
- Advertisement -
پاکستان دنیامیں چلغوزے کی پیداوارکے حوالے سے پانچویں نمبر پر ہے،جس کی پیداوار دنیاکی کل پیداوار کا پندرہ فیصدحصہ بنتاہے۔ شیرانی میںتیس ہزارایکڑپرپھیلا دنیا کا سب سے بڑاچلغوزے کا جنگل ہے،جس کی سالانہ پیداوارتین ہزارمن سے بھی زائدہے۔جی ای سی کے مالی تعاون سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت ایف اے اوکے چارسالہ منصوبے میں چلغوزے کے جنگلات کی تحفظ، پیداوارمیں اضافہ، فصل کی کٹائی کے دوران حادثات کی روک تھام،تکنیکی معاونت،مارکیٹ تک رسائی، اورویلیوچین شامل ہیں۔ان خیالات کا اظہار ایف اے او کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹرسلیم شیرانی اورویلیوچین ا سپشلسٹ یحییٰ موسی ٰ خیل نے سنگرشیرانی کے مقام پر چلغوزے کے جنگلات کے حوالے سے نئے پراجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر شیرانی محمد عظیم کاکڑ تھے۔ تقریب میں ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر سلطان لعوون، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شیخ موسی ٰ خان مندوخیل، آوئیربلوچستان کے سربراہ عابد شیرانی،ٹیم لیڈرایچ ڈی ایف نعیم گل مندوخیل،کوآرڈینیٹرایم سی پی قاسم شیرانی ،صباخان شیرانی،علاقے کے معتبرین اور چلغوزے کے کاروبارسے وابستہ افراد نے کثیرتعداد میں شرکت کی۔یحیی ٰموسیٰ خیل نے شرکاءکو پراجیکٹ کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ماضی میں لوگوں کی بے حسی،غربت اور عدم توجہی کے باعث قیمتی جنگلات کی بدترین کٹائی کی گئی ہے۔اگرجنگلا ت کی کٹائی کی روک تھام نہیں کی گئی اور باقی ماندہ جنگلات کے تحفظ کیلئے بروقت اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو بدترین ماحولیاتی اثرات مرتب ہونگے۔انھوں نے کہاکہ گلوبل انوائرنمنٹ فیسلیٹی (جی ای ایف )کے مالی تعاون سے اورایف اے او،آئی یوسی این اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے چارسالہ پراجیکٹ میں آٹھ سویکڑ زرعی زمین پر کمیونٹی کے تعاون سے چلغوزے کے درخت لگائے جائیں گے۔ فصل کی کٹائی کے حوالے سے درپیش مسائل کا جائزہ لیاجائے گااورجنگلات کی کٹائی کے عوامل کی نشاندہی کی جائے گی۔نیزچلغوزے کے فصل کی کٹائی کے دوران استعمال ہونے والے حفاظتی سامان کی فراہمی کے ساتھ ساتھ یہاں چلغوزے کی روسٹنگ اور پراسیسنگ کی سہولت بھی مہیا کی جائے گی اورچلغوزے کے کاروبارسے وابستہ افراد کو مارکیٹ سے بھی منسلک کیا جائے گا۔روایتی طریقے سے نہ صرف درختوں کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی سبب بنتاہے۔ڈی ایف اوشیرانی سلطان لعوون نے جنگلات کی اہمیت اوران کے تحفظ کےلئے اٹھائے گئے محکمے کے اقدامات کے حوالے سے شرکاءکو بریفنگ دی اورایف اواے کے منصوبے کو سراہا۔ علاقے کے لوگوں نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ چلغوزے کے جنگلات مقامی آبادی کے لوگ غربت اورآگہی کے فقدان کے باعث جنگلات کی کٹائی کرتے ہیں۔اوردرختوں کو نہ صرف بطورایندھن استعمال کرتے ہیں بلکہ تعمیراتی کام میں بھی استعمال کیاجاتاہے۔چلغوزے کی کٹائی کے دوران پینے کے پانی کی عدم دستیابی، سڑک کی عدم موجودگی اورطبی سہولیات کی فقدان کے باعث شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑتاہے۔ڈپٹی کمشنر محمدعظیم کاکڑ نے اس موقع پر کہاکہ کسی منصوبے کی کامیابی اورپائیدارترقی کے عمل کیلئے احساس ذمہ داری کا ہونالازمی ہے۔انھوں نے علاقے کے لوگوں پر زوردیاکہ اجتماعی مسائل کے حل کیلئے تعاون کریںاورجنگلات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جنگلات کے تحفظ کیلئے ہرقسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔دریں اثناءمقامی سطح پر بنائی گئی کمیٹیوں کے سربراہوں نے یادداشت پردستخط کیے اورپینتیس افراد میں چلغوزے کے فصل کی کٹائی کے دوران استعمال ہونے والی حفاظتی کٹس بھی تقسیم کیے گئے۔