
- Advertisement -
ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ شفا انٹر نیشنل ہسپتال ڈاکٹر میمونہ صدیقی نے کہاکہ فالج دماغ پر ہونے والا حملہ ہے جس کا تعلق دماغ میں خون کی فراہمی منقطع ہونے سے ہے، جسکی وجہ دماغ میں خون بہنا یا جم جاناہے۔پاکستان میں ایک لاکھ افراد میں سالانہ شرح اموات 1990سے 40.9فیصد تک بڑھ چکی ہے جو کہ اوسطاً 1.8فیصد سالانہ ہے۔تین لاکھ پچاس ہزارپاکستانی ہر سال فالج کا شکار ہوتے ہیں،جن میں شرح اموات 11تا 30فیصد، 118,545افراد میں ہے جن میں خواتین کی تعداد61,289 جبکہ مردوں کی تعداد 57,256ہے ہائی بلڈ پریشر ، غذا، تمباکو نوشی اور ورزش کی کمی سمیت دیگر نقصان دہ عوامل پر توجہ دینے سے 80فیصد فالج کے کیسز کا تدارک کیا جاسکتا ہے ۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ روک تھام کے طریقہ کار پر عمل کرنے سے دل کی بیماری ، کینسر اور ذیا بیطس میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوسکتی ہے۔ ان خےالات کا اظہار انہوں نے شفا انٹرنےشنل ہسپتال اسلام آباد مےں فالج کا عالمی دن کے حوالے سے پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کےا تقریب مےں شفا انٹرنےشنل ہسپتال کے ڈاکٹر پےرا مےڈیکل اسٹاف سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ شفا انٹر نیشنل ہسپتال ڈاکٹر میمونہ صدیقی نے کہا کہ فالج کے خطرے اور تدارک کیلئے اس سال کا موضوع انفرادی آگاہی پر مبنی ہے جس کا عنوان “Don’t be the one”ہے، اس موضوع کو اس لیئے منتخب کیا گیا ہے کہ انفرادی آگاہی کے ساتھ ساتھ بآسانی اس پیغام کو ہر کلچر سے تعلق رکھنے والے افراد تک پہنچایا جا سکے۔ڈاکٹر میمونہ نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر افراد، خاندان اور معاشرے پر فالج کے اثرات تباہ کن ہیں۔ فالج کا شکار ہونے والے افراد کونقل و حرکت، بول چال اور فہم و ادراک میں دقت کے ساتھ ساتھ نفسیاتی، معاشرتی اور مالی پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ فالج کے عالمی دن کی مناسبت سے ہونے والی پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کنسلٹنٹ اسٹروک ا سپیشلسٹ ڈاکٹر راجہ فرحت شعیب نے کہا کہ فالج اب تک ایک و بائی شکل اختیار کر چکا ہے۔ دنیا بھر میں ہر چھ میں سے ایک شخص کو اپنی زندگی میںفالج ہونے کا امکان ہے۔ ہر سال دنیا بھر میںایک کروڑ پچاس لاکھ افراد فالج کا شکارہوتے ہیںاور 58لاکھ افراد اپنی جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔پاکستان میں ایک لاکھ افراد میں سالانہ شرح اموات 1990سے 40.9فیصد تک بڑھ چکی ہے جو کہ اوسطاً 1.8فیصد سالانہ ہے۔تین لاکھ پچاس ہزارپاکستانی ہر سال فالج کا شکار ہوتے ہیں،جن میں شرح اموات 11تا 30فیصد، 118,545افراد میں ہے جن میں خواتین کی تعداد61,289 جبکہ مردوں کی تعداد 57,256ہے۔انہوں نے موضوع پرمزیدروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ مرد، خواتین ،نوجوان اور حتیٰ کہ بچوں کو بھی اس بیماری کا خطرہ ہے، “Don’t be the one” کے موضوع کا مقصد لوگوں کو فالج کے حملے کے امکان کوممکنہ طور پر کم سے کم کرنے، بہتر ممکنہ علاج تک رسائی،دیکھ بھال اور صحت یاب ہونے کے حوالے سے بہترین طریقوں سے آگاہ کرنا ہے۔ڈاکٹر فرحت نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیںعلم ہونا چاہیئے کہ ہمیں ذاتی طور پرکن بیماریوں کے ہونے کا خطرہ ہے، ہمیں چاہیئے کہ ہم ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کریں،ہفتے میں 5مرتبہ متناسب ورزش کریں، صحت مندانہ اور متوازن غذا کھائیں، اپنا کولیسٹرول کم کریں، صحت مندانہBMI یا کمر سے کولہے تک کا تناسب برقرار رکھیں، سگریٹ نوشی ترک کر دیںاور سگریٹ کے دھویں سے بھی بچیں،اختلاج ِ قلب کی شناخت اور علاج کریں، ذیابیطس کے خطرے کو کم کریں، اپنے معالج سے مشورہ کریں اور فالج کے حوالے سے مکمل معلومات حاصل کریں۔