مہازیب کو آن لائن کلاسز لیتے ہوئے کچھ بھی سمجھ نہیں آتا

0

رپورٹ: ندیم خان

اب اس کے لئے تعلیم کا حصول مذید مشکل ہوگیا حالات پہلے جیسے نہیں رہے کورونا کی وبا پھوٹتے ہی تعلیمی اداروں کو بند کر دیا گیا تاہم بلوچستان میں بھی دیگر صوبوں کی طرح بعد ازاں آن لائن کلاسز کا آغاز کیا گیا۔
مہازیب بلوچ جامعہ بلوچستان کے شعبہ ابلاغیات کی طالبہ ہیں انہوں نے گزشتہ برس بی ایس میں داخلہ لیا اور اب وہ دوسرے سیمسٹر میں پڑھ رہی ہیں۔
مہازیب بلوچ کو آن لائن کلاسز لینے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا ہڑ رہا ہے انہوں نے بتایا کہ” مجھے آن لائن کلاسز کے لئے انٹرنیٹ تک رسائی مشکل سے ملتی ہے اور اسی مشکل میں اضافہ لوڈ شیڈنگ کر دیتی ہے، اگر آن لائن کلاس لے بھی لوں تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی تو ایسے حلات میں آن لائن کو ختم کر دیا جائے”

نصیر ننگیال پشتونخواہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے رہنماء ہیں انہوں نے حال ہی بلوچستاں ہائی کورٹ میں آن لائن کلاسز کے خلاف درخواست دائر کر چکے ہیں۔

ننگیال بتاتے ہیں کہ ” صوبے کے اکثر علاقوں میں انٹر نیٹ کی سہولت موجود نہیں اس وقت صرف پانچ فیصد طلباء آن لائن کلاسز لے پا رہے ہیں اور ایسے طلباء بھی موجود ہیں جن کے پاس لیپ ٹاپ اور اینڈرائیڈ موبائل کی سہولت موجود نہیں ان تمام حالات کو سامنے رکھتے

- Advertisement -

ہوئے جامعات گئی کے انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ ایس او پیز کے تحت جامعات کھولیں تاکہ تمام طلباء تعلیم حاصل کر سکیں”

انہوں نے مذید بتایا کہ اس وقت بلوچستان ہائی کورٹ میں آن لائن کلاسز کے خلاف درخواست زیر سماعت ہے تاہم چیف جسٹس بلوچستان جسسٹس جمال مندوخیل نے تمام فریقین کو ملکر معاملہ کے حل کا کہا ہے۔

رخسانہ انسانی حقوق کی کارکن ہیں وہ سمجھتی ہیں کہ غریب صوبہ جو انٹرنیٹ اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہو وہاں آن لائن کلاسز کا آغاز کرنا باعث حیرت ہے کیونکہ آج بھی صوبے کے اکثر اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں جس سے طلباء کی تعلیم متاثر ہو رہی۔

انہوں نے مذید بتایا کہ اس معاملہ کا سنجیدگی سے حل نکالنے کی ضرورت تاکہ طلباء کو تعلیم کے حصول میں درپیش مشکلات دور ہو سکیں اور طلباء کو تعلیم حاصل کرنے میں آسانی ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.