
- Advertisement -
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں تیز ہواو¿ں کے ساتھ گھنٹوں تک جاری رہنے والی موسلادھار بارشوں اور برفباری نے تباہ مچا دی،صوبائی دارالحکومت کوئٹہ،چمن ،خضدار ،پشین ،دالبندین اور بیلہ میں کمروںکی چھتیں گرنے ،سیلابی ریلوں میں بہہ جانے سے بچوں سمیت 7افراد جاںبحق جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 50افراد زخمی ہوگئے ہیں مختلف اضلاع بڑے پیمانے پر گھروں، عمارتوں، پلوں، سڑکوں اور ڈیموں کو بھی نقصان پہنچا ہیں جس کی وجہ سے مختلف علاقوں اور اضلاع کا ایک دوسرے سے زمینی رابطے مکمل طور پر منقطع ہو گئے ہیں،جمعہ کی رات سے شروع ہونے والے تیز باد و باراں اور برفباری نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ، قلعہ عبداللہ، پشین، توبہ کاکڑی، توبہ اچکزئی، زیارت کان مہترزئی سمیت دیگر اضلاع میں بڑے پیمانے پر پلوں ڈیموں، شاہراو¿ں اور گھروں و عمارتوں کو نقصانات پہنچائے ۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ شب شروع ہونے والی بارش اور برف باری وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہی جس کی وجہ سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں خشک سالی کاخطرہ بھی ٹل گیاہے ،بلوچستان کے مختلف علاقوںوادی زیارت کوئٹہ ،پشین ،قلعہ عبداللہ خانوزئی ،کان مہترزئی ،مسلم باغ،ژوب ،لک پاس ودیگر علاقوں میں ہونے والی برف باری اور بارشوں کی وجہ سے اکثر شاہراہیں ٹریفک کیلئے بند ہوگئی ہیں ضلعی انتظامیہ کے حکام نے فوری طورپر مذکورہ علاقوں میں قومی شاہراہوں کی بندش کانوٹس لیتے ہوئے شاہراہوں کے کھولنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات شروع کردئےے ہیں ۔صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے کلی شیخان میں گزشتہ شب شروع ہونے والی برفباری اور بارش سے کھڈے میں واقع کچھی آبادی شدید متاثر ہو گئی ہے بارش اور برف باری سے کچھی آبادی کے 15 گھروں کو نقصان پہنچا ہے جب کہ کئی گھروں میں پانی داخل ہونے کی اطلاعات ہیں جس پر ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن میر فاروق لانگو نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ علاقے میں کارپوریشن عملے کو پہنچنے کی ہدایت کردی ہے اور مزکورہ گھروں سے پانی نکالنے اور امدادی کارروائیاں ہنگامی بنیادوں پر شروع کرنے کے احکامات جاری کیے مزکورہ کچھی آبادی میں مکان منہدم ہونے سے ایک بچہ خان محمد ولد جمال اور ایک خاتون زخمی ہوگئی ہیں جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔کوئٹہ میں متعدد درخت اکھڑنے بجلی کے تار اور کھمبے گرگئے ہیں جبکہ قلعہ عبداللہ میں گلستان کے علاقے میں 220 کے وی کا کھمبا گرگیا جس کے بعد گلستان کو بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی ۔ اس کے علاوہ قلعہ عبداللہ ہی کے علاقے کلی عبدالرحمن زئی میں 12گھروں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ گاﺅں کے ٹیوب ویل اور قبرستان پانی میںڈوب گیا ، پانی گھروں کے اندر داخل ہونے کے باعث لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کا کام شروع کردیا اور رات گئے تک لوگ گھروں سے پانی نکالتے رہے۔ نوشکی میں الصبح پانچ بجے نوشکی کیشنگی گلنگور، گوری اور گردنواح میں موسلادار بارش کا سلسلہ شروع ہوا جو وقفہ وقفہ سے جاری رہا جسکی وجہ سے گلیاں ندی نالوں کی شکل اختیار کر گئے۔ نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ڈپٹی کمشنر نوشکی عبدالرزق بلوچ نے با رش سے متاثر علاقوں کا دورہ کیا۔ اور حفاظتی اقدامات کے لئے ضروری ہدایات دی انھوں نے بتایاکہ مل، کو چکی ا، حمد وال، قادر آباد قاضی آباد میں سینکڑوں مکانات اور کچی دیواریں گر گئیں ہیں۔ تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے کمانڈنٹ نوشکی ملیشا کرنل اظہر علی شہراز اور کرنل محمد آصف نے خیصار نالہ اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔ دوسے نالہ میں سیلابی ریلہ آنے سے دو گھنٹے تک آر سی ڈی شاہراہ ٹریفک بند رہی۔ کوئٹہ زاہدان ریلوے لائن میں شگاف پڑنے سے پاکستان کا ایران سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ طوقی آباد کے قریب نالہ میں گاڑی سیلابی ریلہ میں بہہ گئی۔ تاہم ڈرائیور محفوظ رہا۔ احمد وال میں ۱۱ ہزار کے وی کا تار ٹوٹنے سے جانوروں کے باڑ میں ۰۲ جانور ہلاک ہونے کی اطلاع ملی ہے بجلی بھی غائب ر ہی جسکی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈپٹی کمشنر نے کسی بھی ایمرجنسی سے نمنٹنے کے لئے ڈی سی آفس میں کنٹرول رول بھی قائم کر دیا گیا ہے۔قلعہ عبداللہ میں گزشتہ شب سے شروع ہونے والی برف باری اور بارش کاپانی رہائشی مکانات اور دکانوں میں داخل ہوگئے ،گھروں میں سیلابی ریلہ داخل ہوتے ہی شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کا کام شروع کردیا اور خواتین وبچوں کو سیڑھیوں کے ذریعے سے گھروں سے نکال دیا اور انہیں آر ایچ سی قلعہ عبداللہ کے ڈاکٹرز کالونی سمیت قریب کے دیہات میں منتقل کردیئے گئے اور وہاں پناہ لے لی،انتظامیہ کو اس کی اطلاع دیں دی گئی ،تاہم سیلابی ریلے رکاﺅٹ بنے ،لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کے کام میں حصہ لیا ،سیلابی ریلے کا پانی ہائی سکول قلعہ عبداللہ بھی داخل ہوگئے اور سکول سمندر کا منظر پیش کرنے لگا ،،تیز سیلابی ریلے نے کوئٹہ چمن شاہراہ پر واقع مشہور باغک پل کو بھی بہا کر لے گیا جس سے کوئٹہ چمن شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوکر رہ گئی اور ضلع کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں مکانوں کے مہندم ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہورہی ہیں،تاہم اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ نے لیویز اہلکاروں کی مدد سے ٹریفک کو متبادل راستے سے بحال کردیا،رات سے قلعہ عبداللہ شہر کا زمینی رابطہ ملک بھر سے کٹ کر رہ گیا ،ایک موقع پر شہر پر تباہی کے اثرات منڈ لانے لگے تاہم پانی کے مختلف سمتوں میں نکل جانے سے اثرات ختم ہوگئے ،سیلابی پانی سے شہر میں درجنوں گھر دیواریں اور دکانیں منہدم ہوگئے ہیں ،ایف سی نے متاثرین کو دوپہر کا کھانا پہنچایا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ جہانزیب شیخ اور ڈی ایس پی جمیل احمد نے لیویز اور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ صورتحال کا دن بھر جائزہ لیتے رہے ،دوسری جانب افغان قومی مومنٹ کے چیئرمین احمد خان اچکزئی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور منتخب عوامی نمائندوں کو عوام کی تکلیف اور مشکلات کو کوئی احساس ہی نہیں ہے قلعہ عبداللہ کے عوام گزشتہ رات سے اب تک سخت کوفت کا شکار ہے مگر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی یہاں عوام خود ریسکیوکے کام کررہے ہیں اور وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ آج اس مصیبت کی گھڑی میں یہاں موجود ہوتے مگر افسوس کہ ان کی راہ ابھی تک لوگ دیکھ رہے ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر قلعہ عبداللہ کو آفت زدہ قرار دیں ۔ دکی شہر وگردنواح کے علاقوں ناصرآباد ,تھل اسمعیل شہر ,یارو شہر ,بنی کوٹ ,ناناصاحب زیارت ,اور لونی کے مختلف علاقوں میں دو روز سے بارش کا سلسلہ جاری ہے .شدید بارش کی وجہ سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں. ناصر آباد کے علاقے میں کلی ضبطو خان ناصر میں سیلابی پانی زمین سرک جانے کی وجہ سے کوئلہ کانوں میں داخل ہونا شروع ہوگئی.واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر دکی اعجاز احمد جعفر اور اسسٹنٹ کمشنر دکی میران بلوچ اور میونسپل کمیٹی کے چیف آفیسر عبدال خان ترین موقع پر پہنچ گئے .ڈپٹی کمشنر دکی اعجاز احمد جعفر نے سیلابی پانی کو کوئلہ کانوں میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے ایف سی کو فوری طور پر طلب کرلیا .میونسپل کمیٹی کا عملہ اور مشینری جائے وقوعہ پر پہنچ گئے .ریسکیو آپریشن شروع کرکے سیلابی ریلے کی بہاو کا رخ تبدیل کرکے نکاسی آب کے مین نالے کی طرف کردیا گیا .ڈپٹی کمشز دکی اعجاز احمد جعفر کے مطابق زمین سرکنے کی وجہ سے پانی کوئلہ کانوں کے اندر داخل ہوگئی ہے .کوئلہ کانوں میں موجود مزدوروں کو فوری طور پر کانوں سے نکلنے کی ہدایت کرکے سیلابی پانی کا رخ مشینری کے ذریعے تبدیل کرکے برساتی نالے کی جانب تبدیل کردیا گیا.انہوں نے کہا کہ بروقت کاروائی کی وجہ سے سینکڑوں کوئلہ مزدوروں کو بچھا لیا گیا.شدید بارشوں کی وجہ سے کلی ضبطو خان ناصر سمیت دیگر علاقوں میں متعدد کچے مکانات کی دیواریں گرگئی ہیں .تاہم ابتک کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے .ڈپٹی کمشنر دکی اعجاز احمد جعفر نے اسسٹنٹ کمشنر دکی میران بلوچ کی نگرانی میں بارشوں سے نقصانات اور امدادی کاروائیوں کے لئے فوری طور پر کنٹرول روم قائم کرکے نمبر 0824666812 جاری کردیا ہے .انہوں نے کہا کہ عوام کسی مدد یا ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر کنٹرول روم پر رابطہ کرلیں ہم انکی ہرممکن مدد کرینگے ہرنائی کوئٹہ ہرنائی پنجاب قومی شاہراہیں برفباری کے باعث بند ہوگیاہے جبکہ ضلع ہرنائی کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہے ہرنائی میں چوبیس گھنٹے مسلسل بارش کے باعث ضلع کے مختلف علاقوں میں کچے مکانات کو نقصان پہنچے ہے ہرنائی کے علاقہ اسپین تنگی کلی چھاپ میں ایک دینی مدرسہ کے تین کمرے منہدم تاہم طلباءمحفوظ رہے ڈپٹی کمشنر عظیم جان دمڑ لیویز فورس کے ہمراہ ہرنائی کوئٹہ شاہراہ بحالی کےلئے چپررفیٹ کے مقام پہنچے اور شاہراہ کو کھولنے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی چمن شہر اور گردنواح میں تیز ہواو¿ں کے ساتھ بارش جاری ہے بارش کے باعث شہر کے گردنواح میں کئی کچے مکانات کے چھت اور دیواریں گرنے کی اطلاع چمن کے علاقے گلدار باغیچہ میں کچے مکان کا چھت گرنے سے دو بچے جاںبحق جبکہ 4 افراد زخمی ہو گئے برف باری سے کوئٹہ چمن شاہراہ مکمل طورپر بندحدنگاہ صفر ہوگئی ،ضلع خضدار میں کمرے کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاںبحق جبکہ تین زخمی ہوگئے ہیں اس کے علاوہ بیلہ میں کمرے کی چھت گرنے سے 6افراد زخمی ہوگئے ہیںجمعے کے روز سے جاری طوفانی بارشوں سے پشےن شہر اور انکے مضافات میں نشیبی علاقے اور سڑکیں زیر آب آگئیں جبکہ پشےن کے نواحی علاقے کلی ملکیار میں واقع ندی میں طغیانی آگئی پانی کا بہا¶ بڑھے سے کلی ملکیار سے ملحقہ پانچ دیہاتوں کو زمینی رابطہ منقطع ہوگیا دوسری طرف پشےن کے قریب سرخاب مہاجر کیمپ میں جاری سیلابی بارشوں سے وہاں دو سو کے قریب کچے مکانات منہدم ہوچکے ہیں تاہم سرخاب مہاجر کیمپ سے جانی نقصانات کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے حالیہ بارشوں سے کلی لمڑان ،کلی تراٹہ،کمالزئی،کربلا ،مچان،کلی بسو،سیمزئی،حرمزئی،خیر آباد،توبہ کاکڑی،ولمہ،زیارت،سرٹال،کچ یاسین زئی،خدائیدازئی،ہیکل زئی،سرانان ،شادیزئی،بٹے زئی،برشور ،خانوزئی،مندوزئی ،شادیزئی،بوستان اور گانگلزئی میں مختلف مکانات منہدم ہوگئے جبکہ پانی گھروں میں داخل ہوگیا سڑکیں اور گلیاں زیر آب آگئیں ۔تحصیل حرمزئی کے دیہات سیمزئی میں 65سالہ حاجی پیر محمد ولد حاجی محمد ظریف سیلابی ریلے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگیا ، حالیہ تیز اور طوفانی بارش سے ابراہیم زئی ڈیم ٹوٹ گیا جبکہ کلی علی زئی کا ڈیم گیارہ مقامات پر زمین بوس ہوگیا ان تمام صورتحال کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر میجر (ر) اورنگزیب بادینی نے ڈسٹرکٹ کے مختلف تحصیلوں کا دورہ کرکے بارش سے ہونیوالے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا اور متاثرہ ڈیم کے پانی رخ تبدیل کرکے علاقے کو تباہی سے بچادیا جبکہ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے محکمہ ایریگیشن سمیت دیگر متعلقہ محکموں کو بارشوں سے پیدا ہونیوالی صورتحال سے نمٹنے کی فوری ہدایت کی۔ ۔ضلع چاغی کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات موسلادھار بارش کے بعد دالبندین کلی محمدرحیم اور چاغی ضلع کے دیگر کلیوں میں دس سے زائد کچی مکانین اور چاردیواریاں متاثر ہوگئے بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی اور بارش کا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگئے ڈپٹی کمشنر چاغی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے لوگوں میں خیمے ودیگر ضروری سامان تقسیم کردیا دالبندین میں سیلابی ریلے نے ریلوے ٹریک کے چھ سو فٹ سے زائد ٹریک کو بہہ کر لے گیا ریلوے ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے زاہدان جانے والے دو مالبردار ٹرین کو روک دیا گیا ایک ٹرین کو پیشوک اور ایک ٹرین دالبندین اسٹیشن کے قریب روک دیا سیلابی ریلا رکھ جانے کے بعد ٹریک کا کام شروع کیا جائے گا لیویز زرائع کے مطابق گردی جنگل کے قریب سیلابی ریلے سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوا جسے مقامی ہسپتال منتقل کردیا لاش کی شناخت محمد ظاہر کے نام سے ہوا دالبندین،اور چاغی کے میدانی اور شہری علاقوں میں موسلدھار بارش کے بعد ندی نالے سیلاب کا منظر پیش کررہے تھے ضلع بھر میں ضلعی انتظامیہ نے لیویز فورس کو الرٹ کردیا اور ہلپ لائن نمبر بھی جاری کردیا ضلع بھر میں نقصانات کا جائزہ لینے کے لیئے لیویز فورس کا ٹیم مختلف علاقوں میں روانہ کردیا گیا سیلابی ریلے کی وجہ سے شہر کے اندر اور باہر جانے والے راستے بند رہے گلیوں میں پانی جمع ہوجانے کی وجہ سے پیدل چلنے اور نمازیوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور شہر کی سڑکیں سنسان رہے ڈپٹی کمشنر چاغی فتح محمد خجک کے مطابق ضلع بھر میں حالات کنٹرول میں کوئی نا خوشگوار واقع رونما نہیں ہوا ہے البتہ لوگوں کی کچی مکانین متاثر ہوئے ہیں انکی امداد کی جارہی ہے ۔