میر امان اللہ خان زرکزئی کے قتل سے میرا اور میرے خاندان کا تعلق نہیں، نواب ثناءاللہ زہری

0

- Advertisement -

چیف آف جھالاوان سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ خان زہری نے کہا ہے کہ میر امان اللہ خان زرکزئی اوردیگر کے قتل سے ان کا اور ان کے خاندان کے کسی فرد کا کوئی تعلق نہیں وہ ان کے بچوں کی شہادت کے مقدمے میں اس وقت اشتہاری تھا جب وہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے منصب پر فائز تھے وہ چاہتے تواسے ٹارگٹ کرسکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا ،قو م پرست پارٹی کے سربراہ وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان جھالاوان میں قبائلی آگ کو بجھانے میں کردارادا نہیں کرسکتے تو اس پرپٹرول چھڑکنے کی کوشش نہ کرے ،میرے ماموں امان اللہ زہری ،اختر شاہ زئی کے بازونہیں بلکہ ان کا بازو وہ ہے جو لندن میں بیٹھا ہواہے ،قوم پرست پارٹی کا سربراہ ہماری قبائلی دشمنی میں اتنا آگے نہ بڑھیں کہ میں اپنے قبیلے کے افراد کو روک نہ سکوں ،عنقریب زہری قوم کے جھالاوان ،سراوان ،افغانستان ،سندھ اور دیگر علاقوں میں آباد بلوچوں کا جرگہ بلا کر انہیں سازشوں سے آگاہ کروں گا،میں نے اپنے بیٹے ،بھائی اور بھتیجے کی شہادت کا فیصلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیاہے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال تیزی دکھانے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ ہم پر صرف منصوبہ بندی کا الزام ہے ہم عدالتوں کا سامنا کریں گے ۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے تخت جھالاوان انجیرہ میں مختلف قبائل کے سرداروں ،ٹکریوں ،وڈیروں اور قبائلی عمائدین کی موجودگی میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سردار زولفقار ہارونی ،سردار محمد علی خان جتک ،سردار منیر احمد ڈایاں زہری ،سردار محمد یوسف سناڑی ،سید عبداللہ شاہ،ٹکری محبوب علی زہری ،میر ریحان زہری ،میر عبدالرحمن صالح زئی ،میر عبدالرحمن دورازئی ،میر منظور احمد سناڑی ،میر عمران ہارونی ،میر محمد ظریف ہارونی سمیت دیگر قبائلی معتبرین بھی موجود تھے ۔چیف آف جھالاوان وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ خان زہری کاکہناتھاکہ چندروزقبل بلبل زہری میں میر امان اللہ زرکزئی اور ان کے چار ساتھی حملے میں مارے گئے تھے وہ میرا ماموں ہونے کے ساتھ میرے بیٹے نواب زادہ سکندر علی خان زہری ،بھائی نوابزادہ میر مہر اللہ خان زرکزئی اور بھتیجے میر زیب زہری کی شہادت کے مقدمہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے اشتہاری تھے او رانہیں عدالتوں سے باقاعدہ سزائیں بھی سنائی گئی تھیں میں واضح کرناچاہتاہوں کہ میر امان اللہ زرک زئی اور ان کے ساتھیوں کے قتل سے مجھ سمیت میرے خاندان کے کسی فرد کا کاکوئی تعلق نہیں ،بلا تحقیق اور سازش کے تحت اس مقدمہ میں ہمیں منصوبہ ساز قرار دیا گیا ہے میں اس الزام کی واضح طور پر تردید کرتا ہوں کہ میرا یا میرے کسی رشتہ دار کا میر امان اللہ زرکزئی اور ان کے ساتھیوں کے قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے کہاکہ میر امان اللہ خان زرکزئی کے خاندان کے دیگر قبائل کے ساتھ بھی دشمنیاں چلی آرہی تھی ،انہوں نے الزام عائد کیاکہ میر امان اللہ خان کو بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان سرداراخترمینگل نے اکسایا اور عام انتخابات میں انہیں آزاد گھومنے کامشورہ دیاجس سے ہم اپنے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف سمجھتے ہیں ،انہوں نے کہاکہ خود اختر شاہی زئی نے ہمیں لڑانے کی سازش کی بلکہ تعزیت کیلئے جا کر انہوں