![]()
- Advertisement -
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے پشتون آباد میں واقع مسجد رحمانیہ میں دھماکے کے نتیجے میں 3 نمازی جاں بحق جبکہ بچوں سمیت 28 نمازی زخمی ہوگئے ہیں ، زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ، گورنر بلوچستان جسٹس (ر) امان اللہ یاسین زئی ، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے دھماکے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ مساجد ، امام بارگاہوں اور عبادگاہوں کی سیکورٹی مزید سخت کی جائے ، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشان عبرت بنانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں جائیں ۔پولیس ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز کوئٹہ کے جنوب مشرقی علاقے پشتون آباد میں واقع رحمانیہ مسجد میں اس وقت دھماکہ ہوا جب نمازیوں کی بڑی تعداد نماز جمعہ کے لئے مسجد کے اندر موجود تھی ، دھماکے کے نتیجے میں 2عبدالرحمن اور شاہ زیب ولد محمد اکرم جاں بحق جبکہ بچوں سمیت 2درجن سے زائد افراد ہوگئے جن میں راشد علی ولد داد محمد ، سردار محمد ولد عبدالکریم ، روزی محمد ، سرور خان ولد ہجرت خان ، 9سالہ حفیظ الرحمن ، حاجی عبدالرحمن ولد حاجی محمد ،نصیر خان ، اجمل خان ولد عبدالعلی ، حکمت اللہ ، سعید محمد ولد عبدالکریم، دلشاد احمد ولد بدل خان، مشتاق ولد نورعلی ، گل شاہ ولی ولد عبدالمنان ، فدا محمد ولد عبدالغفار اور حبیب اللہ ولد محمد قاسم ، روزی محمد ولد نذر گل ، رحیم داد ولد باران ، عبدالرحمن ولد فتح محمد ، عزیز اللہ ولد لعل ،نور الدین ،خواجہ محمد ولد نصرالدین ، مشتاق ولد نور علی ، بچہ محمد یعقوب اور بچہ محمد یونس ، حبیب اللہ ولد محمد قاسم ، سمیع اللہ ولد محمد قاسم ، محمد آصف ، ناصر اور ایک نامعلوم شخص شامل ہیں ، دھماکے کے فوراً بعد مسجد میں بھگدڑ مچ گئی اور زخمی مدد کے لئے چیخ و پکار کرتے رہے ۔ دھماکے کے نتیجے میں مسجد کو شدید نقصان پہنچا جبکہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو گاڑیوں ، رکشوں اور ایمبولینسز کے ذریعے روانہ کیا جبکہ سول ہسپتال سمیت دیگر ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے طبی اور نیم طبی عملے کو طلب کیا گیا ، دھماکے کے فوراً بعد لوگوں کی بڑی تعداد سول ہسپتال میں خون کے عطیات دینے اور اپنے پیاروں کو ڈہونڈنے کے لئے پہنچے۔ دھماکے سے علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ، پولیس اور سیکورٹی فورسز نے دھماکے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق جمعہ کے موقع پر سیکورٹی الرٹ تھی شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ایف سی کی اضافے اہلکار تعینات تھے بلکہ مساجد اور امام بارگاہوں پر بھی سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تہے اس کے علاوہ شہر بھر میں کویک رسپانس فورس اور سیکورٹی فورسز کی پٹرولنگ بھی جاری رہی جبکہ نماز جمعہ کے دوران ایس ایچ اوز کو گشت اور ایس پیز کو سرکل میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔ وزیراعلیٰ جام کمال خان نے پشتون آباد میں بم دھماکے کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی اور دھماکے میں معصوم لوگوں کی شہادت و زخمی ہونے پر دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماہ مبارک کے مبارک دن بے افراد کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے والے سخت سزا کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے شہداءکے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ۔ انہوں نے شہر میں سیکورٹی کو مزید سخت کرنے کی ہدایات جاری کردی ۔ صوبائی وزیر داخلہ میر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے دھماکے میں جاں بحق و زخمی ہونے الے افراد کے لئے افسوس و ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد انسان کہلانے کے لائق نہیں ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہتر علاج فراہم کیا جائے اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردوں کے خلاف بھر پور کاروائی کررہے ہیں ملک دشمن دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشان عبرت بنائیں گے ۔ دریں اثناءپاکستان تحریک انصاف کے صوبائی ترجمان بابر یوسف زئی کے جاری کردہ بیان میں رحمانیہ مسجد پشتون آباد میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے ۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسجد میں دھماکہ کرنے والے انسان کہلانے کے لائق نہیں ، سوچی سمجہے منصوبے کے تحت صوبے کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لےکن ہم دہشت گردی اور امن دشمنوں پر واضح کرنا چاہتے ہیںکہ ان کے خلاف پوری قوم متحد ہےں بلکہ اتحاد و اتفاق سے انہیں شکست دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائدین اور کارکن شہید ہونے والے شخص اور زخمیوں کی اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہیں ۔ انہوں نے واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سیکورٹی ادارے واقعہ میں ملوث عناصر کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچانے کےلئے کاروائی عمل میں لائیں ۔