تیزگام ایکسپریس میں آتشزدگی‘ 74 مسافرجاں بحق 40 سے زائد زخمی

1

- Advertisement -

کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی سے 74 مسافرجاں بحق 40 سے زائد زخمی ہو گئے ، المناک حادثہ رحیم یار خان میں ٹانوری ریلوے سٹیشن چک نمبر 6 چنی گوٹھ کے قریب چلتی ہوئی ٹرین میں پیش آیا،جاں بحق افراد میں زیادہ تر کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے ،جو اجتماع میں شرکت کیلئے رائیونڈ جارہے تھے ،58 لاشیں ناقابل شناخت ہو گئیں جن کی پہچان ڈی این اے سے کی جائے گی ، متعدد مسافروں نے جان بچانے کیلئے ٹرین کی کھڑکیوں سے چھلانگ لگادی، زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا جن میں متعدد کی حالت نازک ہونے پر ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ، امدادی آپریشن مکمل کرلیا گیا، متاثرہ بوگیوں کو ٹریک سے ہٹا کر ٹرینوں کی آمدورفت بحال کر دی گئی،وزیر اعظم نے سانحہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ تیز گام ایکسپریس جمعرات کی صبح 6بج کر 32منٹ پر لیاقت پور اور چنی گوٹھ ریلوے سٹیشن کے درمیان پہنچی تو مبینہ طور پر تبلیغی جماعت کے افراد گیس سلنڈر پر ناشتہ بنا رہے تھے کہ سلنڈر اچانک پھٹ گیا،دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے تین بوگیو ں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جن میں رائیونڈ تبلیغی اجتماع پر جانے والے افراد سفر کر رہے تھے ، آگ پھیلتے ہی بوگیوں میں سوار افراد نے تیز رفتار ٹرین سے چھلانگیں لگانی شروع کر دیں، جس سے متعدد مسافروں کی ٹانگیں اور بازو ٹوٹ گئے ،سانحہ کی اطلاع ملتے ہیں ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او رحیم یار خان موقع پر پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے رہے ، ضلع بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ، ریسکیو 1122، پولیس، فائر بریگیڈ سمیت دیگر امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی آپریشن شروع کر دیا ، فائر بریگیڈ کی 12 گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف رہیں ،جاں بحق افراد کی لاشیں تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال لیاقت پور منتقل کی گئیں ، زخمیوں کو لیاقت پور،بہاولپور، ملتان اور رحیم یار خان کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے ، ریسکیو حکام کے مطابق تلاشی کے دوران ایک بوگی سے 2 گیس سلنڈر ملے ہیں،آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے سانحہ کے مقام پر پہنچ کر سول انتظامیہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا جب کہ آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر بھی جائے وقوعہ پر پہنچا، جس کے ذریعے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا،پاک فوج کے ڈاکٹرز اورپیرا میڈیکس بھی امدادی کارروائیوں مصروف رہے ، آرمی کے ہیلی کاپٹر پر 9 زخمی نشترہسپتال کے برن یونٹ لائے گئے جن میں سے 3کو شعبہ حادثات منتقل کردیاگیا، ان کے سر پر چوٹیں آئی ہیں اوران کی ہڈیاں بھی ٹوٹی ہوئی ہیں ،برن سنٹر کی سربراہ ڈاکٹرناہید چودھری نے بتایاکہ جومریض نشترہسپتال منتقل کئے گئے وہ ٹرین سے چھلانگ لگانے کے دوران زخمی ہوئے ،دھوئیں اورآتشزدگی سے متاثرہ افرادکی دیکھ بھال جاری ہے ، یہ لوگ 15 فیصد زخمی ہیں تاہم دھوئیں سے ان کے پھیپھڑے بری طرح متاثرہوئے ہیں،ریلوے حکام کے مطابق ان تین بوگیوں میں 209 مسافر سوار تھے ،بوگی نمبر11 میں 54 ،بوگی نمبر 12 میں77اور بوگی نمبر 13 میں 78 افراد کی بکنگ کرائی گئی تھی ، حادثے کے بعد بوگیوں سے کئی افراد کی جلی ہوئی لاشیں نکالی گئی ہیں، جن میں سے کئی لاشوں کے ٹکڑے ملے ہیں، نشترہسپتال ملتان کے برن یونٹ میں سانحہ کے زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلویز شیخ رشید نے بتایا 74افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے 90فیصد کاتعلق تبلیغی جماعت سے ہے ، ان کے ٹکٹ میرپورخاص سے بک کرائے گئے لیکن جنہوں نے ٹکٹ بک کرائے وہ خود ٹرین میں سوارنہیں ہوسکے ، سانحہ کے وقت ٹرین 100کلومیٹرکی رفتار سے چل رہی تھی ،گاڑی میں سلنڈرنہیں ہونے چاہئیں ، غلطی تسلیم کرتاہوں لیکن ٹرین کے گارڈنے انہیں چولہاجلانے سے روکا تھا لیکن جب گارڈچلاگیا توانہوں نے دوبارہ ناشتہ بنانے کے لئے چولہاجلالیا،تبلیغی جماعت کے لوگ چولہے ساتھ لے کرجاتے ہیں ،یہ ایک روایت ہے اورانہیں کبھی نہیں روکاجاتا تاہم آئندہ احتیاط کی جائے گی،تبلیغی جماعت کے اجتماع کے موقع پرریلوے کی جانب سے خصوصی ٹرینیں بھی چلائی گئی ہیں اورتمام ٹرینوں کا رائے ونڈمیں سٹاپ بھی مقررکیاگیاہے ،وزیراعظم نے 15 روزمیں تحقیقاتی رپورٹ طلب کی ہے ، جس کے بعد ذمہ دار افرادکوسزادی جائے گی ،میرے دورمیں ٹرینوں کے حادثے بہت کم ہوئے ،اس بارے میں ریکارڈبھی پیش کیاجاسکتاہے ،میں ریلوے کی آمدن13 کروڑ سے 18 کروڑ روپے تک لے گیا ،اس وقت 2لاکھ مسافر ٹرینوں میں سفرکررہے ہیں،ہم نے فریٹ ٹرینوں میں بھی اضافہ کیاہے ۔ بعد ازاں ایک ویڈیو بیان میں وزیر ریلویز نے سانحہ تیزگام میں جاں بحق مسافروں کے لواحقین کیلئے فی کس 15 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لئے 5 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ، انہوں نے کہا امید ہے وزیر اعظم بھی الگ سے پیکیج کا اعلان کریں گے ،دو کوچز کی بکنگ کرانے والے تبلیغی جماعت کے امیر حسین محفوظ ہیں، جنہوں نے حیدرآباد، محراب پور اور نواب شاہ سے سواروں کو بٹھایا تھا، امیر حسین کے پاس جاں بحق افراد کے نام موجود ہیں، جس کے ذریعے اہل خانہ سے رابطے کر رہے ہیں،تبلیغی جماعت کے تقریباً 2 لاکھ لوگ اجتماع کے وقت ریلوے میں سفر کرتے ہیں، ہماری کوتاہی ہے کہ یہ لوگ سلنڈر ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوئے ،بوگی میں دو سلنڈر اور ایک چولہا پھٹنے سے مسافر جاں بحق ہوئے ،49 لاشیں بوگیوں کی آگ بجھانے اور کولنگ کے بعد نکالی گئی تاہم پاک فوج اور دیگر ادارے امدادی کارروائیوں کے لئے بروقت پہنچے ، سانحہ میں ریلوے نہیں مسافروں کی غلطی ہے ، مسافروں نے ناشتہ بنانے کے لئے سلنڈر جلایا ،جس کے بعد چلتی ٹرین میں آگ لگ گئی،مسافر ٹرین میں سلنڈر کیسے لے کر پہنچے اس کی تحقیقات کی جائے گی، مسافر چولہے اپنے تھیلے میں رکھ دیتے ہیں اور قانون سے نہیں ڈرتے ، کراچی سے مسافر سلنڈر لے کر چڑھے تو نوٹس لیں گے ، چھوٹے سٹیشنوں پر سکینر کا نظام موجود نہیں لہٰذا تحقیقات کریں گے کہ مسافر سلنڈر لیکر کون سی سٹیشن سے چڑھے ، ٹرین میں آگ بجھانے کا آلہ لگا ہوتا ہے لیکن آگ کی شدت بہت زیادہ تھی اور آگ بجھانے کا آلہ چھوٹا تھا جب کہ کسی مسافرنے اس آلہ کا استعمال بھی نہیں کیا،فوجی ایئر ایمبولینس فراہم کرنے پر آرمی چیف کے شکر گزار ہیں ۔ وزیر ریلویز رحیم یار خان بھی پہنچے اور زخمیوں کی عیادت کی ،چیئرمین ریلویز سکندر سلطان راجا نے بتایا انسپکٹرریلوے دوست علی لغاری کی سربراہی میں تحقیقات کا حکم دے دیا اور وہ اس بات کا تعین کریں گے کہ سلنڈر کس طرح ٹرین میں لے جانے کی اجازت دی گئی ؟جاں بحق ہونے والوں میں سے 18 افراد کا تعلق میرپور خاص سے ہے جبکہ ٹنڈوجام اور ٹنڈو الہ یار کے شہری بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں،میرپورخاص مدینہ مسجدسٹیلائٹ ٹا¶ن کے امام قاری مقبول بھی حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں،چیف ایگزیکٹو افسر ریلویز اعجاز احمد نے بتایا ریلوے ٹریک متاثر نہیں ہوا،ترجمان ریلوے کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے تیزگام ٹرین کے زخمی اور جاں بحق مسافروں سے متعلق معلومات کے لئے ہیلپ لائن قائم کردی گئی ، ملتان ڈویژن 0619200382 ،ڈی سی او ملتان4403720-0311 حیدرآباد انکوائری 03003026200 ،لاہور کنٹرول آفس 04299201795 ،سکھر کنٹرول آفس0719310087 ، کراچی02199213528 ،ڈویژنل کمرشل افسر کراچی03468328023 پر معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان، صدرمملکت عارف علوی سمیت حکومتی و دیگر سیاسی شخصیات نے المناک سانحہ میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ، ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم نے سوگوار خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی اور سانحہ کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ،چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی ،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا، قائد ایوان سینیٹ سید شبلی فراز اور قائد حزب اختلاف راجا ظفرالحق ، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف،جمعیت علما اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن،مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین، سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی اور رکن قومی اسمبلی مونس الٰہی ، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہارکیا، اپوزیشن رہنما¶ں نے کہا ناقص منصوبہ بندی حادثات کا باعث بن رہی ہے ،پے در پے حادثات انتہائی تشویشناک ہیں ، جن کی مکمل تحقیقات کرکے فوری طورپر قوم کو آگاہ کیا جائے ،امیرالبحر ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے بھی ٹرین آتشزدگی سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اورزخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.