
- Advertisement -
دالبندین میں شہریوں کے لیے پاسپورٹ درخواست فارمز کی پولیس تصدیق درد سر بن گیا، عام لوگ تو اپنی جگہ سرکاری ملازمین تک تنگ آچکے ہیں،ایک شہری دل مراد صرف ایکٹنگ ڈی پی او چاغی کی دستخط کے لیے ایک مہینے تک در بدر رہا کئی بار صوبائی وزیر کے پاس بھی اپنی فریاد لے کر گیا لیکن اس کا کام نہیں ہوا جس کی وجہ سے اس کے دبئی کے لیے بک کرائی گئی پینتالیس ہزار روپے کی ٹکٹ ضائع ہوگئی۔موصوف دالبندین کے مقامی شہری ہیںجو دبئی میں محنت مزدوری کرتے ہیں پچھلے پاسپورٹ کی معیاد ختم ہوگئی تھی اس لیے نیا پاسپورٹ بنوانا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ لاتعداد ایسی مثالیں ہیں جن کے پس منظر میں کئی ایسی کہانیاں ہیں جو لوگوں کی پولیس بالخصوص موجودہ ایکٹنگ ڈی پی او چاغی کے متعلق شکایات میں اضافہ کررہے ہیں۔پولیس کے طویل تصدیقی عمل سے تنگ متعدد شہریوں نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں کیونکہ ایک دستخط کے لیے انھیں مہینوں ذلیل کرکے رشوت دینے پر مجبور کیا جاتا ہے اگر یہی حالت رہی تو پھر لوگ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