حکمرانوں نے بلوچستان کے وسائل کو ذاتی مقاصد کےلئے استعمال کیا،وزیراعظم عمران خان

0

- Advertisement -

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہاہے کہ سی پیک کے مغربی روٹ کو بہت پہلے بنایاجاناچاہےے تھا یہ روٹ بلوچستان کو ہی نہیں بلکہ ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں کو بھی آپس میں منسلک کرکے ترقی کی راہ پرگامزن کریگا ،ماضی میں حکمرانوں نے بلوچستان کے وسائل کو ذاتی مقاصد کےلئے استعمال کیا، پرانے پاکستان کے طریقوں نے ہی ملک کو کنگال کیا ہے،پاکستان میں اب تبدیلی کی سوچ ہے، ملک کو فرسودہ نظام سے نکال کر تبدیلی لائیں گے، کوئٹہ ماسٹر پلان پر صوبائی حکومت کے ساتھ مل کرکام کرینگے ،گورننس کی بہتری کیلئے بلدیاتی نظام کو مزید مضبوط کرناہوگا،پاکستان اور بلوچستان کی ترقی ہماراوژن ہے اگلے انتخابات میں کامیابی نہیں بلکہ ملک کی مجموعی ترقی ہمارا نصب العین ہے ،بلوچستان حکومت اور فوج کے ساتھ مل کر صوبے میں کینسر انسٹیٹیوٹ بھی بنائیں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ میں بلوچستان ہیلتھ کمپلیکس اورکوئٹہ ژوب شاہراہ کی سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پراس موقع پر گورنربلوچستان امان اللہ یاسین زئی، وزیراعلیٰ جام کمال خان ،صوبائی وزراء،اراکین اسمبلی ،صوبائی سیکرٹری سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے ۔وزیراعظم پاکستان عمران خان کاکہناتھاکہ مجھے خوشی ہے کہ بلوچستان کو جام کمال خان کی صورت میں ایک ایسا وزیراعلیٰ ملاہے جو اپنے لوگوں کا درد رکھتاہے اس سے قبل بھی بلوچستان آتارہاہوں ،تقاریر بھی سنتاآیاہوں ،انسان جیسا دل سے بات کرتاہے تو اس کااثر ہوتاہے ویسے تقاریر تو سب کرتے ہیں بلوچستان کا صوبہ خوش قسمت ہے کہ انہیں جام کمال جیسا وزیراعلیٰ ایسے وقت میں ملاہے جب پورے پاکستان میں تبدیلی کی سوچ پائی جاتی ہے۔ پرانے پاکستان میں ملک کو ایک ہی راستے پر چلایاجارہاتھا جو تباہی کا تھا ،ملک کو کنگال کردیاگیا ۔اس وقت قرضوں کی سود کی مد میں روزانہ 6سو ارب روپے کی ہم ادائےگی کررہے ہیں ملک کو مقروض کرکے صرف اشرفیہ کیلئے سہولیات فراہم کی جاتی ہے جب کہ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ جان ومال کا تحفظ ،تعلیم ،صحت ،پانی اور روزگار کی عوام کو فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری اور ہر شہری کا بنیادی حق ہے جب یہ سہولیات صرف اشرفیہ کیلئے ہوتی ہے تو شہری محروم ہوجاتے ہیں انہوں نے کہ اکہ بلوچستان کا کیس اس لئے خصوصی ہے کہ ملک میں سیاست صرف الیکشن جیتنے کیلئے ہوتی ہے اور اس میں بلوچستان پیچھے رہ جاتا ہے۔ کیونکہ صرف فیصل آباد ڈویژن کی سیٹیں بلوچستان سے زیادہ ہیں ،لوگ طاقت کیلئے الیکشن لڑتے ہیں وہ بلوچستان کی ضرورت کو محسوس نہیں کرتے ،پچھلے حکمرانوں نے بلوچستان سے 5گنازیادہ لندن کے دورے کئے ،انہوں نے کہاکہ این ایف سی کے تحت بلوچستان کو رقوم ملی اس کا ثمر نچلی سطح تک نہیں پہنچ پائے پیسہ عوام کی طرف جانے کی بجائے تھوڑے لوگوں کی طرف جاتاہے اسی لئے چھوٹا ساطبقہ امیر تر ہوگیاہے جبکہ غریب عوام کی حالت زار تبدیل نہیں ہوئی ،انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کاشکریہ اداکیا اورکہاکہ ان کی کوششوں سے ہی یہ کارڈیک انسٹیٹیوٹ پروجیکٹ بنایاگیا ،دنیا میں بڑی تعداد میں لوگ لوگ امراض قلب یا کینسر سے مرتے ہیں ۔