بی این پی کے دعوں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے

0

- Advertisement -

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بی این پی کے مرکزی بیان اور مختلف مقامی اخبارات میں شائع ہونے والی خبر میں بی این پی کے دعوں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بلوچستان کے نوجوان پر اب حقیقت کھل چکی ہے اور وہ مزید انہیں ورغلا نہیں سکتے بہتر ہے کہ وہ اب سیاست سے کنارہ کشی اختیار کریں اور اپنی عاقبت بنانے کی کوشش کریں۔ واضح رہے کہ بی این پی کی جانب سے بعض مقامی اخبارات میں شائع ہونے والی خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کراچی کوئٹہ چمن شاہراہ کی منظوری سردار اختر مینگل کی کوششوں سے ہوئی ہے ، مذکورہ خبر میں بازیاب ہونے والے لاپتہ افراد کے مسئلہ کو بھی الجھانے اور اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی گئی ہے، صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے 100لاپتہ افراد کی بازیابی کا کہا تھا جس میں سردار اختر مینگل کی کوششوں کا کوئی دخل نہیں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت روز اول سے وفاق حکومت کے تعاون سے صوبے اور اس کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے نہ صرف کوشاں ہے بلکہ اس مقصد میں اسے خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی رہی ہے، میر ضیا ءاللہ لانگو نے کہا ہے کہ سردار اختر مینگل کی سیاست جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی رہی ہے لیکن اب وہ جھوٹے دعوے کر کے سیاست نہیں کر سکتے، بلوچستان کے نوجوان باشعور ہیں اور بلوچستان عوامی پارٹی مقامی اور قومی سطح پر ان کے مسائل حل کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کی کوششوں سے ہی ممکن ہوا کہ کراچی کوئٹہ چمن شاہراہ کی منظوری ہو سکی، انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ اس شاہراہ کی تعمیر کے علاوہ صوبے کے مختلف علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد ہوگا،مزید برآں وزیرداخلہ نے کہا کہا ہےکہ بی این پی مینگل کی مرکزی قیادت غلط بیانی اور حقائق کے برخلاف جھوٹ پر مبنی بیانات سے گریز کرے اور اپنے حالیہ بیان پر معذرت کریں, بلوچستان عوامی پارٹی نے جس دن سے اقتدار سنبھالا ہے تب سے لے کر آج تک پارٹی وزیراعلی جام کمال خان کی قیادت میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہے، یہاں تک کہ جن علاقوں میں بی این پی مینگل کے نمائندے کامیاب ہوئے ہیں وہاں بھی بلوچستان عوامی پارٹی کے ورکرز لوگوں کی خدمت اوران کے مسائل کے حل کیلئے مصروف عمل ہیں، بی این پی مینگل کے منتخب نمائندوں کی ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پارٹی کےنائب صدر کی جانب سے منتخب ایم پی ایز پر کرپشن کے الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ بی این پی مینگل قلات میں کروڑوں روپے کا فنڈ پارٹی کا ایک مخصوص گروہ منظور نظر افراد میں تقسیم کر رہا ہے جس کی وجہ سے ہماری نظریاتی قربانی دینے والے ورکروں اور ووٹر میں تشویش پائی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ بی این پی مینگل میں پارٹی کا ایک مخصوص جبکہ دوسری جانب مرکزی قیادت اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہے، بی این پی کی قیادت کے مطابق مرکزی حکومت ان سے ناراض ہے اور ان کی کوئی بات نہیں مانی جا رہی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ بی این پی مینگل بلوچستان حکومت کا حصہ نہ ہوتے ہوئے کراچی کوئٹہ چمن شاہراہ منظور کروائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اکیسویں صدی ہے بلوچستان کے عوام کھوکھلے نعروں اور جھوٹے وعدوں کے بجائے ٹھوس کارکردگی کو دیکھتے ہیں لہذا نوجوانوں کے جذبات کا استحصال کرنے، انہیں جھوٹے خواب دکھانے کا وقت ختم ہو گیا،

Leave A Reply

Your email address will not be published.