
- Advertisement -
بلوچستان میں متعین ایرانی قونصل جنرل آغا رفیعی نے کہا ہے کہ ایران پاکستان کے ساتھ بے نظیر تجارتی تعلقات کا خواہاں ہے پاکستان کے ساتھ متعین کردہ تجارتی اہداف کا حصول دونوں ممالک کی حکومتوں ،چیمبر آف کامرس بزنس کمیونٹی کے باہمی تعاون کا متقاضی ہے ، اسمگلنگ دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ، پاکستان اور ایران کے درمیان قا نو نی تجا رت کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے ،دونوں ممالک کے درمیان با رڈر کمیٹی تشکیل دینے کے فیصلے پر عمل درآمد کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے دورے کے موقع پر چیمبر آف کامرس کے عہدیداران اور ممبران کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔ اس سے قبل ایرانی قونصل جنرل آغا رفیعی اور ان کے وفد میں شامل ممبران کا ایوان صنعت و تجارت کے سینئر نائب صدر بدرالدین کاکڑ ، سابق صدر جمعہ خان بادیزئی ودیگر نے استقبال کیا اور انہیں چیمبر آنے پر خوش آ مدید کہا ۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر چیمبر آف کامرس بدرالدین کاکڑ کا کہنا تھا کہ ایران جیسے برادر اسلامی ملک کے ساتھ امپورٹ ایکسپورٹ کو مزید مستحکم اور فعال کرنا ہمارے ترجیحات میں شامل ہیں تاکہ دونوں ملکوں کے متعین کردہ تجارتی اہداف کو حاصل کیا جا سکے بلکہ یہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے مفاد میں بھی ہے ،ہم ایرانی سفارت خانے اور قونصل گری کی جانب سے بھر پور تعاون پر شکر گزار ہیں کیونکہ ان کے تعاون کے نتیجے میں ویزے اور تجارتی اور دیگر مسائل کا حل ممکن ہوا ہے انہوں نے کہا کہ چیمبر آف کامرس ہمسائیہ ممالک کے ساتھ قانونی تجارت کا فروغ چاہتی ہے اس سلسلے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس سے بھی نہ صرف پہلے ملاقاتیں کیں جا چکی ہیں بلکہ اس وقت بھی چیمبر کے عہدیداران اسلام آباد میں موجود ہیں ہماری کوشش ہے کہ ایرانی تجارت و صنعت سے وابستہ افراد کے ساتھ جوائنٹ وینچر کیا جائے تاکہ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لئے ہم تجارتی روابط کو مستحکم کر رہے ہیں کیونکہ سب کچھ بدلا جا سکتا ہے لیکن ہمسائیے نہیں بدلے جا سکتے،دونوں ملکوں کے درمیان بنکنگ و دیگر سسٹمز کے سلسلے میں بھی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران ہر ممکن تعاون کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ بارٹر ٹریڈ کو بڑھانے کے لئے کوشاں ہیں اس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا چاول،فریش فروٹس ودیگر کی پاکستان سے ایکسپورٹ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا جانا چاہئے ایران تجارت سے وابستہ افراد کے لئے ایران میں الگ کاﺅنٹر ہونا چاہئے ہماری کوشش ہے کہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے کر دوطرفہ کاروبار کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے۔ہماری روز اول سے کوشش ہے کہ قانونی تجارت کو فروغ دیا جائے غیر قانونی تجارت کے حق میں نہیں۔کوئٹہ میں متعین ایرانی قونصل جنرل آغا رفیعی نے چیمبر آف کامرس کے نومنتخب صدر حاجی غلام فاروق ، سینئر نائب صدر بدرالدین کاکڑ ، نائب صدر داﺅد خان خلجی و دیگر کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ موجودہ کابینہ نے مختصر عرصے میں صنعت و تجارت کے فروغ کے لئے جو کوششیں کی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں بلکہ ہمیں بھی میڈیا کے ذریعے اس کی تمام تر معلومات ملی ہےں جس کے آنے والے دنوں میں ان شعبوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد پاک ایران سیاسی رابطوں میں تیزی آئی ہے اور دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام ایک دوسرے کے ممالک کے دورے کرچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے شعبہ کامرس کے وفد کے دورہ پاکستان کے موقع پر بارڈر کمیٹی تشکیل دینے پر پاکستانی حکام کے ساتھ اتفاق ہوا تھا بلکہ اس سلسلے میں حاجی غلام فاروق کو بارڈر کمیٹی کے لئے نامزد کیا گیا تھا تاہم مذکورہ کمیٹی کا اب تک نوٹیفکیشن و دیگر نہیں ہوسکے ہیں ۔ کمیٹی بننے پر نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان ٹریڈ کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ اس سے امپورٹ ایکسپورٹ میں اضافہ ہوگا جس سے تاجر مستفید ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں دفتری پیچیدگیوں اور بعض دیگر وجوہات کی وجہ سے امپورٹ ایکسپورٹ میں تیز رفتار ترقی نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے متعین کردہ تجارتی اہداف کا حصول بھی مشکل تر ہوتا جارہاہے ۔ ایران کے ہمسایہ ممالک میں سب سے کم تجارتی حجم پاکستان کے ساتھ ہے جس پر ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے ، نہ صرف شاہراہوں کی حالت زار بہتر بنانا ہوگی بلکہ تجارت سے وابستہ افراد کے لئے آسانیاں پیدا کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان جب تک بینک نظام فعال نہیں ہوتا اس وقت تک آزادنہ تجارت ممکن نہ ہوگا بدقسمتی سے پاکستان اور ایران کے درمیان قانونی تجارت کے حجم سے غیر قانونی تجارت کا حجم زیادہ ہے جس کا فائدہ دونوں ممالک کو ہونے کی بجائے اسمگلرز کو ہوتا ہے ۔ ایران پاکستان کو یہاں اسمگل کئے جانے والے پٹرولیم مصنوعات سے بھی کم پر تیل دینے کو تیار ہے ، ہمیں کمشنر مکران ڈویژن کے تیل اسمگل کرنے والی گاڑی کے حادثے میں جاں بحق ہونے پر افسوس ہے بلکہ ہم چیمبر کے عہدیداران کی توسط سے ان کی اہل خانہ سے بھی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ا نہوں نے کہا کہ ایران ترکی کے ساتھ تجارتی حجم کو 50ارب ڈالر تک لے جانے کے لئے اقدامات اٹھا رہا ہے جب تک دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان امپورٹ اور ایکسپورٹ مزید نہیں بڑھے گی تک ہم بڑی تبدیلی نہیں دیکھ سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ سیاسی ، ثقافتی اور مضبوط اسلامی رشتوں کی طرح بے نظیر کاروباری تعلقات کے بھی خواہاں ہیں بہت جلد ایران کے شہر زاہدان میں مشترکہ سرحدی تجارتی جبکہ پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میںدونوں ممالک کے اقتصادی کمیشن کے اجلاس ہونے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایران ان اشیاءکو پاکستان سے ایکسپورٹ کرنے پر پابندی عائد کرچکا ہے جن پر ایرانی عوام کو سبسڈی دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو آئٹمز امریکی پابندیوں میں شامل نہیں ان کی تجارت ہونی چاہےے بلکہ بلوچستان کے تاجر دوسرے ملکوں سے امپورٹ کئے گئے وہ آئٹمز جن پر پابندی نہیں ایران ایکسپورٹ کرسکتے ہیں ہم تجارت سے وابستہ افراد کے لئے بارڈر پر الگ ہال اور کاﺅنٹر بھی بنا رہے ہیں ۔ آنے والے جوائنٹ بارڈر کمیٹی کے اجلاس میں بااختیار افراد کی شرکت ہی دونوں ممالک کے لئے ثمرآور ثابت ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ تجارت کے مختلف مسائل کے حوالے سے ریزالو کمیٹی ایران میں تشکیل دیدی گئی ہے اس سلسلے میں بارڈر ٹریڈ کمیٹی کے اجلاس میں بھی غور ہوگا میں خود کو پاکستانی تجارت سے وابستہ افراد کا سفیر سمجھتا ہوں اور ہر فورم پر ان کے لئے صدائے حق بھی بلند کرتا رہا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل خوش آئند ہوگا بلکہ ہمیں امید ہے کہ اس کے دوطرفہ تجارت پر مثبت اثرات بھی مرتب ہوں گے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیمبر کے نئے عہدیداران اور ممبران مزید بھی صنعت و تجارت کی ترقی کے لئے اپنی توانائیاں بروئے کار لائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اشیائے خوردنوش کی ایران سے امپورٹ پر کوئی پابندی نہیں ۔ ایرانی قونصلیٹ میں نئے تعینات ہونے والے آفیسران کو چیمبر آف کامرس کے ساتھ قریبی روابط رکھنے کی ہدایت کرتا ہوں ۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام مختلف معاہدے کرتے ہیں لےکن نچلی سطح پر ان پر عمل درآمد نہیں ہوپاتا جو صحیح نہیں ۔