

- Advertisement -
مستونگ/ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سابق وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ مرکزی سیکرٹری جنرل میر جان محمد بلیدی مرکزی سینیئر نائب صدر و سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی ضلعی صدر نواز بلوچ نے کہا کہ اس وقت ملک خصوصا صوبہ بلوچستان میں عملا جمہوری مارشل لا نافذ ہے پی ٹی آئی کی حکومت نے اب تک 100 سے زائد یوٹرن لے لیا ہے 2018 کے عام انتخابات میں صوبائی سلیکٹڈ حکومت کس طرح وجود میں لایا گیا کہ جب ایم پی ایز کی الیکشن کے نام پر سلیکشن ہوا تو اس وقت وزیر اعلٰی بلوچستان کو یہ علم نہیں تھا کہ میرے کابینہ کے وزرا کون ہے اور نہ ہی کسی ایم پی اے کو اپنے وزارت کا پتہ تھا نیشنل پارٹی اس سرزمین کی حقوق اور جدوجہد کو عبادت سمجھ کر کیا ہے اور کرتے رہینگے پارٹی ورکرز ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہے جمہوری کلچر کی فروغ کے لیئے پارٹی کارکن عملی جدوجہد کو تیز کرے کیونکہ اس خطہ میں ایران امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان سرد جنگ نے حالات سنگین کر دیا ہے اور بین الاقوامی میدان جنگ بلوچستان میں چھڑ جانے کا اندیشہ ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے مستونگ میں ورکرز کانفرنس بیاد شہید سردار نجیب خان ترین سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب کے دوران مرکزی صدر ڈاکٹر مالک بلوچ نے نیشنل پارٹی تحصیل مستونگ تحصیل دشت تحصیل کردگاپ تحصیل کھڈ کوچہ کے نئے کابینوں سے ان کے عہدوں کا حلف اٹھایا ورکرز کانفرنس کی تقریب سے پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ مرکزی کمیٹی کے رکن اسلم بلوچ صوبائی سیکرٹری تعلیم ظفر بلوچ آغا فاروق شاہ بی ایس او پجار کے مرکزی کیمٹی کے رکن ظفر اقبال بلوچ زونل ڈپٹی آرگنائزر نثار بلوچ نیشنل پارٹی کے ضلعی جنرل سیکریٹری سجاد دہوار بی ایس او کے سابق مرکزی رہنما بابل ملک بلوچ فاروق شاہوانی میر احمد بلوچ علی احمد میروانی عبدالخالق بنگلزئی اور دیگر نے بھی خطاب کیا مقررین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی آزادی مارچ شروع ہونے سے قبل سیلکٹڈ وزیراعظم اور اس کی حکومت کی نیندیں حرام کیا ہے این آر او نہ دینے اور پانچ سو کرپٹ افراد کو جیلوں میں ڈالنے کے دعوےٰ دار پی ٹی آئی حکومت اب اپوزیشن کے گھٹنوں پر پڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ملک میں ایک سازش کے تحت جمہوری نظام کو رول بیک کرکے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے صدارتی نظام لانے کے لیئے راہ ہموار کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا جس سے ابھی تک صوبوں کو کوئی اختیار نہیں دیا گیا مگر اب اٹھارویں ترمیم پر عمل درآمد کرنے کے بجائے کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سی پیک اتھارٹی بناکر ان کے اختیارات صوبے سے لیکر وفاق کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی گئی اس اتھاٹیز میں موجودہ سلیکٹڈ صوبائی حکومت اور بلوچستان کے لیئے چھ نکات پیش کرنے والے برابر کے شریک ہیں کیونکہ یہ دونوں جماعتیں مرکز میں پی ٹی آئی کے اتحادی بھی ہے ۔کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی منظوری پر ان کی خاموشی سوالیہ نشان ہے مقررین نے کہا کہ میرٹ کا کوئی نام نشان نہیں صوبے میں اساتذہ کے پوسٹیں ٹیسٹ و انٹرویوز سے قبل فروخت ہو رہے ہے مہنگاہی بے روزگاری ٹیکسز کی بے جا لاگو کرنا گیس و بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر نہ صرف ملک کی معیشت کو ڈبودیا بلکہ ایک سال میں عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی نیپ حکومت کا تسلسل ہے اور نیشنل پارٹی ملک میں تمام جمہوری قوتوں کے ساتھ ہے اور ملک میں مظلوم و محکوم طبقہ کے حقوق کے لیئے ہمیشہ جدوجہد جاری رکھیں گے