کوئٹہ میں کل سے تین روزہ بین الاقوامی امراض چشم کانفرنس کا آغاز
- Advertisement -
ماہر امراض چشم پروفیسر عبدالقیوم نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن کی صورتحال میں بہتری آنے کے بعد صوبے میں صحت کے شعبے میں بے پناہ کام کیا جارہا ہے اس سلسلے میں گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی بین الاقوامی امراض چشم کی کانفرنس کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں ملک بھر کے نامور امراض چشم پروفیسر اور دنیا بھر کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے ماہر امراض چشم مختلف بیماریوں کے بارے میں بتائیں گے اور جدید طریقہ علاج روشن کرائیں گے جس سے نہ صرف بلوچستان میں آنکھوں کے امراض میں علاج و معالجہ کے طریقہ کار میں بہتر آئے گی بلکہ آنے والے جونیئر ڈاکٹرز اس سے استفادہ حاصل کرسکیں گے اس سلسلے میں کل سے 3روزہ کانفرنس کا انعقاد مقامی ہوٹل میں کیا گیا ہے جس میں بیرون ممالک سے آئے ہوئے پانچ نامور پروفیسر حضرات اور ملک بھر سے 65سے زائد نامور ماہر امراض چشم شرکت کریں گے جبکہ بلوچستان سے تقریباً 150سے زائد ڈاکٹر شرکت کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس کانفرنس سے پیچیدہ امراض کا علاج ممکن ہوگا اور لوگوں کو اب کراچی یا لاہور جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی مختلف علاقوں میں کیمپ اور ہسپتال میں کام کیا جارہا ہے اور لوگوں کو امراض چشم کے بارے میں آگاہی بھی دی جارہی ہے تاکہ لوگ اپنی آنکھوں کا بروقت معائنہ کریں اور مستقبل میں کسی بھی قسم کے امراض چشم سے محفوظ رہے بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں کیمپ لگاکر مریضوں کا مفت علاج اور بہتر صحت کی سہولیات مہیا کی جائیں گی اس سے ملک میں موجودہ آندھے پن کی شرح میں کمی لائی جاسکے گی جبکہ کانفرنس میں جدید مشینری ادویات لینسز اور دیگر اشیاء کے اسٹال بھی لگائے جائیں گے انہوں نے کہا کہ محکمہ ہیلتھ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد ہی آندھے پن کی روک تھام کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں انہوں نے تین روزہ بین الصوبائی امراض چشم کی کانفرنس کے انعقاد پر کرنل ڈاکٹر شہزاد سعید ڈاکٹر سیف اللہ ترین ڈاکٹر محمد سعید خان پروفیسر شمس ودیگر کا کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