بلوچی زبان و ادب کی ترقی و ترویج ہم سب کا اولین مقصد ہونا چاہیے، صوبائی وزیرمیر اسد بلوچ

0

- Advertisement -

بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کے وفد نے صوبائی وزیربرائے سماجی بہبود اور بی این پی (عوامی) کے مرکزی سیکریٹری جنرل اسد بلوچ سے کوئٹہ میں ملاقات کی۔ وفد نے ملاقات کے دوران میر اسد اللہ بلوچ کو بلوچی اکیڈمی کی کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی۔ وفد نے میر اسد اللہ بلوچ کو بتایا کہ بلوچی اکیڈمی اس وقت زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے کئی ایک منصوبوں پر کام کا آغاز کرچکی ہے جس میں انسائیکلوپیڈیا (بلوچستانیکا) ، بلوچستانیات (سالانہ ریسرچ جرنل) ، بلوچی انگریزی ڈکشنری اور انگریزی بلوچی ڈکشنری شامل ہیں۔میر اسد اللہ بلوچ نے بلوچی اکیڈمی کی کارکردی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچی زبان و ادب کی ترقی و ترویج ہم سب کا اولین مقصد ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ہماری مدد و کمک ہر اس ادارے کو حاصل رہے گی جو اس میدان میں سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچی اکیڈمی نے جو بلوچی ڈکشنری چھاپی ہے وہ لائق تحسین ہے اس طرح کی کوششیں زبان کو زندہ رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔بلوچی اکیڈمی کے چیئرمین ممتاز یوسف نے میر اسد بلوچ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت اور ان کے اراکین کی خدمات بلوچی زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے لیے بلوچی اکیڈمی کو ہمیشہ سے حاصل رہی ہیں لیکن اب کچھ لوگ زبان و ادب کے نام پر ذاتی مفادات کے حصول میں سرگرم ہیں جن کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی تاکہ زبان و ادب کے فروغ میں سرگرداں ان حقیقی اداروں کی امداد ہوسکے جو کئی سالوں سے کسی لالچ اور ذاتی مفاد کے حصول کے بغیر بلوچی کے لیے خدمت کررہے ہیں۔ میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ ہمارا مقصد ایسے ادبی اداروں کی سرپرستی کرنا ہے جو اخلاص کے ساتھ بلوچی زبان و ادب کی خدمت کررہے ہیں۔ اس حوالے سے ہمارا تعاون ہر وقت حاصل رہے گا۔ اکیڈمی کے وفد میں چیئرمین ممتاز یوسف، ظاہر جمالدینی، سنگت رفیق، ہیبتان عمر، ذاکرقادر اور بالاچ حمید شامل تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.