ملکی برآمدات میں بھی زرعی شعبہ کا اہم مقام ہے،قاسم خان سوری

0

- Advertisement -

ملکی معیشت میں زراعت کی جو اہمیت ہے اس سے ہم سب باخبر ہیں اور ملکی برآمدات میں بھی زرعی شعبہ کا ایک بڑا اہم مقام ہے۔ یہ بات ڈپٹی اسپیکر سپیکر قومی اسمبلی محمدقاسم خان سوری نے آج یہاں کوئٹہ میں زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (ZTBL) کی صوبہ بلوچستان کی اولین ATM کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوںنے کہا کہ حکومت پاکستان نے ملک میں مالیاتی شمولیت کو بڑھان کے لئے اپنے سو دنوں کے ایجنڈا میں قومی مالیاتی شمولیت کی حکمت عملی کو شامل کیا ہے جس کے تحت کمپیوٹرائزڈ طریقے سے رقوم کی ادائیگی، ڈیپازٹ اکٹھا کرنا، اسلامی بینکاری کا فروغ اور وئر ہاﺅس رسید فنانسنگ کے لئے کولیٹرل منیجمنٹ کمپنیوں کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لئے قانونی اصلاحات نافذ کروانے جیسے اقدامات اٹھائے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بینک انتہائی موثر انداز سے بروقت ATM اور Debit Card کے اجراءاور اسلامی بینکاری جیسے اقدامات اٹھارہا ہے اور یہ اقدامات ملکی آبادی کے ایک بڑے حصے کے لئے مفید و معاون ثابت ہونگے کیونکہ ہماری بہت بڑی آبادی دیہات پر مشتمل ہے اور یقیناً یہ اقدامات اس بڑی آبادی کے لئے سود مند ثابت ہونگے کیونکہ وہ اسلامی بینکاری کے دھارے میں شامل ہوکر اپنی زراعت سے متعلق ضروریات پوری کرسکیں گے اور امید کرتا ہوں کہ اے ٹی ایم کا آغاز زرعی سرمایہ کاری کی بنیادی اہمیت کو موثر انداز میں جلا بخشے گا اور چھوٹے کاشتکاروں کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوںنے کہا کہ بینک اپنی ریٹنگ کو پچھلے پانچ سالوں سے برقرار رکھے ہوئے ہے جوکہ بینک کی کارکردگی اور مالی پوزیشن مستحکم ہونے کا ثبوت ہے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں آپ کو یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس کررہا ہوں کہ حکومت نے ملک میں زراعت کے شعبہ کی ترقی اور زرعی کاروبار کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لئے اگلے تین سالوں میں دو سو ارب روپے کے پیکج کی منصوبہ بندی کی ہے جس میں سے ایک سو بیاسی ارب روپے کا پیکج لانچ کردیا گیا ہے اس کاوش کے ذریعے سی پیک اور منسلک منصوبوں کی ترقی اور خوشحالی کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے درحقیقت زراعت کی ترقی بھی سی پیک کا اہم جزو ہے۔ اس موقع پر بینک کے اقئم مقام کے صدر شیخ امان اللہ نے اپنے خطاب میں بتایا کہ ہم چھوٹے کسانوں کو زراعت سے متعلق بنیادی سہولتیں بہم پہنچانے کے لئے آج بلوچستان سے اے ٹی ایم کا آغاز کررہے ہیں جس کے ذریعے چھوٹے کسان اپنی زرعی ضروریات بروقت حاصل کرکے اپنے لئے اور ملکی معیشت کی ترقی میں موثر کردار ادا کرسکیں گے بینک کے صدر نے مزید کہا کہ بینک سالانہ تقریباً چار لاکھ کسانوں اور ان سے منسلک لوگوں کو زرعی شعبے میں قرضہ جات کی فراہمی بینکاری کی خدمات اور زرعی تکنیکی سہولیات بہم پہنچارہا ہے میں نے اور میری ٹیم نے بینک کی ترقی ار وصولیوں کے نظام کو موثر بنانے کے لئے دن رات خلوص نیت کے ساتھ کام کیا ہے تاکہ بینک مضبوط اور مستحکم مالی پوزیشن حاصل کرسکے اور الحمد اللہ آج ہم اس میں کامیابی کی منازل طے کررہے ہیں اس سلسلے میں ذاتی طور پر میں نے نہ تو چھٹی کے دن آرام کیا اور کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر بینک کی استعداد کار بڑھانے اور کسانوں کو سہولتیں ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لئے تمام کوششیں بروئے کار لارہے ہیں۔ مہمان خصوصی نے آخر میں ایک مرتبہ پھر موجودہ بینک انتظامیہ کی تعریف کی اور ان کی کارکردگی کو سراہا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.