کوئٹہ سے اریران کیلئے فلائٹ سروس شروع کرنے سے دوطرفہ تجارتی اہداف کاحصول ممکن بنایاجاسکتاہے،ایرانی قونصل

- Advertisement -
کوئٹہ میں متعین ایرانی قونصل جنرل آغا محمد رفیعی نے کہاہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، اسلامی ،ثقافتی رشتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوتے جارہے ہیں ،دونوں ممالک کے درمیان بینکنگ نظام کے قیام ،بارڈر پرمزیدکراسنگ پوائنٹس بنانے،کوئٹہ تازاہدان ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن ،غیرقانونی تجارت کاخاتمہ اور کوئٹہ سے فلائٹ سروس شروع کرنے سے دوطرفہ تجارتی اہداف کاحصول ممکن بنایاجاسکتاہے،ایرانی قونصلیٹ اور کوئٹہ میں ایرانی سکولز کی جانب سے میڈیافٹ بال ٹورنامنٹ کاانعقاد خوش آئندہے ،ان خیالات کااظہار انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب ایران کی 40ویں سالگرہ کی مناسبت سے فٹ بال ٹورنامنٹ کے اختتامی تقریب کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر خانہ فرہنگ ایران کے ڈائریکٹر کوروش عقدائی ا،کوئٹہ میں ایرانی سکولز کے پرنسپل امیر حسنی ،کمرشل کونسلر حسین جعفری ،ودیگر بھی موجود تھے ۔اس موقع پر ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے ٹیموں بلوچستان سپورٹس جرنلسٹس اور پریس کلب الیون کے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے گئے ۔اس موقع پرکوئٹہ میں متعین ایرانی قونصل جنرل آغا محمد رفیعی نے کہاکہ کوئٹہ میں ایرانی سکولز اور ایرانی قونصلیٹ کے تعاون سے انقلاب ایران کی 40ویں سالگرہ کی مناسبت سے فٹ بال ٹورنامنٹ کاانعقاد خوش آئندہے اس سے قونصلیٹ اور صحافیوں کے درمیان تعاون اور کھیلوں کے فروغ میں مدد ملے گی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات اور تجارت کوفروغ میںبھی اہم کرداراداکرسکتاہے ، انہوں نے کہاکہ پاکستان آزاد ہونے کے بعد ایران میں انقلاب آیا تو دونوں ممالک نے سرکاری سطح پر ایک دوسرے کی خودمختاری تسلیم کی اور ہرمشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ،انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ایران کا900سو کلومیٹر طویل بارڈرہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان200کلومیٹر سے زائد سمندری حدود بھی ہے ،انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کی عوام کے درمیان گہرے اسلامی ،سیاسی ،ثقافتی تعلقات استوار ہےں بلکہ تعلقات میں بہتری میں تجارت کے فروغ نے بھی اہم کرداراداکیاہے ،ایرانی قونصل جنرل کاکہناتھاکہ پاک ایران برادری اسلامی ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کوفروغ دینے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ،سابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف اور ایران کے صدر حسن روحانی نے سابقہ دور میں دونوں ممالک کے درمیان ایک یاداشت پر دستخط کئے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو 5ارب ڈالر تک بڑھانا تھاانہوں نے کہاکہ گزشتہ سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ حکام ،سیاسی رہنماﺅں اور تاجر برادری کے تعاون سے سالانہ تجارتی حجم 8سے 9سو ملین تھا اس تجارتی حجم کو مزیدفروغ دیکر سالانہ حجم ایک ارب 300ملین ڈالر تک پہنچادیاگیاہے دوطرفہ تجارتی حجم کو 5ارب ڈالر تک پہنچانے کیلئے دونوں ممالک کی جانب سے کوششوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ میں اس وقت بھی بعض رکاوٹیں حائل ہیں جن میں بینکنگ نظام ،سرحد پرکراسنگ پوائنٹس کی کمی ،کوئٹہ تازاہدان ریلوے لائن کی خستہ حالی ،غیرقانونی تجارت اور کوئٹہ تازاہدان فلائٹ سروس کانہ ہوناہے ،اس وقت دونوں ممالک کے درمیان دومزید کراسنگ پوانٹس بنانے پر بات کی گئی ہے اگر حکومت پاکستان کی جانب سے مذکورہ ریلوے لائن اپ گریڈ ہوجائے تاکہ یہ نہ صرف ایران تک بلکہ ترکی اور یوررپی ممالک سے بھی منسلک ہوسکتاہے جس کا فائدہ بلوچستان کے لوگوں ہو گا،انہوں نے کہاکہ غیرقانونی تجارت یعنی اسمگلنگ کے خاتمے کیلئے پاکستانی حکام سے بات چیت جاری ہے کیونکہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان قانونی تجارت سے غیر قانونی تجارتی سرگرمیاں زیادہ ہیںجوقانونی تجارت کی راہ میں رکاوٹ ہے ،انہوں نے کہاکہ کوئٹہ تازاہدان فلائٹ سروس نہ ہونے کے باعث بھی تاجروں کومشکلات کاسامناہے انہوں نے کہاکہ اگر حکومت کوئٹہ تازاہدان فلائٹ شروع کرے اس سے بھی تاجروں کو درپیش بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں کیونکہ تجارت کے فروغ سے بلوچستان ترقی کی راہ پرگامزن ہوسکتاہے ،انہوں نے کہاکہ کسی بھی شعبے میں ترقی کیلئے امن کا ہونا انتہائی ضروری ہے اس سلسلے میں بھی دوطرفہ کوششیں جاری ہے انہوں نے کہاکہ ایران کا اس وقت اپنے 15ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی حجم پاکستان سے کئی گنازیادہ ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم صرف ایک ارب 300ملین ڈالر ہے ،انہوں نے کہاکہ اسلامی جمہوری ایران کے انقلاب ایران کی 40ویں سالگرہ کی مناسبت سے فٹ بال ٹورنامنٹ کااہتمام کیاگیاہے جو صحت مندمعاشرے کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔صحافیوں کے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ جوائنٹ بارڈرکمیٹی جس میں بلوچستان کے چیف سیکرٹری جبکہ ایران کی طرف سے ڈپٹی گورنر جنرل سیستان بلوچستان سربراہی کرتے ہیںکے اجلاس منعقد ہوتے ہیں جس میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی ،تجارتی سمیت مختلف مسائل وامور پرتبادلہ خیال کیاجاتاہے جوائنٹ بارڈر کمیٹی کے اجلاس میں مستقل بارڈر کمیٹی بنائی گئی ہے جس کے اب تک5سے 6اجلاسز ہوئے جن میں دونوں ممالک کے درمیان انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے متعدد فیصلے کئے گئے جس میں دونوں ممالک کی جانب سے سرحد پر مشترکہ گشت شروع کرنابھی شامل ہیں انہوں نے کہاکہ دنیا میں کہیں بھی انسانی اسمگلنگ کامکمل روک تھام ممکن نہیں ہے لیکن اس حوالے سے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