
- Advertisement -
نیشنل پارٹی کے سابق صدر سنیٹر میر حاصل خان بزنجو نے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی ایک قوم پرست جمہوری پارٹی ہے ہم اپنے سیاسی افکار کے تحت بلوچستان کے حقوق کے لئے جدوجہد کررہے ہیں ہر ایک سیاسی جماعت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے منشور کے مطابق جدو جہد کا راستہ اختیار کرے مگر کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے سیاسی جماعت پر قد غن لگائے ہم نے سیاسی ماحول میں برداشت افہام و تفہیم کو فروغ دیا ہے مشکل ترین حالات میں سیاسی راستہ اختیار کیا ہے نیشنل پارٹی نے گذشتہ مشکل ترین حالات میں قوم کی رہنمائی کی اور ایک ایسی وقت میں اقتدار سنبھالا جب بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب و کشیدہ تھا ہم نے اپنے بہتر حکمت عملی و ٹیم ورک کے ساتھ ان حالات کو کنٹرول کیا یہ کریڈیٹ این پی کو دینا ہو گا اگر اس کے باوجو دکوئی ہمیں الزام دیتا ہے تو یہ سیاسی تنگ نظری ہے سیاست میں تنگ نظری ملکو ں و قوموں کے لئے نیک شگون نہیں ہے آج ملک میں جو حالات ہیں اس کی بنیادی وجہ غیر سیاسی قوتوں کا بر سرے اقتدار آنا ہے اس ملک میں اکیلا پرواز ہمیشہ غلطیوں کا باعث بنی ہے مسلم لیگ ن پی پی پی جے یو آئی اس ملک کے معتبر نام ہیں ان کی اہمیت سے انکار ان کے رایہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ملک میں آنے والا مہنگائی کا طوفان واضح حقیقت ہے اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے ان خیالا ت کا اظہار میر حاصل خان بزنجو خضدار کے صحافیوں سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ان کی صحت بہتر ہے پارٹی کے ساتھی و دوستوں نے جو دعائیں کی ہیں وہ رنگ لائے ہیں انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی اب اپنے پارٹی معاملات پر پوری توجہ دے رہی ہے کیونکہ پارٹی اداروں کی مضبوطی سب سے اہم ہے ہم اگر یہ بات کھیں کہ سابقہ انتخابات میں نیشنل پارٹی کو ایک طے شدہ منصوبہ کے تحت پارلیمنٹ سے باہر رکھا گیا ہے تو تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ اس وقت پاکستان کے تمام سیاسی جماعتیں اس طرح کی بات کررہے ہیں لیکن میں یہ بات کھنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی پارٹی کے پارلیمنٹ سے باہر ہونے کا مطلب ہر گز یہ نہیں لیا جا سکتا ہے کہ عوام میں اس کی اہمیت ختم ہوگئی ہے کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں اس طرح بہت ہوا ہے کہ بڑے پارٹیاں پارلیمنٹ سے باہر رہے ایسی جماعت پارلیمنٹ آئے جن کو قوم پوری طرح نہیں جا نتا تھا اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس فیصلہ کو عوام چھوڑ دیتے ہیں البتہ بلوچستان کی سر زمین و حقوق کی جدو جہد کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کی طرف ہاتھ بڑ ہاتے ہیں کیونکہ یہ چیز ہمارے ہاں سب سے اہم نکتہ ہے ۔