بلو چستان پوسٹ بجٹ بریفنگ

0

- Advertisement -

صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ مالی سال 2019-20 کا میزانیہ ماضی سے ہٹ کر ہے جس کے ثمرات براہ راست عام آدمی کو ملیں گے 4سو 19 ارب سے زائد کا میزانیہ عوام دوست ہے بلکہ اس کے خسارے کو کور کرنے میں بھی کامیاب ہوں گے ، سرکاری شعبوں میں 5 ہزار 4سو 45 آسامیاں رکھی گئی ہےں بلکہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی وفاقی حکومت کی طرز پر کیا گیا ہے ،شور شرابہ اپوزیشن کی روایت ہے ایسا نہ کر تے تو ان کا چورن کیسے بکتا، کیا ہی اچھا ہوتا اگر اپوزیشن جما عتیں بجٹ تقریر سن کر یا بجٹ کو پڑھ کر احتجا ج کر تیں،اپوزیشن احتجا ج کا بجٹ مخالفت فلاحی کاموں اور ترقیاتی اقدامات کی مخالفت سے تعبیر کرتے ہیں، سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کے باعث پولیس اور لیویز کی اپ گریڈیشن کی گئی ہے ، سیکورٹی بجٹ کو مزید بڑھانا پڑا تو بڑھائیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز آفیسرز کلب کوئٹہ میں سیکرٹری خزانہ بلوچستان نورالحق بلوچ ، ایڈیشنل سیکرٹری ترقیات عبدالرحمن بزدار و دیگر کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس بریفنگ کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔ صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو صوبے کو معاشی بد حالی کا سامنا تھا بلکہ لگ رہا تھا کہ صوبائی حکومت کے لئے ملازمین کو تنخواہیں دینا بھی مشکل ہوجائے گا تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور ان کی ٹیم کی بصیرت اور انتھک محنت کے باعث 8 ماہ کے دوران مالیاتی نظم ضبط پیدا کرنے اور مالیاتی امور میں ضروری اصلاحات کے بعد ہم ایک متوازن اور ترقیاتی اساس کا حامل بجٹ تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں بلکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جا م کما ل خان نےخود بھی بجٹ میں کہا ہے کہ اپوزیشن سمیت کسی بھی حلقے کو نظر انداز نہیںکیا گیا ہے۔ بجٹ برائے ما لی سال2019-20 کے اہم نکات کی تفصیل بتا تے ہو ئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں تما م سوالوںکے اطمینان بخش جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ سے منظور شدہ آئندہ مالی سال کے لئے صوبے کا 419 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کیاگیاہے جس کا مجموعی خسارہ47ارب روپے سے زائد طے کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مالی سال2019-20 میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 108ارب روپے اور غیر ترقیاتی منصوبوں کے لیے291ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میںوفاق سے339ارب روپے محصولات کی مد میں وصول ہوں گے جبکہ کیپٹل محصولات کے ذریعے 10 ارب 8 کروڑ روپے حاصل کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ کرنٹ ریونیو اخراجات کا تخمینہ 257ارب43کروڑ 50لاکھ روپے جبکہ کرنٹ کیپٹل اخراجات کا تخمینہ 36ارب 14کروڑ 40لاکھ روپے، وفاق کے تعاون سے مکمل کیے جانے والے منصوبوں کے لیے 18ارب21کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیںموجودہ بجٹ میں غیر ملکی معاونت کا تخمینہ 7 ارب 56 کروڑ 11 لاکھ طے کیا گیا ہے۔