اسلم بھوتانی کا گوادر بندرگاہ ارتھارٹی اور این ایل سی کے درمیان معاہدے پر تحفظات کا اظہار

0

- Advertisement -

 

لسبیلہ گوادر سے منتخب رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی نے گوادر بندر گاہ پر چینی کمپنی اور NLCنیشنل لاجسٹک سیل کے درمیان گوادر بندر گاہ سے مال بردار ی معاہدے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے سے بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہورہی ہے جس پر وہ ہر فورم اورپارلیمنٹ میں احتجاج کریں گے ایم این اے اسلم بھوتانی نے کہاکہ جب گوادر بندر گاہ تعمیر ہوئی تو اس وقت انتظامیہ اور حکومت پاکستان نے یہ وعدہ کیا تھا کہ بندر گاہ سے جو بھی مال برداری اندرون ملک ہو گی اس کا ٪35فیصدبلوچستان کے ٹرانسپورٹر کو دیا جائیگا جبکہ باقی دیگر علاقوں کے ٹرانسپورٹرزکو حصہ ملے گا اس معاہدے سے جو 2010ءکے دوران مقامی انتظامیہ نے پورٹ اتھارٹی سے طے کیا تھا اس میں بلوچستان کے ٹرانسپورٹروں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا اسلم بھوتانی نے کہاکہ اب جبکہ گوادر بندر گاہ آپریشنل ہو نے جارہا ہے تو اس وقت مقامی ٹرانسپورٹرزکا حق چھین کر NLCکو آفیشل مال برداری کے حقوق دینا ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس سے بلوچستان میں بے روزگاری اور احساس محرومی میں اضافہ ہو گا انھوں نے کہاکہ وہ ہر سطح پر مقامی ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور حق تلفی کے خلاف آواز اٹھائیں گے رکن قومی اسمبلی نے کہاکہ اس پورے معاملے پر صوبائی حکومت کی خاموشی حیران کن ہے اور جب NLCاور چائنیز کمپنی نے گوادر سے مال برداری کا معاہدہ کیا اس موقع پر بلوچستان حکومت کا کوئی نمائندہ موجود نہ ہونا بھی حیران کن ہے اسلم بھوتانی نے کہا ہے کہNLCسے معاہدہ ختم کر کے مقامی بلوچستان کے ٹرانسپوٹرز کا35فیصد حصہ بحال کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.