عمران خان کی کوششوںسے پاکستانی معیشت کو استحکام ملا ہے،قاسم خان سوری

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی محمد قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ صنعت و تجارت سے وابستہ افراد کسی بھی ملک اور صوبے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تاجر دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے گوادر انڈسٹریل زون میں حقیقی صنعتکاروں اور تجارت سے وابستہ افراد کو ان کا حق دلائے گی بلوچستان کے تجارت سے وابستہ افراد نے ماضی میں مخدوش حالات کے باوجود بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ان کے ساتھ امتیازی سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا، وزیراعظم عمران خان کی کوششوں اور برادر اسلامی ممالک کے بھر پور تعاون سے پاکستانی معیشت کو استحکام ملا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صنعت وتجارت کے دورے کے موقع پر چیمبر آف کامرس کے عہدیداران اور ممبران سے اظہار خیال کرتے ہو ئے کیا۔اس موقع پر چیمبر آف کامرس کے صدر جمعہ خان بادیزئی، سینئرنائب صدر صلاح الدین خلجی ،نائب صدر محمد یاسین رئیسانی ودیگرنے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کو چیمبر آف کامرس آنے پر خوش آمدید کہا اور بتایا کہ ماضی میں بلوچستان کے چیمبر آف کامرس کے عہدیداران،صنعتکاروں اور تاجروں کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف نے بر سر اقتدار آکر صوبے کے تاجروں اور صنعتکاروں کو اعتماد میں لینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کا واضح ثبوت وفاقی وزیر تجارت اسد عمر کا دورہ چیمبر آف کامرس ہے بلکہ انہوں نے ایران کے ساتھ تجارتی مسائل کے حوالے سے کمیٹی کے لئے نام طلب کر کے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جوکہ نیک شگون ہے انہوں نے کہا کہ صوبے میں انڈسٹریز کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ وزیر اعلی بلوچستان تجارت سے وابستہ اسپیشل ایڈوائزر کی تعیناتی عمل میں لائے انہوں نے کسٹم کو امپورٹ کے ساتھ ایکسپورٹ ٹارگٹ دینے اور اکنامک ایڈوائرزری کونسل میں نمائندگی کی بھی تجویز دی اور کہا کہ صوبے میں کان کنی کے شعبے کی بہتری کے لئے فوری اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔چیمبر آف کامرس کے عہدیداران و ممبران نے اسپیکر قومی اسمبلی کو تحریری تجاویز دی اور کہا کہ وزیراعلی اور گورنر بلوچستان سے چیمبر کے وفود ملاقات چاہتے ہیں لیکن ابھی تک ان کی جانب سے لکھے گئے لیٹرز کا کوئی جواب انہیں موصول نہیں ہوا۔انہوں نے گوادر انڈسٹریل زون میں غیر متعلقہ افراد کو الاٹمنٹ اور حقیقی صنعتکاروں و تاجروں کو نظر انداز کئے جانے کی بھی شکایت کی اور کہا کہ اس سلسلے میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اپنا کردار ادا کریں اور متعلقہ حکام تک ان کے تحفظات پہنچائے ۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی صنعت و تجارت سے وابستہ افراد نے مخدوش صورتحال کے باوجود بھی ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور وہ یہاں صنعت و تجارت کو ترقی دیتے رہے ہم کسی صورت ان کے ساتھ امتیازی سلوک کو برداشت نہیں کریں گے، انہوں نے کہا کہ وہ کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے دورے کے بعد لاہور اور سیالکوٹ چیمبرز بھی گئے جہاں بھی صنعت و تجارت کے لوگ سابقہ حکمرانوں سے نالاں نظر آئے ۔پی ٹی آئی کی حکومت تاجر دوست حکومت ہے گوادر انڈسٹریل زون میں بعض پیچیدگیاں ضرور ہیں تاہم وہاں صوبے کے حقیقی تاجروں اور صنعتکاروں کو ان کا حق ضرور دلایا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک بھر کے تاجروں کی تجاویز کو منی بجٹ میں ترجیح دی میں نے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ بینکنگ نظام کے لئے ایران اور افغانستان کے قونصل جنرلز سے بھی بات کی اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ اگلے چھ ماہ کے دوران طورخم بارڈر کو 24 گھنٹے کھولنے سے متعلق وزیراعظم ہدایات دے چکے ہیں ہم چمن بارڈر پر بھی ایسا ہی نظام متعارف کرانے کی کوشش کریں گے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صنعت و تجارت کی ترقی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔سی پیک منصوبہ اور گوادر پورٹ ملک کے لئے ہی نہیں اس پورے خطے کے لئے امید کی کرن ہے عمران خان اور ہم سب کی کوشش ہے کہ ملک اور بلوچستان میں بیرونی سرمایہ کاری کا عمل زیادہ فعال اور تیز ہو اس سلسلے میں وزیر اعظم سعودی عرب، قطر اور دبئی کے سرمایہ کاروں سے مل چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صنعت و تجارت اور معاشی ترقی ملک کی معاشی ترقی کی ضامن ہے، انہوں نے کہا کہ وزیراعلی اور گورنر بلوچستان سے چیمبر آف کامرس کے عہدیداران کی ملاقات کے لئے بات کی جائے گی، بلکہ انہیں چیمبر آف کامرس کے لیٹرز بھی پہنچائے جائیں، انہوں نے کہا کہ رویوں سے سے پتہ چلتاہے کہ کون کتنا سنجیدہ ہے، انہوں نے کہا کہ میں کسٹم و دیگر حکام کے لئے امپورٹ ٹارگٹ کے ساتھ ایکسپورٹ ٹارگٹ کے بھی حق میں ہوں جب تک ایکسپورٹ نہیں بڑھے گی اس وقت تک معاشی ترقی ممکن نہ ہو گی، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ذاتی کوششوں اور برادر اسلامی ممالک کے تعاون سے پاکستان کو معاشی استحکام ملا ہے ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Close
Close