
- Advertisement -
پاکستان میں متعین ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے کہاہے کہ ایران سی پیک میں حصہ دار بننے کا خواہاں ہے ،سی پیک منصوبے اور گوادر میں سرمایہ کاری سے پورے خطے میں غربت کا خاتمہ ہوگاپاکستان اور ایران خطے میں امن وامان کی بحالی اور دہشتگردی وانتہاپسندی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے دہشتگردی کے واقعات نے دونوں ممالک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے دوطرفہ تجارتی اہداف کے حصول کیلئے دونوں ممالک کے صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کے ایک دوسرے سے رابطے اور تعاون ازحد ضروری ہے ،قانونی کاروبار میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کیلئے ہم ہرممکن تعاون کیلئے تیارہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ چیمبرآف سمال ٹریڈرز اینڈانڈسٹریز کے دورے کے موقع پر پاک ایران جوائنٹ چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر حاجی ولی محمد نورزئی ودیگر شرکاءسے خطاب ،ایوان صنعت وتجارت کوئٹہ بلوچستان کے وفد سے ملاقات اور میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ کوئٹہ میں متعین ایرانی قونصل جنرل آغا محمد رفیعی ،ڈپٹی قونصل جنرل محمد رضا استوری بھی موجود تھے۔ایرانی سفیرنے گزشتہ روز کوئٹہ چیمبرآف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز کا دورہ کیا بلکہ انہوں نے ایوان صنعت وتجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر ،پیٹرن انچیف ودیگر کی سربراہی میں ملنے والے وفد سے ملاقات بھی کی ۔اس سے قبل ایوان صنعت وتجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر جمعہ خان بادیزئی ،پیٹرن انچیف غلام فاروق خان ،سابق صدر حاجی عبدالودود اچکزئی ،چوہدری امجد ،حاجی حفیظ ،حاجی طالب ودیگرپرمشتمل وفد نے ایرانی سفیر مہدی ہنردوست کے ساتھ ملاقات کی ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کومزیدفروغ دینے اور تجارتی اہداف کے حصول اور اس سلسلے میں درپیش مشکلات سمیت تفصیلی غووحوض کیاگیا بلکہ چیمبرآف کامرس کے عہدیداران نے دوطرفہ تجارت کے فروغ اور اس سلسلے میں درپیش مشکلات کے حل کیلئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہاکہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تجارتی رشتوں کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیاجائے گااور اس سلسلے میں تجارتی وفود ودیگر کے درمیان رابطوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری رہے گا،انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان قانونی تجارت کا فروغ ایوان صنعت وتجارت کا روز اول سے ہی مقصد رہاہے بلکہ اس سلسلے میں کوششوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔کوئٹہ چیمبرآف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز کا دورہ کے موقع پرپاک ایران چیمبرآف کامرس کے صدر حاجی ولی محمد نورزئی ،نائب صدر احمد اللہ ترین نے انقلاب ایران کی 40ویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی اور کہاکہ پاک ایران اسلامی برادر ممالک کے درمیان مسلسل رابطوں سے ہم آہنگی میں اضافہ ہورہاہے بلکہ صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کو درپیش مشکلات کے خاتمے اور اس سلسلے میں آسانیاں پیدا کی جارہی ہے ،انہوں نے کہاکہ تاجروں کے درمیان رقوم کے تنازعات ہو ویزوں کااجراءہو یا پھر ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن ان تمام کے سلسلے میں جلد خوش خبری ملے گی انہوں نے کہاکہ بینکنگ سسٹم سمیت دیگر مسائل کے حل کیلئے بھی دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہے انہوں نے کہاکہ رواں سال