بلوچستان یونیورسٹی واقعہ ‘ عوام سیاسی جماعتیں صوبہ بھر میں سراپا احتجاج

0

- Advertisement -

طلباءایجو کیشنل الائنس اور بلوچستان کے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے زیراہتمام صوبے بھر میں بلوچستان یونیورسٹی میںانتظامیہ کی طرف سے طالبات کو ہراسان کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے و ریلیاں نکالی گئی ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے کڑی سزاد دی جائے تاکہ ہمارے آئندہ کوئی بھی اس طرح کسی خواتین کے عزت و نفس کو مجروع نہیں کرسکتے مظاہرین کا صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت سے مطالبہ انہوںنے عندیہ دیا کہ اگر ملوث ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا صوبے سمیت ملک بھر میں احتجاج کو جاری رکھیں گے تفصیلات کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی میں طالبات کو خفیہ کیمروں،ڈراپ آﺅٹ،ہاسٹلز الاٹمنٹ،انٹرفی کے نام پر بوگس تعینات کے ذریعے بلیک میلنگ کی گئی اور ان کی خفیہ ویڈیوز بنائیگئی مقررین نے مزید کہا کہ کرپٹ ،نا اہل،اقرباءپروری کے مرتکب مووجودہ وائس چانسلرر اس بلیک میلر گروہ کے سرغنہ ہے اور کئی دفعہ اس گروہ کوتھانوں اور ایف آئی آر سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا جس کی وجہ سے اس گروہ کو مزید تقویت حاصل ہوئی ہے انہوں نے مزید کہا کہ یو بین کے نام پر بنائی گئی نام نہاد تنظیم کی سرپرستی بی موصوف کے دفتر سے ہوتی رہی انہوں نے گورنر بلوچستان کی خاموش کی مذمت کی اور مطالبہ کیا گیا کہ فی الفور وائس چانسلر کو برطرف کر کے ان کا ناکام زیگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جائے تاکہ وہ ملک سے فرار نہ ہوسکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.