خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی  خدمات کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گامولانافضل الرحمن,

0

- Advertisement -

 

جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے کہاہے کہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی علمی،قومی،سیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھاجائے گا، آزادی مارچ قومی اور ملی وحدت کا ذریعہ بنا اسی لئے آج اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر ہے بلکہ سلیکٹڈ حکومت کو ریجکٹڈ حکومت بھی قراردیاجاجاچکاہے،نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا امید دلانے والے کے دور حکومت میں ایک کروڑ سے زائد لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں،باہر سے تو کوئی ملازمت کیلئے نہیں تاہم دو افراد گورنراسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر ضرور باہر سے یہاں آکر ملازمت کررہے ہیں،تمام جماعتیں عمران کے استعفیٰ،اسمبلی کے خاتمے،بغیر کسی مداخلت کے انتخابات اور آئین کے اسلامی دفعات کے تحفظ پر متفق ہیں اس سلسلے میں کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا،ملک میں مضبوط،مستحکم اور جائز نظام کا نفاذ چاہتے ہیں،چوری کانظام نہیں مانتے،ملکی معیشت تباہ حال ہے بلکہ کرنسی کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہیں اس وقت پاکستان کے مالی ذخائر کم ترین سطح پر ہے،لوگوں کو اشیائے خوردونوش کے حصول میں سخت مشکلات کاسامناہے،بازار جائیں تو ٹماٹر فی کلو 300روپے میں مل رہاہے،وزیر خزانہ سے پوچھتے ہیں کہ وہ ٹماٹر کی قیمت 17روپے بتاتے ہیں جو قوم کے ساتھ مذاق کے ساتھ کچھ نہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کے روز کوئٹہ میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے زیراہتمام خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی 46ویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، جمعیت کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولاناعبدالغفور حیدری،سینیٹر عثمان خان کاکڑ، نواب محمد ایاز خان جوگیزئی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔مولانا فضل رحمن نے خان عبدالصمد خان شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خان شہیدکی علمی،سیاسی،صحافتی اور معاشرتی خدمات کو تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا بلکہ ان کے کردار قربانیوں اور شہادت کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے آزادی مارچ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور کارکنوں کی بھر پور شرکت کو سراہا اور کہا کہ ان کی شرکت نے ہمیں حوصلہ اور ہمت دی جسے ہم کبھی نہیں بھولیں گے،انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ قومی اور ملی وحدت کا ذریعہ بنا اسی لئے آج ملک بھر کی اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر ہیں بلکہ اس کے ذریعے سلیکٹڈ حکومت کو رجیکٹڈ بھی قرار دیا جا چکا ہے جس پر جمعیت علما اسلام پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سمیت پوری قوم مبارکباد کی مستحق ہے،انہوں نے کہا کہ ہمیں آزادی کا جذبہ اپنے آبا و اجداد اور اکابرین سے میراث میں ملا ہے جس کے ہم امین ہیں بلکہ اس کی حفاظت کو ہم اولین ذمہ داری بھی گردانتے ہیں،انہوں نے کہا کہ کہنے کو تو پاکستان ایک آزاد ملک ہے اورکہنے کو تویہ عوامی حکمرانی بھی ہیں مگر حقیقت میں ہم بیرونی قوتوں کے غلام ہیں اور ہمارے انتخابات خاص قوتوں کے رحم وکرم پر ہیں ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم بیرونی قوتوں کی بالادستی کو کسی صورت تسلیم نہیں کرینگے،بیرونی قوتوں سے دوستی اور تعلقات ضرور چاہتے ہیں مگر اس کے لئے کسی کی غلامی قبول نہیں،انہوں نے کہا کہ ہم ملکی اداروں کی عزت و تکریم چاہتے ہیں مگر عوام پر ان کی بالادستی ہمیں قابل قبول نہیں،مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ کو ہم کسی صورت بھی جائز اور عوامی نمائندہ نہیں کہیں گے نا ہی عوامی مینڈیٹ ہر ڈاکہ ڈال ے والے ڈاکوں کو ہم حق حکمرانی دینے کو تیار ہیں،پاکستان عوام کا ہے ہمارے اکابرین نے کبھی بھی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ ہم ان کی جذبہ آزادی کے امین ہیں اسی لئے ہم امریکہ اور مغرب کی بالادستی اور غلامی سے بھی انکاری ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں جمہوریت ہیں تو پھر ووٹ کا حق عوام کا ہے جمہوری ملک میں کسی ادارے اور جماعت کو عوام کی رائے پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی،ہم اچھی طرح آزادی کی صدا،قیمت اور لاج جانتے ہیں بلکہ یہ بھی جانتے ہیں کہ آزادی کے لئے سر کیسے کٹوائے جاتے ہیں انڈمان اور مالٹا کے جزیرے کیسے آباد کئے جاتے ہیں ہی بھی جانتے ہیں۔ہم نے غلامی کی نہیں آزادی کے نہر کا پانی پیا ہے،انہوں نے کہا کہ ایک مرتب پرویز مشرف نے مجھے کہا کہ مولانا صاحب آپ کیا کر رہے ہوتسلیم کر لو کہ ہم امریکہ کے غلام ہیں،تو میں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک راستہ تمہارے اکابر اور اسلاف کا تھا جبکہ ایک راستہ میرے اکابر اور اسلاف کا ہے تمھیں اپنا اور مجھے اپنا راستہ مبارک ہو،میرا راستہ غلامی کے خلاف لڑنے کا ہے،قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم آئین اور احترام اور پاسداری کرتے ہیں بلکہ پارلیمنٹ میں میں خود رکن منتخب ہونے کے بعد متعدد بار ائین کی وفاداری کا حلف لے چکا ہوں،یہ حلف اس لئے نہیں اٹھایا کہ ایک بیرونی ایجنٹ،ان کا لاڈلہ ووٹ چوری کر کے ہم پر حکومت کریں ہم ایسے گماشتوں کی حکومت قبول کرنے کے لئے نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ حکمرانوں کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں ہم انگریز کے سامنے سر تسلیم خم نہیں ہوئے ان کے غلاموں کے،غلاموں کے،غلاموں کے سامنے کیسے سر نگوں ہوں گے،ہم پاکستان میں مضبوط،مستحکم،اور جائز نظام کا نفاذ چاہتے ہیں چوری کا نظام نہیں چاہتے،انہوں نے کہا کہ ہم اس بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ کا احترام چاہتے ہیں جو ہماری طرح آئین کا احترام اور پاسداری کریں ووٹوں کی گنتی بندوق کے ذریعے ہمیں قابل قبول،انہوں نے کہا کہ ہم اداروں سے جنگ کی پالیسی نہیں رکھتے بلکہ چاہتے ہیں کہ تمام ادارے اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرے،انہوں نے موجودہ حکمرانوں کو ایک بار پھر ہدف تنقید بناتے ہو ہے کہا کہ اس وقت ملک میں ناجائز،نالائق اور نااہل لوگ حکمرانی کر رہے ہیں اسی لئے تو ملک کا معیشت