- Advertisement -
ایران بارڈر سے آنے والے تیل پر پابندی لگانا کوئی بڑی غزہ نہیں یہ سب جانتے ہوے کہ بلوچستان میں کوئی فیکٹری بھی نہیں جس پہ بلوچستان کی لاچار اور غریب عوام کی چولھا جل سکھے سرکاری ملازمت تو آتے ہی اڑپ لیا جاتا ہے ایک چپڑاسی کی ملازمت کیلیئے پانچ لاکھ رشوت دینا پڑتا ہے جو غریب بے بس یہ رکم پورہ کرکے کوئی سرکاری نوکری کر لے ایسا ممکن ہی نہیں
بلوچستان میں ہزاروں لوگوں کی گھر اسی ایران سے آنے والے تیل سے آباد ہے اس کے علاوہ کوئی اور کام نہیں جس پر غریب عوام اپنے بچوں کی پیٹ پال سکھے میرا سوال ہے اُن لوگوں سے جو ایران سے آنے والے تیل پر پابندیاں لگانے کی بات کرتے ہیں
پہلے اس بےبس عوام کیلیئے ملازمت کی بندبست کرلے بعد میں ایران سے تیل پر پابندی آئید کرے آپ خود سوچیں جب ایران سے تیل آنا بند ہوگا تو اس میں کام کرنے والے لاکھوں مزدور لوگ اچانک بے روزگار ہونگیں تو وہ کہا جاے اپنے اور اپنے گھر والوں کی بھوک کہاں سے مٹاٸے
ہم تو پہلے سے پانی کے لیئے ترس رہے ہیں اوپر سے روٹی بھی بند ہو تو ہم پر قیامت آنے سے پہلے قیامت آجاےگی