولود ڈویژن رخشان کی ھیڈ کواٹر کو علاقے کی عوام کی سہولیات کے پیشن نظر کہاں ھونا چاہیئے اس پر چند الفاظ کا ایک تبصرہ حاضر خدمت ہے ڈویژن کا ھیڈ کواٹر رخشان کے کسی۔بھی علاقے میں ھو خاص مسلہ نہیں ہے لیکن چونکہ حکومت بلوچستان نے رخشان ڈویژن کی قیام علاقے عوام کی سہولیات کے لئے قائم کر دی گئی تاکہ رخشان کے چاروں اضلاع کے عوام اس انتظامی سہولت سے باآسانی استفادہ کریں جو بہتریں اقدام تھا جسکو سابق وزیر اعلی۔قدوس بزنجو کی حکومت نے لیا اب آتے ہیں کہ ڈویژن ھیڈ کواٹر کہاں ھونا مناسب ہے جہاں سے پورا ریجن فائدہ لے سکتا ہے سیاسی اور علاقہ دوستی سے قطعہ نظر اس پر میں نے ایک۔دوبار لکھنے کی جسارت کی ہے اب عوامی عمل ردعمل اور ڈویژن ھیڈ کواٹر پر عوامی خیالات کو دیکھ کر آج کا یہ مختصر تبصرہ کرنے کی کوشش کررہا ھوں حکومت نے ڈویژن کا قیام عوام کی۔مفادات کے لئے کی تو اس پر قابل غور پیلو یہ ہے کہ رخشان ریجن کی آبادی کہاں واقع ہے اور کہاں سہولیات موجودہ ٹائم۔میں دستیاب ہے تو وہاں ھیڈ کوارٹر بنانا مناسب ھو گا کسی سیاسی دباو یا شخصیات کے خوف اور ناجائز مطالبات کو اہمت نہیں دینا پڑے گا رخشان ڈویژن کے بڑی آبادی والے علاقے نوشکی ۔ دالبندین چاگئے پدگ گردی جنگل امین آباد یکچ مچ نوکنڈی تفتان سیندھک اور ماشکیل یہ سب علاقے آر سی ڈی شاہراہ کے کنارے آباد ہیں اور صوبائی دارلحکومت کوئٹہ۔جاتے ھوئے ان تمام شہروں اور قصبوں کی عوام بذریعہ آر سی ڈی شاہراہ کوئٹہ جاتی ہے اور کوئٹہ سے رخشان ڈویژن کا اہم ترین علاقہ نوشکی جو کوئٹہ سے قریب تر اور مختلف حوالے سے پورے ڈویژن کے شہروں سے ترقی یافتہ اور اس میں سہولیات بھی۔کافی ہیں مزکورہ بالا شہروں کے لوگ بشمول خاران نوشکی سے ھو کر کوئٹہ جاتے ہیں اسلیئے یہ تمام ڈویژن کے عوام۔کے مین راستے پر واقع ہے اسکے علاوہ پاک ایران پاک افغان سرحدی پٹی بھی نوشکی اور چاغی ہی سے ملتی اور نوشکی انٹر نیشنل شاہراہ لندن روڑ یعنی یورپ اور اشیاء کو خشکی سے قریب ترین راستے پر بھی ہے پاک آرمی کا ھیڈ کواٹر کا درجہ بھی نوشکی ہی۔میں ہے مغربی سرحد کو کمان کرنے والا برگیڈر جنرل کا آفس بھی۔نوشکی ہی میں قائم ہے اسکے علاوہ صوبائی قیادت سول اینڈ آرم فورسسز کی کمان مختصر سفر کرنے کے بعد نوشکی با اسانی پہنچ پاتے ہیں سرکاری دفاتر بھی دوسرے شہروں کی نسبت زیادہ ہیں گیس بجلی پانی۔کی سہولتوں کے ساتھ پختہ سڑکیں بھی دوسرے اضلاع کی۔نسبت زیادہ ہیں کیڈٹ کالج معیاری پرائیویٹ اور سرکاری اداروں کی تعداد اور کوئٹہ سے قربت کی وجہ۔سے تعلیمی معیار بھی اچھی ہے سب سے بڑھ کر رخشان ڈویژن کا بلخاظ رقبہ چھوٹا ضلع نوشکی اور امن و امان میں بہتر علاقہ ہے اور انتظامی لحاظ سے فوری کنٹرول میں آسکتی ہے ۔ اس کے علاوہ خاران ریجن کے اہم راستے سے کافی دور اور وہاں صرف واشک اور بیسمہ کے شہر نزدیک ترین ہے اور خاران کوئٹہ۔کراچی اور تفتان کوئٹہ شاہراہ سے بھی دوری پر ہے جس سے عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اگر آبادی۔کی صورت حال اور سفری سہولتوں کو پیش نظر رکھی جائے تو 76 فیصد آبادی کے لئے نوشکی بطور ھیڈ کوارٹربہترن جگہ ہے حکومت بلوچستان اب عوام کو مدنظر رکھ کر اس اہم۔مسلے کو فوری حل۔کر دیں تاکہ ڈویژن کا کمشنر اپنے کام۔کا آغاز کر کے عوام کی خدمت کریں کسی بھی۔دباو کو خاطر میں لائے بغیر مستقبل بہتری عوامی سہولت اور حکومت کے فائدے کو دیکھا جائے آواز فورم عوامی فوائد اور علاقے کی ترقی کے لئے حکومت بلوچستان کو اپنے آراء اور مشاورت کا سلسلہ جارہی رکھے گی ۔اور یہ خدمات علاقائیت سیاست وغیرہ سے پاک صرف اور صرف عوام کے فوائد کے پیش نظر ہیں ۔
تحریر شاہ نزر بادینی

Leave A Reply

Your email address will not be published.