مالی سال 2019-20کے بجٹ میں تعلیم کے لیے55ارب72کروڑ روپے اور ہائر ایجوکیشن کے لیے 14ارب95کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیںبجٹ میں صحت کے شعبے میں34ارب18کروڑ روپے، پانی کے منصوبوں کے لیے28ارب روپے، امن و امان کے لیے 44ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔صوبائی بجٹ میں 150نئے وفاقی منصوبے اور غیر ملکی تعاون سے100منصوبے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سر کا ری ملا زمین کو ریلیف دینے کیلئے گریڈایک سے گریڈ16تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد جبکہ گریڈ17سے 20تک کے آفیسران کو 5فیصد ایڈہاک ریلیف دینے کااعلان کیاگیاہے گریڈ21اور 22کے صوبائی آفیسران کی تنخواہوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیاگیاہے ،پنشنرز کی پنشن میں 10فیصد اضافے کااعلان کیاگیاہے جب کہ کم ازکم تنخواہ 17500روپے مقرر کی گئی ہے۔صوبائی بجٹ میں ان ملازمین پہلی بارصوبائی حکو مت نے جو معذور ہیں کیلئے 2000روپے اسپیشل الاﺅنس کابھی اعلان کیا ہے۔ سال2019-20میں محکمہ تعلیم میں 1057،محکمہ صحت میں 1019جبکہ لیویز اور پولیس فورس میں 1150نئی آسامیاںپیدا کرنے اور ان کی اپ گریڈیشن کا اعلان کیاگیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں 150ویٹرنری ڈاکٹرز کی نئی آسامیاںپیدا کرنے کا بھی اعلان کیاگیاہے بلکہ ہنرمند پروگرام کے اجراکے ذریعے 6ہزار نوجوانوں کو جدید تکنیکی ہنر اورمہارتوں سے بہرہ مند کرنے اور تمام پروفیشنلز کیلئے نئی آسامیوں کی تخلیق کی گئی ہے محکمہ تعلیم میں 15998خالی آسامیوں کو میرٹ پر ،پر کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں اگلے مالی سال کیلئے 5445نئی آسامیاں بھی پیدا کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی بجٹ برائے سال2019-20میں 123نئے پرائمری سکولوں قائم کرنے کے علاوہ 125مڈل سکولوں کو پرائمری سے مڈل کادرجہ دینے اور 94مڈل سکولوں کو ہائی کا درجہ دینے کے ساتھ26ہائی سکولوں کو ہائیرسیکنڈری سکولز اپ گریڈ کیا جا ئے گا۔علاوہ ازیں سکول کلسٹربجٹ کو بھی 1.89بلین روپے کردیاگیاہے۔اس کے علاوہ دورافتادہ علاقوں کیلئے 51سکول بسیں مہیا کرنے اور ہائی سکولوں میں 153ملین روپے کی لاگت سے سائنس لیبارٹریز بنانے کااعلان کیاگیاہے ضلع کیچ ،نوشکی ،قلعہ سیف اللہ اور جعفرآباد میں نئے ایلیمنٹری کالجز کے قیام کیلئے 500ملین روپے مختص کئے گئے ہیں،پہلی بار جامعات کے 4نئے کیمپسز کے قیام کیلئے صو با ئی حکو مت اپنے وسا ئل سے 150ملین روپے مختص کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2019-20کے بجٹ میں بلوچستان عوامی ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کرنے کیلئے 5ہزار 3سو ملین روپے مختص کئے گئے ہیں سماجی تحفظ اور غربت مٹا اتھارٹی کے قیام کیلئے بھی ایک بلین روپے رکھے گئے ہیں کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج کے تحت جوائنٹ روڈ اور سبزل روڈ توسیعی پروگرام کیلئے 3بلین روپے جاری کئے جاچکے ہیں جبکہ بروری روڈ ،پٹیل روڈ،سریاب روڈ،پرنس روڈ،سرکی روڈ،نواں کلی بائی پاس،اہم لنک روڈ،مشرقی بائی پاس ،ہنہ اوڑک روڈ کی توسیع پروگرام پیکج کے تحت 8ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اس کے علاوہ وزیراعلی ضلعی ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت بھی 500ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ،قابل اور محنتی طلباکو لیپ ٹاپ کی مفت تقسیم کیلئے بھی 100ملین روپے رکھے گئے ہیں۔