آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کانوٹیفکشن معطل

0

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کرتے ہوئے اسے ازخود نوٹس میں تبدیل کردیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل آف پاکستان کی جانب سے دستاویزات عدالت میں پیش کی گئیں۔ بینچ میں جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس سید منصور علی شاہ بھی شامل ہیں۔

درخواست گزار نے آرمی چیف کی مدت میں توسیع کے خلاف درخواست واپس لینے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے کیس واپس لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس واپس لینے کیلئے ہاتھ سے لکھی درخواست کیساتھ کوئی بیان حلفی نہیں، معلوم نہیں مقدمہ آزادانہ طور پر واپس لیا جا رہا ہے یا نہیں۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 29 نومبر کو آرمی چیف ریٹائرڈ ہو رہے ہیں، ان کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن صدر مملکت کی منظوری کے بعد جاری ہوچکا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صدر کی منظوری اور نوٹیفکیشن دکھائیں۔ اٹارنی جنرل نے دستاویزات اور وزیراعظم کی صدر کوسفارش عدالت میں پیش کی۔

عدالتِ عظمیٰ نے دورانِ سماعت اپنے ریمارکس میں کہا کہ وزیرِ اعظم کو آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا اختیار ہی نہیں ہے صرف صدر مملکت ہی یہ توسیع دے سکتے ہیں۔ یہ کیا ہوا پہلے وزیراعظم نے توسیع کا لیٹرجاری کردیا، پھروزیراعظم کو بتایا گیا توسیع آپ نہیں کر سکتے، آرمی چیف کی توسیع کا نوٹی فکیشن 19 اگست کا ہے، 19 اگست کو نوٹی فکیشن ہوا تو وزیر اعظم نے کیا 21 اگست کو منظوری دی۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ کی منظوری چاہیے تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا صدر مملکت نے کابینہ کی منظوری سے پہلے ہی توسیع کی منظوری دی اور کیا کابینہ کی منظوری کے بعد صدر نے دوبارہ منظوری دی؟۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین میں آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کا اختیار کہاں ہے؟۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرمی چیف کی توسیع کا اختیاروفاقی کابینہ کا ہے۔

- Advertisement -

چیف جسٹس نے کہا کہ سمری میں توسیع لکھا گیا جب کہ نوٹیفکیشن میں آرمی چیف کا دوبارہ تقرر کردیا گیا۔ قواعد میں آرمی چیف کی توسیع یا دوبارہ تقرری کا اختیار نہیں، حکومت صرف ریٹائرمنٹ کو معطل کر سکتی ہے، آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ ابھی ہوئی نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ علاقائی سیکورٹی کی بنیاد پر آرمی چیف کی دوبارہ تقرری کی گئی۔ سیکیورٹی کا ایشو تو ہر وقت رہتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیکیورٹی کو تو صرف آرمی چیف نے نہیں بلکہ ساری فوج نے دیکھنا ہوتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے نکتہ اٹھایا کہ تقرری کرنے والی اتھارٹی توسیع کا اختیار بھی رکھتی ہے، ریٹائرمنٹ کی معطلی تو کچھ دیر کیلئے ہوگی۔

ایک موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ دستاویزات کے مطابق کابینہ کی اکثریت نے توسیع پر کوئی رائے نہیں دی، جب کہ 25 رکنی کابینہ میں سے صرف 11 نے توسیع کے حق میں رائے دی، یہاں تک کہ 14 ارکان رائے دینے کیلئے دستیاب ہی نہیں تھے۔ کیا حکومت نے ارکان کی خاموشی کو ہاں سمجھ لیا؟ جمہوریت میں فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنہوں نے رائے نہیں دی انہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا کابینہ ارکان کو سوچنے کا موقع بھی نہیں دینا چاہتے، کابینہ کے 14 ارکان نے ابھی تک آرمی چیف کی توسیع پرہاں نہیں کی۔ اس موقع پر سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی توسیع کا نوٹی فکیشن معطل کرتے ہوئے اس کیس کوعوامی اہمیت کا معاملہ قرار دے دیا اور درخواست کو ازخود نوٹس میں تبدیل کردیا۔

سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزارتِ دفاع اور اٹارنی جنرل کو اس حوالے سے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت بدھ 27 نومبر تک ملتوی کردی۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ میں وزیراعظم عمران خان کے اس اقدام کو جیورسٹ فیڈریشن نے چیلنج کیا۔ ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ کے توسط سے یہ درخواست سپریم کورٹ پاکستان میں درخواست دائر کی گئی۔

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹی فکیشن رواں سال اگست میں 3  سال کے لیے جاری کیا گیا تھا۔

Source samaa

Leave A Reply

Your email address will not be published.