قلعہ عبداللہ اور دیگر علاقوں میں گزشتہ رات بھر کے تیز بارش اور برفباری کے بعد پہاڑی علاقوں سے آنے والے سیلابی ریلہ شہر میں داخل ہوگیا جس سے درجنوں مکانات اور دکانیں تباہ ہوگئی جبکہ کوئٹہ چمن شاہراہ پر واقع مشہور باغک پل بھی سیلابی ریلے کی نظر ہوگیا ،سیلابی ریلوں کی وجہ سے قلعہ عبداللہ کا زمینی رابطہ منقطع ،پی ڈی ایم اے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ،لوگوں نے آر ایچ سی قلعہ عبداللہ سمیت دیگر رشتہ داروں کے گھروںمیں پناہ لے لی ،ایف سی نے متاثرین کو کھانا پہنچایا ،ریلوے پٹری کو سخت نقصان پہنچا،حکومت اور عوامی نمائندوں کو عوام کی تکلیف اور مشکلات کا کوئی احساس نہیں ہے چیئرمین افغان قومی مﺅمنٹ احمد خان اچکزئی کی گفتگو ،تفصیلات کیمطابق گزشتہ روز اور رات بھر شدید بارش کے بعد رات کو ایک بجے کے بعد پہاڑی علاقوں سے آنے والا سیلابی ریلہ کوئٹہ چمن شاہراہ پر پل نہ دیئے جانے کی وجہ سے شہر میں داخل ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پانی رہائشی مکانات اور شہر میں دکانوں میں داخل ہوگئے ،گھروں میں سیلابی ریلہ داخل ہوتے ہی شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کا کام شروع کردیا اور خواتین وبچوں کو سیڑھیوں کے ذریعے سے گھروں سے نکال دیا اور انہیں آر ایچ سی قلعہ عبداللہ کے ڈاکٹرز کالونی سمیت قریب کے دیہات میں منتقل کردیئے گئے اور وہاں پناہ لے لی،انتظامیہ کو اس کی اطلاع دیں دی گئی ،تاہم سیلابی ریلے رکاﺅٹ بنے ،لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کے کام میں حصہ لیا ،سیلابی ریلے کا پانی ہائی سکول قلعہ عبداللہ بھی داخل ہوگئے اور سکول سمندر کا منظر پیش کرنے لگا ،جس سے سکول میں پڑی کتابیں بھی ضائع ہوگئی ،پی ڈی ایم اے شہریوں کی مدد کو نہیں پہنچ سکی اور اس کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ،تیز سیلابی ریلے نے کوئٹہ چمن شاہراہ پر واقع مشہور باغک پل کو بھی بہا کر لے گیا جس سے کوئٹہ چمن شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوکر رہ گئی تاہم اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ نے لیویز اہلکاروں کی مدد سے ٹریفک کو متبادل راستے سے بحال کردیا،رات سے قلعہ عبداللہ شہر کا زمینی رابطہ ملک بھر سے کٹ کر رہ گیا ،ایک موقع پر شہر پر تباہی کے اثرات منڈ لانے لگے تاہم پانی کے مختلف سمتوں میں نکل جانے سے اثرات ختم ہوگئے ،سیلابی پانی سے شہر میں درجنوں گھر دیواریں اور دکانیں منہدم ہوگئے ہیں ،ایف سی نے متاثرین کو دوپہر کا کھانا پہنچایا جبکہ اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ جہانزیب شیخ اور ڈی ایس پی جمیل احمد نے لیویز اور پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ صورتحال کا دن بھر جائزہ لیتے رہے ،دوسری جانب افغان قومی مومنٹ کے چیئرمین احمد خان اچکزئی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور منتخب عوامی نمائندوں کو عوام کی تکلیف اور مشکلات کو کوئی احساس ہی نہیں ہے قلعہ عبداللہ کے عوام گزشتہ رات سے اب تک سخت کوفت کا شکار ہے مگر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی یہاں عوام خود ریسکیوکے کام کررہے ہیں اور وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ آج اس مصیبت کی گھڑی میں یہاں موجود ہوتے مگر افسوس کہ ان کی راہ ابھی تک لوگ دیکھ رہے ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر قلعہ عبداللہ کو آفت زدہ قرار دیں ۔ دکی شہر وگردنواح کے علاقوں ناصرآباد ،تھل اسمعیل شہر ،یارو شہر ،بنی کوٹ ،ناناصاحب زیارت اور لونی کے مختلف علاقوں میں دو روز سے بارش کا سلسلہ جاری ہے ،شدید بارش کی وجہ سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ ناصر آباد کے علاقے میں کلی ضبطو خان ناصر میں سیلابی پانی زمین سرک جانے کی وجہ سے کوئلہ کانوں میں داخل ہونا شروع ہوگئی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر دکی اعجاز احمد جعفر اور اسسٹنٹ کمشنر دکی میران بلوچ اور میونسپل کمیٹی کے چیف آفیسر عبدال خان ترین موقع پر پہنچ گئے ۔ڈپٹی کمشنر دکی اعجاز احمد جعفر نے سیلابی پانی کو کوئلہ کانوں میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے ایف سی کو فوری طور پر طلب کرلیا ۔میونسپل کمیٹی کا عملہ اور مشینری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ۔ریسکیو آپریشن شروع کرکے سیلابی ریلے کی بہاو کا رخ تبدیل کرکے نکاسی آب کے مین نالے کی طرف کردیا گیا ۔ڈپٹی کمشز دکی اعجاز احمد جعفر کے مطابق زمین سرکنے کی وجہ سے پانی کوئلہ کانوں کے اندر داخل ہوگئی ہے ۔کوئلہ کانوں میں موجود مزدوروں کو فوری طور پر کانوں سے نکلنے کی ہدایت کرکے سیلابی پانی کا رخ مشینری کے ذریعے تبدیل کرکے برساتی نالے کی جانب تبدیل کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بروقت کاروائی کی وجہ سے سینکڑوں کوئلہ مزدوروں کو بچھا لیا گیا۔شدید بارشوں کی وجہ سے کلی ضبطو خان ناصر سمیت دیگر علاقوں میں متعدد کچے مکانات کی دیواریں گرگئی ہیں ۔تاہم ابتک کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ڈپٹی کمشنر دکی اعجاز احمد جعفر نے اسسٹنٹ کمشنر دکی میران بلوچ کی نگرانی میں بارشوں سے نقصانات اور امدادی کاروائیوں کے لئے فوری طور پر کنٹرول روم قائم کرکے نمبر 0824666812 جاری کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کسی مدد یا ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر کنٹرول روم پر رابطہ کرلیں ہم انکی ہرممکن مدد کرینگے ۔ شہر اور گرد و نواح میں 22 گھنٹوں سے جاری موسلادار بارش کیوجہ سے شہر دریا کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر اعجاز احمد جعفر نے کنٹرول روم قائم کرکے شہر کے متاثرہ علاقوں شادوزئی محلہ، اسسٹنٹ کمشنر ہاوس ، مزدور چوک چھاونی محلہ ، ٹی وی بوسٹر روڈ ، غریب آباد اور دیگر علاقوں کا دورہ کرکے ریسکیو کا عمل شروع کردیا ہے۔ شادوزئی محلہ اور اسسٹنٹ کمشنر ہاوس کا پانی مزدور چوک کے مقام پر مین ہولز بند ہونے کیوجہ سے بارش کا ساری پانی اسسٹنٹ کمشنر ہاوس میں داخل ہورہا تھا جسکا اخراجی راستہ مین ہولز بند ہونے کیوجہ سے بند تھا جس پر میونسپل کمیٹی کے عملے نے کام شروع کرکے پانی کے اخراج کا راستہ کھول دیا۔ جبکہ غریب آباد میں جمع پانی کو نکالنے کیلئے بھی کام فوری شروع کرکے بارش کے پانی کیلئے متبادل راستہ بنا دیا گیا ہے چھاونی محلہ سے اطلاع ملنے پر ڈپٹی کمشنر جائے موقع پر پہنچے تو ایک گھر روڈ سے نیچے ہونے کیوجہ سے بارش کا پانی اس گھر میں داخل ہورہا تھا جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے ریسکیو ٹیم کو ہدایت دی کہ پانی کا رخ موڑ دیا جائے جس پر کام شروع ہو چکا ہے۔ دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر اعجاز احمد جعفر کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر میران بلوچ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی عبدال خان ترین تحصیلدار عبدالمجید جوگیزئی رسالدار اسرار احمد ترین اور دیگر بھی موجود تھے۔ اسموقع پر ڈپٹی کمشنر اعجاز احمد جعفر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کنٹرول روم قائم کرکے نمبر جاری کردیا ہے۔ ہر قسم کے حالات سے ہماری ٹیمیں ہمہ وقت تیار ہیں عوام کو جہاں بھی بارش اور بارش کے پانی سے کوئی مشکل یا مسئلہ درپیش ہو ہمیں فوری آگاہ کریں میں خود ریسکیو ٹیم کی سربراہی کررہا ہوں شہر کے بند نالوں کو کھولا جا چکا ہے مزید بھی ہر مشکل سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ چاغی میں موسلادھار بارش کے بعد 10 سے زائد کچی مکانین متاثر , ایک شخص کی لاش سیلابی ریلے سے برآمد ، 6 سو فٹ سے زائد ریلوے ٹریک متاثر ہوگیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ضلع چاغی کے مختلف علاقوں میں گزشتہ رات موسلادھار بارش کے بعد دالبندین کلی محمدرحیم اور چاغی ضلع کے دیگر کلیوں میں 10 سے زائد کچی مکانین اور چاردیواریاں متاثر ہوگئے بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی اور بارش کا پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگئے ڈپٹی کمشنر چاغی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے لوگوں میں خیمے ودیگر ضروری سامان تقسیم کردیا دالبندین میں سیلابی ریلے نے ریلوے ٹریک کے چھ سو فٹ سے زائد ٹریک کو بہہ کر لے گیا ریلوے زرائع کے مطابق کوئٹہ سے زاہدان جانے والے دو مالبردار ٹرین کو روک دیا گیا ایک ٹرین کو پیشوک اور ایک ٹرین دالبندین اسٹیشن کے قریب روک دیا سیلابی ریلا رکھ جانے کے بعد ٹریک کا کام شروع کیا جائے گا ۔ لیویز زرائع کے مطابق گردی جنگل کے قریب سیلابی ریلے سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوا جسے مقامی ہسپتال منتقل کردیا لاش کی شناخت محمد ظاہر کے نام سے ہوا دالبندین،اور چاغی کے میدانی اور شہری علاقوں میں موسلادھار بارش کے بعد ندی نالے سیلاب کا منظر پیش کررہے تھے ضلع بھر میں ضلعی انتظامیہ نے لیویز فورس کو الرٹ کردیا اور ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کردیا ضلع بھر میں نقصانات کا جائزہ لینے کے لیئے لیویز فورس کا ٹیم مختلف علاقوں میں روانہ کردیا گیا سیلابی ریلے کی وجہ سے شہر کے اندر اور باہر جانے والے راستے بند رہے گلیوں میں پانی جمع ہوجانے کی وجہ سے پیدل چلنے اور نمازیوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور شہر کی سڑکیں سنسان رہے ڈپٹی کمشنر چاغی فتح محمد خجک کے مطابق ضلع بھر میں حالات کنٹرول میں کوئی نا خوشگوار واقع رونما نہیں ہوا ہے البتہ لوگوں کی کچی مکانین متاثر ہوئے ہیں انکی امداد کی جارہی ہے ۔