محکمہ تعلیم میں دو رافتادہ علا قوں کے طلباکیلئے واوچراسکیم متعارف کر وائی گئی ہے ۔بلو چستان عوامی انڈ وو منٹ فنڈ بھی حکو مت کا ایک انقلا بی قدم ہے جس سے غریب اور مستحق افراد کو جا ن لیو ا مو ذی امراض کے علا ج کیلئے سہو لیا ت میسر آ سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ میڈیا اکیڈمی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے آئندہ بجٹ میں 30ملین روپے رکھے گئے ہیںاس کے علاوہ فلم فنڈ قائم کرنے کے لیے بھی 30 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ مالی سال 2019-20 کا میزانیہ ماضی سے ہٹ کر ہے جس کے ثمرات براہ راست عام آدمی کو ملیں گے 4سو 19 ارب سے زائد کا میزانیہ عوام دوست ہے بلکہ اس کے خسارے کو کور کرنے میں بھی کامیاب ہوں گے ، سرکاری شعبوں میں 5 ہزار 4سو 45 آسامیاں رکھی گئی ہےں بلکہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی وفاقی حکومت کی طرز پر کیا گیا ہے ، اپوزیشن کا بجٹ مخالفت فلاحی کاموں اور ترقیاتی اقدامات کی مخالفت سے تعبیر کرتے ہیں، کیا ہی اچھا ہو تا اگر اپوزیشن جما عتیں بجٹ سننے کے بعد احتجاج اور تنقید کرتیںامید ہے کہ بجٹ پڑھنے اور سننے کے بعد اپوزیشن کے بجٹ کے حوالے سے تحفظات اور خدشات دور ہو گئے ہوں گے ،انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کے باعث پولیس اور لیویز کی اپ گریڈیشن کی گئی ہے ، سیکورٹی بجٹ کو مزید بڑھانا پڑا تو بڑھائیں گے ۔ سیکرٹری خزانہ بلوچستان نورالحق بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت اپنے وسائل سے صوبے کے تمام اضلاع میں یونیورسٹی کیمپس قائم کرے گی آمدنی اکھٹا کرنے والے اداروں میں اصلاحات لاکر انہیں فعال بنایا جارہا ہے بلکہ اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات لائی جارہی ہیں انہوں نے کہا کہ جزا و سزا کے عمل کے لئے نیب سی ایم آئی ٹی انٹی کرپشن و دیگر ادارے کام کررہے ہیں،بلوچستان کی تاریخ میں سماجی شعبے کی بہتری کے لئے پہلا مثالی بجٹ پیش کیا گیا ہے ،2009سے خسارے کے بجٹ ہی آتے رہے ماضی کی نسبت آئندہ سال کے مالی بجٹ میں خسارے کو بڑی حد تک کم کیا گیا، آئندہ مالی سال کا بجٹ کمنٹڈ بنیادوں پر ہے دستیاب وسائل کے مطابق بجٹ کی تشکیل ممکن بنائی گئی ہے ،صوبے کے مالی وسائل میں اضافہ کرنے کے لئے جامع حکمت عملی مرتب کرلی گئی ہے ۔ فنانس بل سے مالی معاملات بہتر ہونگے اور ریونیو سورسز میں اضافہ ہوگا ، نان ڈویلپمینٹ بجٹ کو کم کردیا گیا ہے ، آئندہ مالی سال کا صوبائی بجٹ ٹیکس فری ہے ، صوبے کے محصولات میں اضافے کے لئے بی آر اے کی متوقع آمدن گیارہ بلین روپے رکھی گئی ہے ۔ایڈیشنل سیکرٹری تر قیات عبدالرحمان بزدارنے کہا کہ پیداواری شعبے کی فعالیت کے لئے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل ضروری ہے اسی مقصد کے لئے صوبائی بجٹ میں انفرا اسٹریکچر کے منصوبوں پر توجہ دی گئی ہے لائیو اسٹاک فشریز اور آمدن کے حامل شعبوں کے لئے خاطر خواہ فنڈز مختص کئے گئے ہیں ،وفاقی حکومت نے انفرا اسٹریکچر کے منصوبوں کے لئے معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے،وفاقی حکومت کی معاونت سے خسارے پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.