
- Advertisement -
جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے کہاہے کہ ہم جذبہ جہادکے ساتھ میدان عمل میں نکلے ہیں،یہ ملک چندلوگوں کے حوالے نہیںکریں گے،ہم حقیقی جمہوری نظام لاناچاہتے ہیںجس میں غریب لوگوں کاتحفظ یقینی ہو،کارکن عوام میں پھیل جائیں،عوام انقلاب کے لئے تیاررہے،دھاندلی کے خلاف جنگ کااعلان کرتے ہیںووٹ کوچوری کرنے کی اجازت نہیںدیں گے،اگرملک میں امن چاہتے ہوتوووٹ کوچوری کرنے سے بچاناہوگاہم نے حقیقی آزادی کے حصول کے لئے جوتحریک شروع کی ہے اب اس کوروکیں گے نہیںہماراآخری پڑاواسلام آبادمیں ہوگا،بھارتی جارحیت کے خلاف اورفوج کے ساتھ اظہاریکجہتی کے لئے آج جمعہ کوملک بھرمیں ریلیاں نکالیں گے اورمظاہرے کریں گے،ملک کادفاع کریں گے،24مارچ کوشمالی وزیرستان اور31مارچ کوسرگودھامیں تحفظ ناموس رسالت ملین مارچ ہوگا ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے جمعیت علماءاسلام نصیرآبادڈویژن کے زیراہتمام ڈیرہ اللہ یارمیں تاریخ سازتحفظ ناموس رسالت ملین مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیاقبل ازیں قائدجمعیت کاجلسہ گاہ پہنچنے پرشانداراستقبال کیاگیااورلاکھوں افرادنے کھڑے ہوکرپرجوش نعرے لگائے،ملین مارچ سے مولانافیض محمد،ملک سکندرخان ایڈوکیٹ،مولاناراشدسومرو ،مولانامحمدحنیف ،عابدلاکھو،مولانانوراللہ،مولاناغلام قادرقاسمی،مولاناعبداللہ جتک،مولاناامیرزمان،صاحبزادہ کمال الدین،عبدالواحدصدیقی،مولاناعبدالخالق مری،مفتی غلام حیدر،حافظ ابراہیم لہڑی،ہدایت اللہ پیرزادہ،مولاناعبدالقیوم ہالیجوی،مولاناسراج احمدشاہ امروٹی،قاری مہراللہ،حافظ خلیل احمدسارنگزئی،حافظ حسین احمدشرودی،قاضی منیب الرحمن،قاری محمدعثمان،حافظ ابراہیم قلندرانی،سردارعلی محمدقلندرانی،میرنظام الدین لہڑی،ڈاکٹرحفیظ الرحمن کھوسو،حافظ محمدحسن شہاب، انجینئرعثمان بادینی،ناصرمسیح ودیگرنے بھی خطاب کیا،مولانافضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ فوجی وطن کی دفاعی قوت ہے جس کی پشت پرپوری قوم کھڑی ہے،لیکن جب ملک کی سیاست میں مداخلت کرے گی توشکایت ہوگی لیکن جب پیشہ وارانہ ذمہ داریاں اداکرے گی توقوم اس پرفخرکرے گی ہماری فوج ملکی سرحدات اورہم نظریاتی سرحدات کی حفاظت کریں گے،پلوامہ واقعہ کاالزام پاکستان پرتحقیقات اورثبوت کے بغیرلگاناانصاف کے خلاف ہے،بالاکوٹ پرحملہ بھارتی جارحیت ہے جس کافوج نے جواب دیکربہت ساری کوتاہیوں کاازالہ کردیا،فوج اس وقت مضبوط ہوگی جب حکومت میں عوامی قوت سے مالامال لوگ ہو،جعلی حکمران نہ ہو، ہم نے اسلامی جمہوری تحریک شروع کی ہے،ہم آگے بڑھیں گے،ہم اس وقت تک جدوجہدآزادی جاری رکھیں گے جب سیاست میںمقتدرقوتوں کی مداخلت ختم کریں گے،انہوںنے کہاکہ ہم نے اپنے وسائل پرتوجہ دینے کے بجائے قرضوں اوربھیک پرتوجہ دی ہے،ہمارے جعلی حکمران قرضوں سے آگے بڑھ کربھیک کی طرف گئے،اگردوست ممالک مالی تعاون نہ کرتے توہمیں کوئی ملک قرضہ بھی نہ دیتا،ملک میں نااہل حکمرانوں کی وجہ سے مہنگائی دوسوفیصدبڑھ گئی،ترقیاتی منصوبے رک گئے،ایک کروڑافرادکوروزگارفراہم کرنے بجائے لاکھوں افرادسے روزگارچھین لیاگیا،پچاس لاکھ افرادکوگھردینے کے بجائے لاکھوں مکانات کوگرادیاگیا،ہم مظلوم عوام کی آوازبنیں گے اورانہیں سہارادیں گے،انہوں نے کہاکہ ہماری خارجہ پالیسی بری طرح ناکام رہی،بھارت اورایران ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں،چین بھی ناراض ہواہے،چین کے اربوں ڈالرکے منصوبے روک دیئے گئے،ہم خطے میں تنہائی کاشکارہیں عوام کوان حالات میں تنہانہیں چھوڑیں گے،انہیں بیدارکریں گے،انہوںنے کہاکہ برطانیہ کاقادیانی وفدنے حال ہی میں پاکستان کادورہ کیاحکومت نے سرکاری پروٹوکول دیا،وزیراعظم اوردیگراعلی حکام سے ملاقاتیں کیںپاکستان کی تاریخ میں پہلی بارایساہواانہوںنے کہاکہ اوآئی سی میں بھارت کوبلایاگیاجوہماری ناکام خارجہ پالیسی ہے،بھارت اسلامی ممالک میں شامل نہیں ہے لیکن پھربھی اس کواوآئی سی میں مدعوکرناکیامعنی رکھتاہے،عوام کومتحدکریں گے،کشمیرپرہمارے حکمرانوں نے کمزورپالیسی اختیارکی اس لئے بھارت نے دراندازی کی جرات کی،انہوں نے کہاکہ امریکہ نے افغانستان پربلاجوازحملہ کیامگروہاں کے داڑھی اورپگڑی والوں نے ایمانی قوت سے اس کامقابلہ کیااورسترہ برس بعدامریکہ کوعقل آیااورطالبان سے مذاکرات کاآغازکیا افغانستان میں کسی بیرونی ملک کواپنی فوج رکھنے کاحق نہیںہے ،پاکستان میں بھی داڑھی اورپگڑی والے اپنی دھرتی کادفاع کریں گے،انہوںنے کہاکہ ہمارے ساتھی شکایت کرتے ہیں کہ میڈیاہمارے لاکھوں افرادکے اجتماعات نظراندازکررہاہے ،ہم اسلام کی بات کرتے ہیںکیایہ میڈیاکوقابل قبول نہیں ہے، میڈیاپرہمارے اجتماعات کوکوریج کاحق نہیںدیاجاتاہمیں پتہ ہے کہ میڈیاپرپابندی لگائی جارہی ہے،ہماری آوازاللہ نے ہرجگہ پہنچایاہرملین مارچ دوسرے سے کامیاب ہوتاہے۔