پورے بلوچستان میں امراض قلب کاایک ہسپتال نہیں ہوتا تھا آرمی چیف نے یو اے ای سے اپنے روابط سے فنڈنگ کا بندوبست کیا اور فوج نے اس پر کام کیایہ صوبے کی عوام کی بڑی ضرورت تھی جس پر جنرل قمر جاوید باجوہ تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ فوج کے ساتھ مل کر اس ہسپتال کے ساتھ کینسر کے علاج کیلئے بھی ہسپتال بنائے ۔یہاں سے کینسر کے مرض میں مبتلا مریضوں کو لاہور جاناپڑتاہے جو تکلیف دہ ہے ،اس سلسلے میں ہم پہلے سے ہی سوچ رہے تھے ،انہوں نے کہاکہ کینسر اور دل کے امراض کیلئے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے ،ماہرین کو یہاں لانا مشکل تھا کیونکہ امراض قلب اور کینسر کے ماہرین کی پوری دنیا میں کمی ہے عمارت بنانا مشکل نہیں عمارت تو بن سکتی ہے لیکن مین پاور کی کمی اصل مسئلہ ہے فوج اور صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر ہم بلوچستان کیلئے کینسر انسٹیٹیوٹ شروع کرینگے ۔انہوں نے کہاکہ مغربی روٹ پر 305کلومیٹر کوئٹہ سے ژوب تک سڑک کے اس منصوبے سے بڑی تبدلی آئے گی۔ یہ اصل گیم چینجر منصوبہ ہے جسے حقیقت میں اس علاقے میں بڑی تبدیلی آئےگی ،یہ ایک زبردست منصوبہ ہے یہ صرف بلوچستان کیلئے ہی نہیں بلکہ سارے ملک کے پسماندہ علاقوں کو جوڑے گا مغربی روٹ کو پہلے بناناچاہےے تھا سی پیک کی بڑی وجہ یہ تھی کہ مغربی چائنا مشرقی چائنا سے پیچھے رہ گیا تھا اس لئے چائنا نے پاکستان کے ساتھ مل کر سی پیک منصوبہ شروع کیا ہمیں بھی اپنے مغربی علاقوں کو اولیت دینی چاہےے تھی یہ روٹ ڈی آئی خان اور فاٹا سب سے گزر کر آگے جائے گااس منصوبے سے بڑی تبدیلی آئےگی یہاں تجارتی مراکز اور اقتصادی زونز بنیںگے بلکہ بلوچستان کے وسائل کو بھی استعمال میں لایاجائےگا۔انہوں نے کہاکہ ہم کوئٹہ سے تفتان ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کرنے کا بھی پروگرام رکھتے ہیں اس سلسلے میں شیخ رشید احمد اور ان کی ٹیم کام کررہی ہے اس منصوبے پر آنے والے دنوں پر مزید کام کرینگے انہوں نے کہاکہ کوئٹہ ماسٹر پلان بنانا بہت ضروری ہے 30سالوں سے کوئٹہ کو دیکھتاآرہاہوں کہ کوئٹہ پھیلتاجارہاہے ،سارے پاکستان کے شہروں کے ماسٹرپلان نہیں ہمارے جہاں جہاں حکومتیں ہیں ہم وہاں کے بڑے شہروں کیلئے ماسٹرپلان بنارہے ہیں ہم اسلام آباد لاہور اور ماسٹرپلانوں پر کام کررہے ہیں کیونکہ اس کے بغیر لوگوں کو سہولیات کی فراہمی نہیں کی جاسکتی ۔عوام کو پانی ،سیوریج اور صفائی نظام میں بہتری بھی نہیں لائی جاسکتی ،دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں ایسا نہیں ہوتا ہم حکومت بلوچستان کے ساتھ مل کر کوئٹہ پلان ماسٹر پلان بنائیںگے ،کوئٹہ میں پانی بحران بڑھتا جارہاہے جس پر قابو پانے کیلئے سیوریج لائنوں کے پانی کو ریل سائیکل اور ڈیمز کے منصوبے بنائے جائینگے کوئٹہ شہر جیتنا پھیلے گا اتنی ہی عوام کو سہولیات کی فراہمی میں مشکلات آئیں گی اس لئے ہمیں بروقت اقدامات اٹھانے ہونگے ،انہوں نے کہاکہ کوئٹہ شہر فضاءسے خوبصورت نظر نہیں آتا یہاںدرخت لگانا بھی بہت ضروری ہے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے لوگوں کو اقلیت میں تبدیل ہونے کا خوف ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ باہر کے لوگ نوکریاں لے جائیںگے اس لئے ہم تکنیکی تعلیم کی فراہمی کیلئے ادارے بنارہے ہیں ان اداروں کی تعداد زیادہ ہونی چاہےے گوادر میں وقت کے ساتھ مزید ہنر مند افراد کی ضرورت بڑھے گی افرادی قوت تربیت یافتہ نہ ہوگی تو باہر سے لوگوں کو لانا پڑے گا اس لیے مقامی لوگوں کو ہنر مند بنانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلی بلوچستان سے باقی مسائل بھی ڈسکس کرینگے کہ ہم نے بلوچستان کو ترقی دینے کیلئے اور کیا کیا قدم اٹھانے ہیں۔ میری یہ تجویز ہے کہ بلوچستان جتنا بڑا ہے اس کیلئے بلوچستان میں صوبائی حکومت کو مضبوط بلدیاتی نظام لانا ضروری ہے۔ موجودہ نظام لوگوں کو سہولیات فراہم نہیں کرسکتا۔ انتظامی اور گورننس کی بہتری کیلئے لوکل گورنمنٹ کو بہتر بنانا ضروری ہے ہم نے سارے پاکستان کے لوکل گورنمنٹ کے نظام کے جائزہ لینے کے بعد خیبر پشتونخوا میں بلدیا تی نظام بہتر بنایا خیبر پشتونخوا میں نچلی سطح پر فنڈز خرچ ہونے سے وہاں بہتری آئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ پیسہ اوپر سے نیچے نہیںپہنچ پا تا ۔خیبر پشتونخوا میں ہم نے ویلیج کونسل کے ذریعے جب گاﺅں کے لوگوں کو براہ راست فنڈزدیئے تواس سے بڑی تبدیلی آئی۔نچلی سطح کی ضروریات مقا می لوگ خود ہی بہتر محسوس کر سکتے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہماری سوچ بلوچستان کی ترقی کے لئے ہے ۔ وفاقی حکومت یہ فیصلہ کرکے آئی ہے کہ ہم نے پاکستان کی ترقی کرنی ہے ہم نے اگلے الیکشن کا نہیں سوچنا۔ ہم نے یہ نہیں سوچنا کہ اگلے الیکشن جیتنے کیلئے کونسے فلیگ شپ منصوبے اور کونسا فیتے کا ٹنے ہیں بلکہ ہم مجموعی ترقی چاہ ر ہے ہیں جس سے پاکستان آگے آئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جتنی ترقی کی استعداد موجودہ ہے اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ بلوچستان کو ترقی دے کر ہم پورے ملک کو ترقی دے سکتے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کاکہناتھاکہ سی پیک بلوچستان اور ملک کیلئے ہی نہیں پورے خطے کیلئے گیم چینجر ہے ،بلوچستان ہیلتھ کمپلیکس صوبائی حکومت اور پاک فوج کا مشترکہ منصوبہ ہے ،سی پیک سے بلوچستان کی عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدے کی امید ہے بلوچستان کے علاقے علاج معالجے کیلئے کراچی کا رخ کرتے ہیں آج بھی صوبے میں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں ،ہیلتھ کمپلیکس سے بلوچستان کے لوگوں کی صحت کے مسائل میں مدد ملے گی ،انہوں نے کہاکہ اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے ،وفاقی سطح پر تحریک انصاف کی حکومت کو جن چیلنجز کاسامناہے ،بلوچستان کی حکومت کو بھی صوبائی سطح پر ویسے ہی چیلنجز درپیش ہیں ماضی میں بلوچستان سے متعلق نہیں سوچا گیا صرف چند لوگوں کا مفاد سوچا گیا ،ماضی میں کچھ ایسے فیصلے کئے گئے جسے تمام مرکز کوئٹہ تک محدود ہوگیا وزیراعظم نے صوبے کے مسائل کے حل کیلئے بہت کوششیں کی ہے بلکہ وہ بلوچستان کی ترقی اور مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے ،انہوں نے کہاکہ ہم نے 8ماہ میں گورننس کو ٹھیک کیا بلکہ صوبے کی ترقی کے سمت کا تعین بھی کیاماضی میں بلوچستان میں مصنوعی سیاست کی گئی اس صوبے کی محرومیوں کی بڑی وجہ نظراندازی ہے بلوچستان کے لوگ اپنے مسائل کے حل کیلئے کوئٹہ کا رخ کرتے ہیں یہاں کے لوگ بہت بڑا جذبہ رکھتے ہیں ،ماضی میں مصنوعی سیاست رہی ہے اس لئے اصلاحات پر بہت کم کام کیاگیاہے اس لئے ہمیں بلوچستان کی معاملات اور ضروریات کو تھوڑا ہٹ کردیکھنا ہوگاآج کا بلوچستان ماضی کے بلوچستان سے مختلف ہے ،بلوچستان کے لوگوں نے تمام چیلنجز کا مقابلہ کیاہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.