اپوزیشن اور انجمن تاجران کے زیراہتمام شٹر ڈاﺅن ہرٹال کا اعلان

بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن جما عتوں اور انجمن تاجران بلوچستان کے رہنماﺅں نے صو با ئی بجٹ لیپس ہونے ، مہنگائی میں اضا فہ اور صوبے میں بدامنی کے واقعات و دیگر مسائل کے خلاف 17 مئی کو کوئٹہ میںشٹرڈاﺅن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پی ایس ڈی پی کے لیپس ہونے بارے جن خدشات کا اظہار کیا گیا تھا وہ آج سچ ثابت ہورہے ہیں ،مالی سال 2018-19 کے 88 ارب ترقیاتی بجٹ میں سے صرف چند ہی ارب خرچ کئے گئے ، صوبے میں ترقی کا پہیہ رک چکا ہے ، گزشتہ ایک مہینے سے صوبے میں بدامنی کی ایک نئی لہر اٹھ چکی ہے تاہم حکومتی سطح پر کسی قسم کی کارروائی نہیں کی جاسکی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و جمعیت علماءاسلام کے مرکزی رہنماءملک سکندر ایڈووکیٹ ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے اور مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ نے اپوزیشن چیمبر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے اراکین اسمبلی احمد نواز بلوچ ، اختر حسین لانگو ، جمعیت علماءاسلام کے رکن صوبائی اسمبلی اصغر ترین ، انجمن تاجران کے اللہ داد ترین و دیگر بھی موجود تھے ۔ بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈووکیٹ نے کہا کہ موجودہ مالی سال 30 جون کو ختم ہورہا ہے اور اگلے مالی سال کا آغاز ہوگا مگر گزشتہ 10 ماہ کے دوران صوبے میں ترقی کا پہیہ مکمل طور پر رکا ہوا ہے جس کے خلاف میں ہم نے اسمبلی فلور اور میڈیا کے توسط سے بارہا ںآواز بلند کی کہ صوبے کے بجٹ کو ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا جائے اور اگر یہ رقم خرچ نہیں کیا گیا تو پچھلے حکومتوں کی طرح بہت بڑی رقم لیپس ہوگی جس سے صوبے کو بہت بڑا نقصان ہوگامگر ہماری ایک نہ سنی گئی اور آج 80 فےصد بجٹ لیپس ہورہا ہے جو کہ پریشان کن اور افسوسناک ہے جس سے بلوچستان کو ناقابل تلافی نقصان ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قحط سالی ، بارشوں اور بدامنی کی وجہ سے صوبے کو کافی نقصان پہنچا اس دوران صدر اور وزیراعظم نے صوبے کے دورے بھی کئے مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ انہوںنے صوبے کو ایک روپیے کا پیکج تک نہیں دیا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بلوچستان کے ساتھ کس حد تک بے حسی کا برتاﺅ رکھا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امن وامان کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے ۔ گوادر جو کہ بین الاقوامی شہر ہے میںبھی گزشتہ دنوںبڑا واقعہ رونما ہوا جو حیران کن ہے جس سے نہ صرف گوادر اور صوبے کی ترقی متاثر ہوگی بلکہ سی پیک منصوبہ جس کا محور ہی گوادر ہے کو نقصان پہنچے گا ۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک میں بلوچستان کو کچھ نہیںدیا گیا انہوں نے کہا کہ ملک اور صوبے میں مہنگائی بڑھ چکی ہے لوگ ہم سے بحیثیت ان کے نمائندے سوال کرتے ہیں آج حالت یہ ہے کہ بجلی و گیس کی بلوں کی ادائیگی غریب عوام کی بس سے نکل چکی ہے ۔ آج مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی چیخیں ان تک پہنچ رہی ہےں ۔ ہمیں اگلے مالی سال میںبھی حکومت سے کوئی توقع نہیں اور خدشہ ہے کہ اگلے سال بھی یہی سب کچھ ہوگا ۔ آج بھی این ایف سی ایوارڈ لٹکا ہوا ہے لوگ چیخ رہے ہیں مگر ان کی آواز کسی جگہ تک نہیں پہنچ رہی اس تمام تر صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے انجمن تاجران کے ساتھ مل کر 17 مئی کو کوئٹہ شہر میںشٹرڈاﺅن ہڑتال اور کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر اس کے باوجود بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی تو احتجاج کو پورے صوبے تک پھیلا کر اسے مزید وسعت دی جائے گی جس میں احتجاج اور دھرنے بھی شامل ہوں گے ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ ہم ایک عرصے سے جدوجہد کرتے آرہے ہیںصوبے میں پانی ، خشک سالی ، بدامنی اور ترقی عمل رک جانے جیسے مسائل کے حل کے لئے اپوزیشن پارٹیوں نے ہر فورم پر آواز بلند کی ہے مگر اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کو حق دینے اور مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے پی ایس ڈی پی کے حوالے سے جن خدشات کا اظہار کیا تھا کہ پی ایس ڈی پی لیپس ہورہی ہے وہ آج سچ ثابت ہورہے ہیں ۔ مذکورہ رقم بلوچستان کے عوام کے پیسے ہیں جسے خرچ کرنے کے لئے کورٹ نے بھی مختلف سیکٹر ز پانی ، امن وامان ، لائیو سٹاک ، ایگریکلچر سمیت دیگر کی نشاندہی کرائی تھی ۔ اسمبلی میں ہم نے خشک سالی کے حوالے سے وفاق سے بات کرنے کے لئے کمیٹی بنانے کی بات کی تھی مگر بتایا گیا تھا کہ آج وزیراعلیٰ نہیں ہے اس کے علاوہ سیندک اور ریکوڈک پر کمیٹی بنائی گئی مگر آج تک اس کمیٹی کا کوئی ایک اجلاس تک نہیں بلایا جاسکا ہے ۔ صوبے میں بدامنی کی ایک نئی لہر شروع ہوچکی ہے ایک مہینے کے دوران مستونگ ، گوادر ، حرمزئی ، سٹیلائٹ ٹاﺅن سمیت مختلف علاقوں میںدہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے ہیںمگر حکومت اب بھی ٹھس سے مس نہیں ہورہی ۔ ملک نصیر شاہوانی کا کہنا تھا کہ ہونا تو یہ چاہےے تھا کہ بجٹ تیار کرنے سے پہلے حکومت اپوزیشن سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد سے تجاویز لیتی اور انہیں بجٹ پراسس میں شامل کرتی مگر ایسا کچھ نہیں کیا گیا ۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ زیرے نے کہا کہ اس وقت ملک اور صوبے میں نااہل ترین حکومتیں قائم ہیں 88 ارب کے ترقیاتی بجٹ میں سے صرف چند ہی ارب روپے خرچ کئے گئے باقی تمام لیپس ہوگئے ہیں اگر یہ رقم صوبے کی ترقی پر خرچ کی جاتی تو اس سے صوبے کو بہت فائدہ ہوتا ۔ جہاں سکول بنناتھا وہاں سکول نہ بن سکا ، جہاں روڈ بننا تھا وہاں روڈ نہ بن سکا ، جہاں ٹیوب ویل کی ضرورت تھی وہاں ٹیوب ویل نہیں ۔ چار پانچ ماہ سے چمن ، قلعہ سیف اللہ ، سنجاوی ہرنائی ، گوادر ، کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں بدامنی کے واقعات رونما ہوچکے ہیں ۔ گزشتہ روز گوادر کے پی سی ایریاجو کہ محفوظ ترین علاقہ ہے وہاں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہونا سوالیہ نشان ہے کہاجاتا ہے کہ لیویز فورس کو ختم کیا جائے مگر پی سی ہو ٹل گوادر کے علاقے میں 5 سیکورٹی ادارے کام کررہی ہیں پھر بھی وہاں دہشت گردی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم لیویز فورس کو ختم کرنے کے خلاف ہیں ۔ وزیراعظم نے خود کہا تھا کہ اگر ڈالر کی قدر بڑھ جائے اور روپے کی قدر میں کمی واقع ہو تو قرضوں میں اربوں روپے کا اضافہ ہوتا ہے اور آج ڈالر 145 روپے تک پہنچ چکا ہے ۔ ملک کو آئی ایم ایف کو گروی رکھ دیا گیا ہے جس کے بعد ملک میں مزید مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے اور لوگ مہنگائی کے چکی میں مزید پسیں گے ۔ مہنگائی اور بدامنی کے باعث سب سے زیادہ تاجر برادری متاثر ہوتی ہے ا س لئے ہم نے تاجران کو اعتماد میں لے کر 17 مئی کو شٹرڈاﺅن اور احتجاجی مظاہرے کا فیصلہ کیا ۔ اس موقع پر انجمن تاجران کے صدر رحیم کاکڑ نے کہاکہ جب سے موجودہ حکومت قائم ہواہے تب سے بدامنی میں اضافہ ہوا ہے صوبے میں ترقیاتی کام رک گئے ہیں جس سے تاجر برادری براہ راست متاثر ہورہی ہے ۔ صوبے میں باقی تینوں صوبوں سے مسترد شدہ گیس کے میٹرز یہاں لگائے گئے ایک طرف گیس کی قیمتوں میںبے تحاشا اضافہ کیا گیا دوسری طرف تیز ترین میٹرز کی تنصیب کرائی گئی اس سلسلے میں ہم نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے بارہان ملاقات کی کوشش کی مگر ہمیںملاقات کا موقع نہیں دیا جارہا ہے تاجروں کو ماہانہ 30 سے 50 ہزار روپے کا بل آتا ہے ۔ ہمارے ساتھ وعدہ کیاگیا تھا کہ تمام سڑکوں کے تھڑے بنائے جائیں گے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا جس کے باعث ہم نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اعلان کردہ احتجاج کی بھر پور حمایت کا فیصلہ کیا اور اپوزیشن کے کسی بھی احتجاج کو کامیاب بنانے میں ساتھ دیں گے ۔ اختر حسین لانگو نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان کے افغانستان اور ایران جانوروں کی اسمگلنگ کی جارہی ہے تمام راستوں پر قائم چیک پوسٹوں میں سے ہر ایک چیک پوسٹ پر لوگوں سے بھتہ لے کر انہیںجانور اسمگل کرنے دیا جارہا ہے بلکہ پنجاب کے بڑے بڑے سلاٹر ہاﺅسز کو بھی کوئٹہ کی منڈی سے جانوروں کی سپلائی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے یہاں کے قصائیوںکو مہنگے داموں جانور مل رہے ہیںاس لئے وہ گوشت مہنگے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close