تباہی حال ہیں،پاکستانی کرنسی کی ویلیو سب کے سامنے ہیں یہی نہیں ملک کے مالی ذخائر کم ترین سطح پر آ چکے ہیں اشیائے خورد و نوش کا حصول عوام کے لئے چیلنج بن چکا ہے بلکہ کمال تو یہ ہے کہ بازار جائیں تو ٹماٹر کا کلو بھی 300روپے بتایاجاتاہے جبکہ وزیر خزانہ ٹماٹر کاکلو 17روپے بتاتا ہے بازار جائیں تو مٹر فی کلو 200روپے میں ملتاہے مگر ایک ٹماٹر نما وزیر اس کی قیمت 5 روپے بتاتی ہے ہم اسے قوم کے ساتھ مذاق سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ڈاکٹر،انجیئر،وکیل،استاد حتی کہ جہاز کا عملہ بھی رو رہا ہے کہ ان کا گزارا نہیں ہو رہا ایسے میں عوام کا کیا حال ہوگا،انہوں نے کہا کہ نیازی نے نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں دینے کا خوشنما نعرہ دیا نوکریاں دینا تو درکنار ایک کروڑ برسر روزگار لوگ اپنے روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں،یہ بھی دعوی کیا گیا کہ لوگ بیرونی دنیا سے پا کستان میں ملا زمتیں کر نے کے لئے آئیں گے لیکن ایسا بھی کچھ نہیں ہوا ہاں 2لو گ ضرور پا کستان میں آ کر ملا زمت کر نے لگے ہیں ان میں ایک اسٹیٹ بنک کا گورنر اور دوسرا ایف بی آ ر کا چیئر مین،مو لا نا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ مو جو دہ دور حکومت میں لو گوں کا کا روبا ر تبا ہ ہو چکا ہے بلکہ کا رخا نے بند ہو کر رہ گئے ہیں،لو گ بیرو نی دنیا کو روزگا ر کے لئے جا رہے ہیں،پیداوار اور ما رکیٹ تک رسد نہ ہو نے کے برا بر ہیں جبکہ ڈیما نڈ میں مسلسل اضا فہ ہو رہا ہے اس طرح کے طرز معیشت سے تو سوویت یو نین اپنا وجود کھوگیاتھا،بتایاجائے کہ مو جو دہ وزیر اعظم بھی گو ر با چوف بننا چا ہتے ہیں،لوگ سمجھتے تھے کہ عمران کی حکومت مضبوط ہے کیونکہ اس کے پیچھے عالمی اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کھڑی ہے بلکہ کہاجاتاتھاکہ حکمرانوں کے پشت پر فوج کھڑی ہے کسی میں یہ خوف نکالنے کا حوصلہ نا تھا ہم نے اس چیلنج کو قبول کیا اور آزادی مارچ کے ذریعے دنیا پر یہ واضح کیا کہ یہاں اقتدار کا فیصلہ امریکہ اور مغرب نہیں بلکہ ملک کی عوام کرینگے،آزادی مارچ نے قوم کو نئی امید،حوصلہ،جرأت اور زبان دی بلکہ عوام کے حقوق کی یہ جنگ جاری رہے گی،ہم اس ملک کو متحد رکھیں گے اس وقت ملک کے کسی بھی صوبے کی عوام مطمئن نہیں،آزادی مارچ کے شرکاء پنجاب،سندھ میں داخل ہوئے تو ہمارا فقید المثال استقبال کیا گیا بلکہ پشاور سے جو جلوس نکلا ہو انٹرچینج پشاور سے نکل رہا تھا جبکہ اس کا دوسرا سرااسلام آباد میں تھاعوام کی اس سمندر کو تاریخ میں لکھاجائے گا،کچھ ایجنٹ ضرور بولیں گے کہ آزادی مارچ میں چند ہزار لوگ جن کا تعلق کچھ اضلاع سے تھا شامل تھے،اس دن بھی ایک آدمی کاکہناتھاکہ آزادی مارچ میں تین اضلاع کے لوگ شامل تھے،ایسے اندھے اپنے آنکھوں کاعلاج کریں،انہوں نے کہاکہ ہم پرعزم ہے بلکہ تمام جماعتیں اس بات کا فیصلہ کرچکی ہے کہ عمران مستعفیٰ ہو،موجودہ اسمبلیوں کو ختم کرکے نئے انتخابات کاانعقاد کیاجائے جس میں فوج کی مداخلت نہ ہواس کے علاوہ آئین کے تمام اسلامی دفعات کے تحفظ پر بھی ملک بھر کی جماعتیں متفق ہیں ہم اس سلسلے میں تمام تر سازشوں کوناکام بنائیں گے بلکہ پاکستان اور عوام کا آئندہ مستقبل بھی روشن ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.