ایک مرتبہ پھر اپنی سازش دوہرایاہے ،انہوں نے میرامان اللہ خان زہری کے خاندان والوں کومیرے رشتہ داروں کے خلاف اکسایا اور کہا کہ میرے بازو کٹ گئے ہیں میں ان کو بتانا چاہتا ہوں مقتولیں میرے قوم کے افراد اورمیرے رشتہ دار ہیں ان کے بازو لندن میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو بلوچ قوم کو قتل کرنے و ریاست پاکستان کے خلاف سازش کررہے ہیں میں وضاحت کرتا چلوں کہ میں اپنے بچوں کی شہادت کے بعد با اختیار سینئر صوبائی وزیر رہا اور بعد میں دوسری مدت میں وزیر اعلیٰ بلوچستان رہا اگر مجھے میر امان اللہ زرکزئی کو ٹارگٹ بنانا ہوتا تو اس وقت میں زیادہ با اختیار تھا مجھے معلوم تھا کہ وہ کہاں رہ رہے تھے مگر میں نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی میرے پاس تمام فورسز کا کمان تھا میں عدالت کے حکم پر فورسز کے ذریعہ اس وقت کارروائی کرتا لیکن میں نے تمام تراختیارات رکھنے کے باوجود بھی انہیں ٹارگٹ نہیں کیاآج کیونکر انہیں نشانہ بناوںگا ہاں میر امان اللہ زرکزئی اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے بعد اختر شاہی زئی جو گزشتہ پچاس سالوں سے زرکزئی خاندان کو ایک دوسرے سے دست گریبان کروانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا نے تعزیت پر نورگامہ جاکرتعزیتی پنڈال کی بجائے میر امان اللہ زرکزئی کے بیٹوں کے ساتھ الگ بیٹھک کر کے مجھ سمیت میرے خاندان والوں کو میر امان اللہ زرکزئی کے قتل میں منصوبہ ساز نامزد کروادیا میں جھالاوان کے عوام بلوچ قوم اور تمام قبائل پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اب اختر شاہی زئی تمام حدود پار کر چکے ہیں اور قبرستان بھرنے کا ٹھیکہ صرف زرکزئی قبیلہ نے نہیں اٹھایا ہے میں ایک بار پھر ان سے کہتا ہوں کہ خدا را اب بس کرو بہت ہوگیا ایسا نہ ہوکہ کسی دن حالات اور معاملات میرے کنٹرول سے باہر ہوجائیں چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ خان زہری کا کہنا تھا کہ مینگل قبیلہ میرے لئے قابل احترام ہے مگر شاہیزئی نے آج سے نہیں گزشتہ پچاس سالوں سے زرکزئی خاندان کے خلاف سازشیں کی ہیں جب میرے والد صاحب حیات تھے اس وقت سردار عطاءاللہ شاہی زئی اور اب سردار اختر شاہی زئی ان سازشوں میں مصروف عمل ہے میں اختر شاہی زئی پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ جھالاوان میں قبائلی تنازعات کو ختم کرنے میں حصہ دار نہیں بنتا تو قبائل کو دست گریبان کرنے اور قبائلی آگ پر پیٹرول چھڑکنے کا کام کرنے سے بازآئیں ایک سوال کے جواب میں نواب ثناءاللہ خان زہری کا کہنا تھا کہ میں نے واضح کر دیا ہے کہ ہم پر بلا تحقیق اس قتل کی منصوبہ بندی کا الزام لگا کر مقدمہ کیا گیا ہے اس کے باوجود وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم پر الزام ہے اور ہم عدالتوں کا سامنا کریںگے جب جرم ثابت ہوجائے تب وہ تیزی دیکھا دیں قبل از وقت تیزی دیکھانے کا کوئی فائدہ نہیں ،ایک سوال کے جواب میں چیف آف جھالاوان کا کہنا تھا کہ میںجھالاوان ،ساراوان ،افغانستان ،سندھ اور دیگر علاقو ں میں آبا دبلوچ قبائل کا عنقریب جرگہ بلاونگا جس میں بلوچ قوم کو آگاہ کرونگا کہ اختر شاہی زئی کس طرح زرکزئی قبیلہ کو دست و گریبان کرنے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہیںتا کہ پوری صورتحال سے بلوچ قبائل آگاہ ہوں چیف آف جھالاوان کے پریس کانفرنس میں خضدار،شہید سکندر آباد ،قلات ،زہری ،سندھ ،نصیر آباد سمیت مختلف علاقوں سے قبائلی عما ئدین جن میں قبائلی سردار ،وڈیرے ،ٹکری،میر و معتبر موجود تھے انہوں نے نواب ثناءاللہ خان زہری پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.