غفلت لاپروائی کی وجہ سے محکمہ زراعت اس صوبہ کی خدمت نہیں کر پا رہی چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اختر حسین لانگو

0

- Advertisement -

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اختر حسین لانگو نے کہا ہے کہ زراعت بلوچستان کے لیے نہایت اہمیت کا حامل شعبہ ہے لیکن غفلت لاپروائی اور محکمہ میں بے ضابطگیوں اور طے شدہ اہداف کو متعینہ مدت پر حاصل نا کرنے کی وجہ سے محکمہ زراعت اس صوبہ کی خدمت نہیں کر پا رہی جس طرح کہ محکمہ کو کرنی چاہیے تھی- بلوچستان میں زرعی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے محکمہ زراعت ایک وسیع اور اہم ادارہ ہے لیکن محکمہ میں گاڑیوں کے لیے تیل کے تصرف, بلڈوزر کے گھنٹوں، چھوٹی اور بڑی گاڑیوں کے مرمت پر بے ضابطگیوں، طے شدہ اہداف کا متعینہ وقت پر مکمل نا ہونا، زرعی مقاصد کے لیے کھدائی، بیپرا قانون سے رو گردانی قابل گرفت عمل ہے- محکمہ زراعت میں اہم عہدوں پر بیٹھے ذمہ دار افسران و کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ سابقہ دور میں کئے گئے بے ضابطگیوں کے مرتکب ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کریں – ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے محکمہ ایگریکلچر اینڈ کوآپریٹو کے آڈٹ پیراز، اختصاصات اور سابقہ آڈٹ پیراز پر اٹھائے گئے اعتراضات کے جوابات کے مناسب سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا- اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی و پی اے سی سردار یار محمد رند، نصراللہ زیرے اور میر زابد علی ریکی موجود تھے- علاوہ ازیں سیکرٹری ایگریکلچر میر قمبر دشتی، اے جی بلوچستان خواجہ حارث عادل، ڈی جی آڈٹ غلام سرور مندوخیل، ڈی جی ایکسٹنشن انعام الحق، سید بشیر احمد، پرنسپل ایگریکلچر کالج محمد اسلم خان نیازی، سپیشل سیکرٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، چیف آف سیکشن محکمہ ترقات محمد عارف، ایڈیشنل سیکرٹری مشتاق احمد اور ڈپٹی سیکرٹری پی اے سی سراج الدین لہڑی اور متعلقہ اداروں کے دیگر حکام بھی موجود تھے- اجلاس کے دوران متعلقہ محکموں کے-17-2016، 18-17 اور 2015 کے دوران تیل کے استعمال بلڈوزر گھنٹوں خدائی طے شدہ کے حاصل نہ کرنے کی مناسبت سے آڈٹ پیراز میں اٹھائے گئے اعتراضات اور سوالات زیر بحث لائی گئیں – اس موقع پر گاڑیوں کی مرمت بلڈوزر کے گھنٹوں تیل کے بے دریغ استعمال کے باوجود محکمہ کی جانب سے دائر جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے پی اے سی چیئرمین اور اراکین نے متفقہ طور پر ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ انکوائری شروع کرنیاور انکوائری رپورٹ دو ماہ کے اندر جمع کرنے کی ہدایت کی- اس کے برعکس اجلاس میں بعض آڈٹ پیراز کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا گیا جب کہ بعض پیراز کو اگلی سماعت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا- اجلاس کے دوران چیئرمین اور ممبران پی اے سی نے محکمہ فائنانس کی جانب سے نمائندگی نا ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ فائنانس پی اے سی اجلاس میں اپنی نمائندگی ہر صورت یقینی بنائے- 2005 کے پیراز پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پی اے سی نے محکمہ سے اُسوقت پنجگور میں کھجور کے باغات کو مختلف امراض کی وجہ سے اسپرے کرنے کی غرض سے خریدیں گئے اسپرے مشینوں کی اور ان کے جائے موجودگی کی تفصیلات بمع فہرست بھی طلب کرلی- اجلاس کے دوران اراکین پی اے سی نے محکمہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ کے جوابات اور پیش کیے گئے اعدادوشمار میں غلطیوں کا نوٹس لیتے ہوئے نہایت برہمی کا اظہار کیا، اور اسے پی ای سی جیسے اہم ادارہ کو گمراہ یا گمراہ کرنے کی کوشش کے مترادف قرار دیتے ہوئے آئندہ محتاط رہنے کی ہدایت کی-

Leave A Reply

Your email address will not be published.