
- Advertisement -
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے زیرتعمیر ایئرپورٹ روڈ نوا کلی لنک کے توسیعی منصوبے کا معائنہ کیا جہاں انہیں کمشنر کوئٹہ ڈویژن عثمان علی نے منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی، وزیراعلیٰ نے منصوبے کی جلد تکمیل کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں سڑکوں کی تعمیر ، توسیع اور مرمت کے منصوبوں کا مقصد ٹریفک دبا¶ کو کم کرنا اور عوام کو سہولت کی فراہمی ہے لہٰذاان منصوبوں کو بروقت مکمل کرکے ٹریفک کے نظام کی بہتری کو ممکن بنایا جائے، وزیراعلیٰ نے تعمیراتی کاموں کے معیار کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی، انہوں نے کہا کہ وہ سڑکوں کے تعمیراتی منصوبوں کا معائنہ کرتے رہیں گے، وزیراعلیٰ نے ایئرپورٹ روڈ کی توسیع کے منصوبے کے ڈیزائن میں بعض تبدیلیوں کی ہدایت بھی کی، صوبائی مشیر ملک نعیم بازئی بھی اس موقع پر موجودتھے۔ دریں اثناءوزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور نصف حصہ کو نظر انداز کر کے ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ معاشرے کی پسماندگی دور کرنے اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے ضروری ہے کہ خواتین کے احترام اور تمام معاملات میں ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خواتین کے حقوق کا پورا احترام کرتی ہے اور خواتین کو برابر کے شہری کی حیثیت دینے کی غرض سے بلوچستان اسمبلی میں قانون سازی بھی کی گئی ہے جس میں وراثت کے قانون کے تحت خواتین کو ان کے حصے کی منتقلی کے تحفظ کا قانون بھی شامل ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ خواتین معاشی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں بالخصوص بلوچستان کی خواتین کشیدہ کاری اور گھریلو صنعتوں میں کام کرتے ہوئے اپنے خاندانوں کی کفالت کررہی ہیں جبکہ ان کی تیار کردہ مصنوعات بین الاقوامی سطح پر بھی شہرت رکھتی ہیں،حکومت خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کی مارکیٹنگ کے لئے بھرپور تعاون فراہم کرے گی اس حوالے سے محکمہ وویمن ڈویلپمنٹ کو خواتین کے لئے مخصوص مارکیٹ کے قیام کا منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملازمتوں میں خواتین کے مختص کوٹہ پر عملدرآمد اور ان کے لئے کام کرنے کے بہتر ماحول کی فراہمی کو یقینی بناکر خواتین کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا اور صوبے کی باصلاحیت خواتین کھلاڑیوں کی بھی بھرپور سرپرستی جاری رکھی جائے گی، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق خواتین کے حقوق کے تحفظ اور احترام کو مستحکم کرنے کیلئے صوبائی حکومت کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