کے مئی اور جون میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بیسٹ اچیومنٹ ایوارڈ تقریب کااہتمام کیاجائے گا جس میں دونوں ممالک کے صنعت وتجارت سے وابستہ افراد سمیت دیگر شریک ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے صنعت وتجارت سے وابستہ افراد ایران کے سرمایہ کاروں سے ملاقات کے خواہاں ہے اس سلسلے میں نوروز کے موقع پر ایران بلوچستان کے صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کے وفد کی ایرانی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقات کوممکن بنانے کیلئے اقدامات اٹھائیں تاکہ تجارتی مسائل سمیت دونوں ممالک میں موجود سرمایہ کاری کے مواقعوں سے ایک دوسرے کو آگاہ کیاجا سکے ۔اس موقع پران کے ہمراہ کوئٹہ چیمبرآف سمال ٹریڈرز اینڈانڈسٹریز کے جمعہ خان ،نائب صدر ندیم خان ،سابق صدر ملک ندیم کاسی ،مقبول بھٹی ،حاجی نعمت اللہ نورزئی ،فرحت حسین ،حاجی ابراہیم یوسف زئی ،عبدالباقی ودیگر بھی موجود تھے ۔اس موقع پرایرانی سفیر مہدی ہنردوست کاکہناتھاکہ مختصر عرصے میں ان کی بلوچستان کی صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کے ساتھ دوسری بار ملاقات ہورہی ہے انہیں سٹاف کالج کوئٹہ میں ایک تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی جس کیلئے وہ یہاں آئے اور اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے صنعت وتجارت سے وابستہ افراد سے بھی ملاقات کافیصلہ کیاتھا انہوں نے کہاکہ 4ماہ قبل ان کے دورہ بلوچستان کے موقع پر انہوں نے ایسے نکات کی نشاندہی کی تھی جو دونوں برادری اسلامی ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید بہتراور مستحکم کرنے کے حوالے سے تھے ہم دونوں برادری اسلامی ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے مقرر کئے گئے تجارتی اہداف کے واحد مقصد کی طرف گامزن ہے اس سلسلے میں ایرانی سفارت خانہ اور قونصلیٹ پاکستانی حکام اور صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ،انہوں نے کہاکہ امریکی دباﺅ اور پابندیوں کا مقابلہ صبر وتحمل اور حکمت عملی کے ذریعے کیاجارہاہے امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان اور ایران جیسے برادر اسلامی ممالک کے درمیان اچھے اسلامی ،ثقافتی ،تجارتی روابط قائم ہوں تاہم ایرانی سفارت خانہ اور قونصلیٹ اس سلسلے میں بلوچستان کی صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کے ساتھ ہرممکن تعاون کیلئے تیار ہے بلکہ مقامی صنعت وتجارت سے وابستہ افراد ہم سے روابط رکھیں ،انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے مقرر کردہ تجارتی اہداف کے حصول کیلئے تجارتی تعلقات کامزیدمضبوط اور مستحکم ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے ہم دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان بہترین روابط روا رکھنے کیلئے بھی کوشش کررہے ہیں کیونکہ اس کے بغیر تجارتی اہداف کا حصول ممکن نہیں ہوگا ،تجارتی اہداف کا حصول دونوں ممالک کے صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کے درمیان بہترین روابط کے ذریعے ہی ممکن ہے ،انہوں نے کہاکہ ہمیں توقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی بہتری کیلئے تعاون جاری رہے گا بلکہ اس سلسلے میں صنعت وتجارت سے وابستہ افراد اپنی تمام ترصلاحیتیں بروئے کار لائیں گے ،انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ سسٹم کی راہ میں امریکی پابندیاں حائل ہیں ہم نہیں چاہتے کہ امریکی پابندیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کے استحکام میں مزید وقت لگے ،ایران نے ہمیشہ اسلامی اقدار کے تحت امریکہ کے خلاف اسٹینڈ لیاہے بلکہ ایران ہمسایہ ممالک کے ساتھ بین الاقوامی فریم ورک کے