
- Advertisement -
میڈیکل سپرٹینڈنٹ سول ہسپتال کوئٹہ ڈاکٹر سلیم ابڑو نے کہا ہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پرسول ہسپتال کوئٹہ کے اندر تھڑے پر خاتون کی 2 دن تک پڑی لا ش سے متعلق چلنے والی خبر حقائق کے برعکس ہے اس سلسلے میں ایف آئی اے کے شعبہ سائبر کرائم سے رابطہ کرلیا ہے ، خاتون نشے کی عادی تھی اوران کے جسم پر خود کو انجکشن لگانے سے گہرے زخم بن گئے تھے جس سے گینگ رین ڈیویلپ ہوچکا تھا ، خاتون کے ساتھ 12 سال کا بچہ بھی موجود تھا جو ذہنی طور پر معذور ہے ، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق خاتون چلنے پھرنے کے قابل نہیں تھی جس سے صاف ظاہر ہے کہ انہیں کوئی ہسپتال لا کر چھوڑ گیا تھا ،خاتون کا 4 سال سے اپنے خاوند سے گھریلو تنازعات کی وجہ سے رابطہ نہیں تھا البتہ اسے طلاق نہیں ہوئی تھی ، سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ سیکورٹی ادارے اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں چند دنوں میں حقائق سامنے آجائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ودیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک خبر وائرل ہوئی جس میں لکھا گیا تھا کہ سول ہسپتال کے اندر تھڑے پر 2 دن سے خاتون کی لاش پڑی رہی جس کا کوئی پرسان حال نہیں تھا ۔ میں میڈیا کے ذریعے اس خبر کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں مذکورہ خاتون کا عمر 44 سال اور نام لبنا قدرت ہے جو سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہے خاتون کے والد قدرت اللہ کا وفات ہوچکا ہے جو کوئٹہ میں سوئی سدرن کمپنی کے ساتھ سپیئر پارٹس کا کاروبار کرتا تھا ۔ مرحومہ کی 2 اور بہنیں بھی ہیں اور تینوںنے 90 کی دہائی میں ڈگری کالج کوئٹہ میںداخل لیا اور ہاسٹل میں رہائش پذیر تھیں ، اس وقت کے ہاسٹل کی وارڈن مبارکہ حمید کے ساتھ ابھی بھی ان کا تعلق رہا ہے ۔ لبنا قدرت کی شادی فیصل آباد کے رہائشی طلحہ جبار کے ساتھ ہوئی جو دبئی میںایک ہوٹل میں ملازم ہے ۔ مرحومہ نے کوئٹہ میں نرسنگ کے شعبہ اختیار کیا بعد ازاں گھریلوجھگڑوں کے باعث عمر اور سروس رینج تک پہنچے سے قبل 10 سال کے سروس کے بعد ہی ریٹائرمنٹ لے لی تھی ۔ انہوں نے کہاکہ مذکورہ خاتون تین چار سال سے اپنے خاوند کے گھر کو چھوڑ کر اپنی والدہ کے ساتھ رہائش پذیر تھی تاہم اسے طلاق نہیں ہوئی تھی ۔ وہ نشے کی عادی بن چکی تھی خود کو مختلف انجکشنز لگاتی تھی جس کی وجہ سے انہیں کئی برس پہلے علاج کی غرض سے لاہور کے ایک ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جبکہ 6 مہینے پہلے بھی کراچی کے ایک ہسپتال میں ان کا علاج ہوا ہے تاہم ڈیڑھ مہینے سے اس کا کسی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا گھر والے انہیں ڈھونڈتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ سول ہسپتال کا تمام ریکارڈ چیک کیا گیا مذکورہ خاتون کا ہمارے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اس کا علاج سول ہسپتال میں کوئی علاج نہیں چل رہا تھا ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلا کہ خود کو انجکشنز لگانے کے باعث ان کے جسم کے مختلف حصوں پر گہرے زخم بن گئے تھے جو گینگ رین میں تبدیل ہوگئے تھے اور گینگ رین کے باعث خاتون پیدل 4قدم بھی چل نہیں سکتی تھی ۔ سوچنے کی بات ہے کہ جب وہ خود چل نہیں سکتی تھی تو اسے ضرور کوئی اور لے کر آئے ہیں یہ معلوم نہیں کہ اسے یہاں زندہ لا کھر چھوڑ دیا گیا تھا یا پھر اس کی لاش سول ہسپتال پہنچا دی گئی تھی ۔ خاتون نے چونکہ کوئٹہ میں انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی تھی شاید وہ یہاں کسی سہیلی کے ساتھ رہائش پذیر ہوئی ہوگی ۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبر میں لکھا گیا تھا کہ لاش 2 دن تک تھڑے پر پڑی رہی حالانکہ خاتون کے ساتھ اس کا 12 سالہ کا بچہ بھی موجود تھے اگر ایسا ہوتا تو وہ کم از کم کھانے کے لئے کسی سے کہتا ۔ انہوں نے کہا کہ خاتون کے ساتھ موجود بچہ ذہنی طور پر معذور ہے جو کچھ بتانے سے قاصر ہے ۔ سیکورٹی ادارے کیس سے متعلق تحقیقات کررہی ہیں وہ سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈ اپنے ساتھ لے چکی ہیں چند دنوں میں حقائق سامنے آجائےں گے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی مر جائے تو ہسپتال انتظامیہ اس کی لاش تھڑے پر پھینک دیں ہمارے پاس لاوارث لوگ زیر علاج ہوتے ہیں اگر وہ بھی ایکسپائر ہوجائے تو ان کی نعش کو ایدھی حکام کے حوالے کردیا جاتا ہے ، خاتون کے پاس موجود بچے کو جب سیکورٹی اہلکار نے روتے ہوئے پایا تو پوچھنے پر بتایا کہ اماں بول نہیں رہی جس پر سیکورٹی نے ہسپتال انتظامیہ کو بتایا جس کے بعد ڈاکٹر جعفر موقع پر پہنچے اور اس نے خاتون کو شعبہ حادثات منتقل کرکے چیک کیا تو پتہ چلا کہ خاتون کی موت واقع ہوچکی ہے ۔ ڈاکٹر سلیم ابڑو کا کہنا تھا کہ خاتون سے ایک پرچی ملی جس پر ان کے ماموں اور خالوکے نمبرز درج تھے جس پر رابطہ کیا گیا تو وہ آج کوئٹہ آئے ۔ یہ تھانے والوں کا کام ہے کہ وہ تحقیقات کریں ۔ انہوں نے کہا کہ علامات سے معلوم ہورہا تھا کہ لاش تازہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہسپتال میں ہمارے پاس 47 پولیس اہلکاروں سمیت 2سو کے قریب لوگ سیکورٹی پر مامور ہیں ، سیکورٹی کے حوالے سے بارہاں پولیس اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرچکا ہوں لہذا میڈیا ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تصدیق شدہ خبریں چلائیں ، غلط خبریں چلانے پر سوشل میڈیا کے گروپس سائبر کرائم سے رابطہ کرلیا ہے ۔