موجودہ حکومت ایک کٹھ پتلی حکومت ہے جسے عوام کی کوئی بھی تائید و حمایت حاصل نہیں ،مولانا عبدالغفور حیدری

0

- Advertisement -

جمعیت علماءاسلام کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفورحیدری نے جمعیت علماءاسلام کے صوبائی امیر سینیٹرمولانا فیض محمد ،بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرملک سکندرایڈووکیٹ کے ہمراہ کہاکہ ملک میں کامیاب ملین مارچوں کے بعد حکومت کا پاجامہ گیلا ہونا شروع ہو گیا ہے کیونکہ موجودہ حکومت ایک کٹھ پتلی حکومت ہے جسے عوام کی کوئی بھی تائید و حمایت حاصل نہیں ہے جب ہمارا ملین مارچ اسلام آباد پہنچے گا توحکومت کی نہ جانے کیا حالت ہوگی کیونکہ ان کے پاس جعلی مینڈیٹ ہے موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے ان کے پیچھے افرادی قوت نہیں ہے جو دھاندلی کے ذریعے منتخب ہو کر آئے ہیں ان کا ضمیر بھی انہیں ملامت کررہا ہے کہ ہمارے پیچھے ووٹ ہے نہ پاور ہے ان خیالا ت کا اظہار انہوںنے سرکٹ ہاﺅس ڈیرہ مرادجمالی میں جمعیت علماءاسلام کے سابق سینیٹرہیمن داس کی جانب سے دیئے گئے استقبالیہ کے موقع پرصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیااس موقع پر جمعیت علماءاسلام کے صوبائی نائب امیر وضلعی امیرمولانا عبداللہ جتک، ہیمن داس ،حافظ محمد ابراہیم لہڑی،حافظ خلیل الرحمان سارنگزئی،میر نظام الدین لہڑی،حافظ سعیداحمد بنگلزئی،سعداللہ بنگلزئی،سمیت دیگر موجودتھے انہوںنے کہاکہ نصیرآباد میں تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ منعقد ہو رہا ہے یہ جلسہ اپنی نوعیت اہم کانفرنس ثابت ہوگی جس سے ملکی اور بالخصوص بلوچستان کی سیاست کی سمت متعین ہوجائے گی کہ جمعیت کی طاقت کتنی ہے اور اس کا کتنا ووٹ بینک ہیں جسے چوری کیا گیا اور ان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جوہماری قوت ہجوم کو قلیل ظاہر کرنے کے درپے ہیں اگر وہ ہمارا پارلیمنٹ جانے کا راستہ روکتے ہیں تو ہمارے پاس عوام کا راستہ موجود ہے آج تک ہم سات ملین مارچ کر چکے ہیں جس میں لاکھوں لوگ شریک ہو چکے ہیں اور یہ آٹھواں ملین مارچ ہو گا 31 مارچ کو شاہینوں کے شہر سرگودھا میں ملین مارچ ہوگا اور اس کا آخری پڑا¶ اسلام آباد میں ہوگا نیب احتسابی ادارہ ھے لیکن نیب سے جو وابستہ لوگ ہیں وہ خود بھی احتساب کے دائرے میں آتے ہیں اور بدقسمتی یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو ایسے مقامات پر رکھتے ہیں جو احتساب کے بجائے انتقام پر اتر آتے ہیں سندھ اسپیکر کو جس طرح گرفتار کیا گیا وہ کوئی مفرور نہیں تھا اس کے گھر پر دھاوا بولنا اور اسے گھر کے اندر بے شک کرنا یہ سب انتقام نہیں تو اور کیا ہے ہم نے روزے اول سے یہی کہا ہے کہ نیب جیسے ادارے کی کوئی ضرورت نہیں ہے عدالتی محتسب ادارے موجود ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.