
- Advertisement -
لسبیلہ میں ملیریا کی وباءنے تباہی مچادی،گزشتہ دس دنوں کے دوران بچوں او خواتین سمیت 9افراد جاں بحق،لسبیلہ میں اب تک دوہزار سے زائد مریضوں میں ملیریا کی تشخیص ہوچکی ہے لسبیلہ میں اس وقت ملیریا کی صورتحال الارمنگ ہے ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر احمد مینگل کی صحافیوں سے گفتگو،تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں گزشتہ دس دنوں کے دوران ملیریا نے تباہی مچارکھی ہے لسبیلہ کی تحصیل کنراج میں صاحب خان گوٹھ،عمرگوٹھ،حاجی لیماں،گوٹھ زمان،ساند،مٹھڑی ،روچ کنڈمیں اب تک سینکڑوں مریض ملیریا کا شکار ہوچکے ہیںان علاقوں میں سے مٹھڑی میں ایک بچی جاں بحق ہوچکی ہے جبکہ اوتھل کے نواحی علاقے چماسرہ میں بھی ایک بچی ملیریا کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے، جبکہ کوسٹل بیلٹ لیاری،دبہ لیاری ،پھورون او پھورٹو میں بھی سینکڑوں مریضوں میں ملیریا کی تشخیص ہوچکی ہے اس حوالے سے یونین کونسل لیاری کے سابق ناظم سردار غلام سرور پھورائی سے جب اوتھل کے صحافیوںنے فون پر رابطہ کرکے علاقے میں ملیریا کی صورتحال معلوم کی تو انہوں نے بتایا کہ پھور ون میں اس وقت ملیریا نے وباءکی شکل اختیا رکرلی ہے گزشتہ دس دنوں کے دوران سات افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں دو خواتین ایک مرد او چار بچے شامل ہیں او ر آج بھی کچھ مریض تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اوتھل اور پرائیویٹ کلینکس میں منتقل کیے گئے ہیں اگر جلد صورتحال کو کنٹرول نہ کیاگیاتو مزید ہلاکتوں کا احتمال ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر احمد مینگل کے مطابق لسبیلہ میں اس وقت ملیریا کی صورتحال خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے انہوں نے کہاکہ لسبیلہ میں پچھلے سال ملیریا کے تقریباًگیارہ سو کیسز رپورٹ ہوئے تھے لیکن اس سال ملیریا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد دو ہزار سے بھی تجاوز کرگئی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے صحت پر کام کرنے والے نیم سرکاری ادارے پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشیٹیو(پی پی ایچ آئی)اور محکمہ صحت لسبیلہ کو ہدایا ت جاری کردی ہیں کہ وہ ان علاقوں میں ملیریا کو فوری طو ر پر کنٹرول کرنے کےلئے اقدامات کرے او ر میں نے پی پی ایچ آئی او ر محکمہ صحت کے ذمہ داران کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں ادویات اور ملیریا کی تشخیص کےلئے کٹس روانہ کردی ہیں جبکہ حب ،وندر،اوتھل او ر بیلہ میں مچھرماراسپرے کروائے جارہے ہیں تاکہ مزید ان علاقوں میں ملیریا نہ پھیلے پی پی ایچ آئی لسبیلہ کے ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر تنویر آفتاب بلوچ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملیریا سے متاثرہ علاقوں میں پی پی ایچ آئی کا عملہ ملیریاکو کنٹرول کرنے کی حتی المقدور کوشش کررہاہے ان متاثرہ علاقوں میں زیادہ مریضوں کو فیلسی پیرم ملیریاکی تشخیص ہوئی ہے اور یہ زیادہ خطرناک ہوتاہے کیونکہ اس میں ا نسانی اعضاءکے متاثر ہونے کا خطرہ ہوتاہے او یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتاہے متاثرہ علاقوں میں جہاں جہاں ہماری بی ایچ یوز ہیں وہاں ہم نے اپنے عملے کو ملیریا کی تشخیص کےلئے کٹس فراہم کردی ہیں واضح رہے کہ ملیریا بخار مچھرسے پھیلنے والا ایک متعدی مرض ہے ملیریا ایک جراثیمی بیماری ہے یہ مچھروں کے کاٹنے کے باعث پھیلتی ہے ملیریا سے متاثرہ مریض کے جگر میں یہ جرثومے ہفتوں سے مہینوں او ر سالوں نمو پاتے ہیںتاہم اسکی علامات نظر آنے میں زیادہ دیر بھی لگ سکتی ہے او ر جب ایک خاص تعداد میں یہ جرثومے پیدا ہوتے ہیں تو ملیریا کا واضح حملہ ہوتاہے ملیریا بخار کی علامات مچھر کے کاٹنے کے ایک سے چار ہفتے بعد تک ظاہر ہوتی ہیں یہ جراثیم افزائش پا کر خون کے سرخ خلیوں کو تباہ کردیتے ہیںیہ قابل علاج مرض ہے اگر بروقت تشخیص کرکے اسکا علاج کیا جائے ۔