تحت اربوں روپے کی تجارت کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ،ہم کسی بھی صورت غیر قانونی کام نہیں کرینگے نہ صرف ایران کے دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ تجارت کے معاہدے ہے بلکہ تجارت کا سلسلہ بھی جاری ہے یہ سب کچھ انٹرنیشنل فریم ورک کے تحت ہورہاہے ،ہم دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ کاروبار جو عملی اقدام اٹھایاہے وہ یہ ہے کہ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے اندر یا دونوں ممالک کے چیمبرزمخصوص رقم مہیا کرسکتے ہیں رقوم کے ایکسچینج کیلئے ،بارڈرٹریڈ ،لوکل کرنسی اور چارٹرڈ اکاﺅنٹ کے ذریعے تجارت دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کومزید مضبوط کرسکتی ہے اس لئے انہی کا سہارالیتے ہوئے دونوں ممالک کے سرمایہ کار تجارتی مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں ،انہوں نے کہاکہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ہی دستیاب تجارتی مواقعوں سے بھرپورفائدہ اٹھایاجاسکتاہے اس کے بغیر نہیں ،انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے تجارت سے وابستہ افراد کو خشکی اور سمندری حدود سے فائدہ اٹھانا ہوگا یہ نہ صرف دونوں ممالک کی معیشت کیلئے بہتر ہوگا بلکہ اس سے عوام کو بھی بھرپور فائدہ ملے گا۔ایرانی سفیر نے بلوچستان کے صنعت وتجارت سے وابستہ افراد کے ایران کے دورے کو خوش آئند قراردیا اور اس سلسلے میں ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔بعد ازاں پاکستان میں متعین ایرانی سفیر مہدی ہنردوست کی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گوادرترقی کا اہم زینہ ہے اس سے جنوبی ایشیائی ممالک خطے میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہونگی،ہمیں اس بات کایقین ہے کہ غربت اور اس جیسے دیگر مسائل کے خاتمے کا ایک حل علاقائی تعاون ہے ہم دعاگو ہے کہ وہ وقت آئے کہ جب خطے کے تمام ممالک کے درمیان علاقائی تعاون کو پروان چڑھے ،انہوں نے کہاکہ مسلم ممالک کے ساتھ پاکستان کاعلاقائی تعاون کاروباری تجارتی سرگیوں کے فروغ کا سبب بنے گا امید ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان ایران کو بھی ایک شراکت دار کے طورپر دیکھیں کیونکہ ایران علاقائی تعاون کا خواہاں ہے اس وقت مسلم ممالک کے درمیان فاصلے موجودہیں جنہیں بدترین حالات ومشکلات کاسامنا ہے ہمیں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر مسائل سے نکلنے کیلئے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے ہم دعا گو ہے کہ خطے کے مسلم ممالک بالخصوص پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون کو مزید فروغ ملے ،ایران تجارتی راستوں ،وسائل اور صلاحیتوں کا حامل خطے کااہم ملک ہے ایران چاہتاہے کہ اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں ووسائل کے ساتھ سی پیک کا حصہ بنیں ،ایران کے تجارتی راستے اور توانائی کی استعداد کے بغیر شاید سی پیک آخری مرحلے تک نہ پہنچیں اس لئے ایران چاہتاہے کہ وہ سی پیک کاحصہ بنیں سی پیک کو خطے کیلئے اہم قراردیتے ہوئے ایرانی سفیر کاکہناتھاکہ منصوبے سے خطے میں امن وامان پرمثبت اثرات مرتب ہونگے ۔دہشتگردی سے دونوں ممالک کو نقصان پہنچاہے ۔انہوں نے بلوچستان سیستان میں پاسداران انقلاب پرحملے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک دہشتگردی وانتہاپسندی کے شکار ہے ہمیں یقین ہے کہ پاکستان دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا ،ایران اور پاکستان اس مسئلے پر رابطے کررہے ہیں تمام ممالک بالخصوص دہشتگردی سے متاثرہ ممالک دہشتگردی کے خلاف متحد ہوجائیں ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرینگے ۔