آئندہ پانچ سال میں بلوچستان مکمل طور پر تبدیل ہوگا

0

- Advertisement -

۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ آئندہ پانچ سال میں بلوچستان مکمل طور پر تبدیل ہوگا، ہم بلوچستان کی ترقی کی جامع منصوبہ بندی کرتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہیں، انسانی وسائل کی ترقی اورصوبے کے محاصل میں اضافہ ہمارے بنیادی اہداف ہیں، زراعت، معدنیات، توانائی، سیاحت اور ماہی گیری کے شعبے سرمایہ کاری کے لئے کھلے ہیں، حکومت کی پالیسیوں کی نتیجے میں آئندہ چندسالوں میں پاکستان اور دنیا بھر سے لوگ سرمایہ کاری کے لئے بلوچستان آئیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے طلباءوطالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی، صوبائی مشیر عبدالخالق ہزارہ، اکبر آسکانی، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی رامین محمد حسنی، کیپٹن ریٹائرڈ عبدالخالق اچکزئی بھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ کوئٹہ، مستونگ، خانوزئی، قلعہ سیف اللہ اور ژوب کے یونیورسٹی کیمپسز اور کالجوں کے طلباءاور طالبات نے تقریب میں شرکت کی جنہیں یوتھ موبلائزیشن کمپین کے تحت لیپ ٹاپ دیئے گئے ، وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں بلوچستان کے وسائل صوبے کی ترقی کے لئے حکومتی پالیسی اور اقدامات اور صوبے کے طلباءکے لئے مستقبل کے مواقعوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور تیزرفتار تبدیلیوں کا دور ہے اور آئندہ پانچ برسوں میں کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید حیران کن تبدیلیاں رونما ہوں گی جن سے ہم آہنگ ہونے کے لئے نوجوانوں کو تعلیم اور تربیت کے حصول پر بھرپور توجہ دینا ہوگی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلباءمعیاری تعلیم پر سمجھوتہ نہ کریں، ان کی تعلیم اور تربیت کا معیار جتنا بہتر ہوگا انہیں اتنے ہی زیادہ مواقع ملیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو مواقع آج کی نوجوان نسل کو حاصل ہیں ماضی میں ان کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، وزراعلیٰ نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کے بچوں کی تعلیم،ایک پڑھی لکھی ماں ہی اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرسکتی ہے، خواتین معاشی میدان میں بھی اہم کردار ادا کررہی ہیں اور جن خاندانوں میں خواتین تعلیم یافتہ ہیں ان خاندانوں میں خوشحالی ہے، انہوں نے کہا کہ طلباءسرکاری نوکری کے حصول کو کامیابی نہ سمجھیں، بلوچستان میں اتنے وسائل ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر ہمارے نوجوانوں کو نوکری کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وہ دوسروں کو نوکریاں دے سکیں گے، انہوں نے کہا کہ تعلیم اور ہنر دونوں اہمیت کے حامل ہیں، چین اور امریکہ سمیت دیگر ترقیافتہ ممالک نے تعلیم اور ہنر کے ساتھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو وہ سب کچھ دیا ہے جو دوسرے صوبوں اور بہت سے دیگر ممالک کے پاس بھی نہیں ہے، ان وسائل کو بروئے کار لانا صرف نعرہ بازی سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات اور میکنزم بنانے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ تربت اور بعض دیگر اضلاع نے منصوبہ بندی کے تحت ترقی کی تاہم ہمارے بہت سے اضلاع ایسے بھی ہیں جو قومی شاہراہوں پر واقع ہونے کے باوجود ترقی نہیں کرسکے ہیں جس کی بنیادی وجہ منصوبہ بندی کا فقدان ہے، انہوں نے طلباءپر زور دیا کہ وہ اپنے علاقوں کی ترقی اور قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کے لئے اپنے نمائندوں سے مطالبہ کریں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت تعلیمی اداروں میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے سرمایہ کاری کررہی ہے، ہمارے تعلیمی اداروں کا بنیادی ڈھانچہ اچھانہیں، قابل اساتذہ اور پروفیسرز کی کمی ہے، حکومت تعلیمی اداروں کی کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنے کے لئے مناسب اقدامات کررہی ہے، طلباءکی سہولت کے لئے آئندہ انٹر کالج بنانے کی بجائے صرف ڈگری کالج بنائے جائیں گے اور موجودہ انٹر کالجوں کو ڈگری کالجوں کا درجہ دیا جائے گا جبکہ ہر ضلع میں ہائی اسکولوں کو ہائر ایجوکیشن کالج میں تبدیل کیا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کو فروغ مل رہا ہے، سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کی ترقی ہورہی ہے جو حکومتوں کو ان کی سماجی اور معاشی ذمہ داریوں کے حوالے سے رہنمائی فراہم کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ طلباءکو لیپ ٹاپ دینے کا مقصد ان کی تعلیمی قابلیت کو بڑھانا اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سے منسلک کرنا ہے تاکہ ہماری یوتھ کسی سے پیچھے نہ رہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت بلوچستان کی یوتھ پر سرمایہ کاری کررہی ہے اور یوتھ ٹاسک کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، بلوچستان یوتھ پروجیکٹ کا آغاز کیا جارہا ہے، نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تکنیکی مہارت کی فراہمی کے لئے فنی تربیت کے اداروں کو فعال کرنے کے ساتھ ساتھ مزید ادارے قائم کئے جارہے ہیں، یہ سب کچھ اور نوجوانوں کے لئے آگے بڑھنے کے مواقعوں سے انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں صنعتی اور تجارتی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے جارہا ہے جس میں ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت کی بڑی مانگ ہوگی،انہوں نے کہا کہ سی پیک اور گوادر پورٹ فعال ہوچکی ہے جس کا اولین فائدہ بلوچستان کے عوام کو ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ چین کے باشندوں کی بڑی تعداد میں بلوچستان آمد کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، چین ایک جدید ترین ترقیافتہ ملک ہے لہٰذا چینی باشندے یہاں نہیں آئیں گے، وزیراعلیٰ نے طلباءپر زور دیا کہ وہ چینی ، جرمن اور دیگر ممالک کی زبانیں سیکھیں جس سے انہیں یورپ اور دیگر ممالک میں روزگار حاصل کرنے میں مدد ملے گی، وزیراعلیٰ نے اس موقع پر طلباءاور طالبات کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.