تاجرحاجی شہید محمد نواز مینگل کواغوا کے بعد قتل ہونا انتہائی افسوسناک واقعہ ہے،ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی

0

- Advertisement -

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل وسینیٹرڈاکٹرجہانزیب جمالدینی نے کہا ہے کہ ڈیرہ مرادجمالی کے معروف تاجرحاجی شہید محمد نواز مینگل کواغوا کے بعد قتل ہونا انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جو سیاسی قبائلی وا اسلامی نظر سے بھی قابل افسوس واقعہ ہے بلوچستان میں اغواءبرائے تاوان تو زوروشور سے جاری ہے مگر اب اغوا کر کے مغویوں کو شہید کرنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے عوام کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے اگر حکومت عوام کے جان و مال کو تحفظ نہ کر سکے تو یہ حکومت کی ناکامی کا سبب ہے ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام اشد ضروری ہے شہیدحاجی محمد نوازمینگل کے واقعہ میں ملوث دیگرقاتلوں اوران کے سہولت کاروں گرفتارکرکے کیفرکردارتک پہنچایا جائے ،بی این پی ایسے واقعات کی ہر پلیٹ فارم سے مذمت کرتی ہے اور یہ توقع کرتے ہیں کہ حکومت ایسے افراد کے خلاف بلا تفریق کارروائی کر کے ورثا کو انصاف فراہم کرے گی، بدقسمتی سے بلوچستان میں حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ مراد جمالی میں شہید حاجی محمد نواز مینگل کے بھائی و بی این پی نصیر آباد کے سینئر رہنما ڈاکٹر شاہنواز مینگل اور انکے بیٹے رحمت اللہ مینگل سے تعزیت کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر تے ہوئے کیا اس موقع پر بی این پی کے مرکزی لیبر سیکر ٹری میر منظور احمد بلوچ مرکزی پرو فیشنل سیکر ٹری ڈاکٹر عبدالغفار بلوچ بی ایس او کے مرکزی چیئر مین نذیر احمد بلوچ سینٹرل کمیٹی کے ممبر میر عبداالغفور مینگکل ضلعی صدر میر محمد اسماعیل مینگل جنرل سیکر ٹری غلام علی بلوچ حاجی محمد الیاس غلام مصطفٰی مینگل ملک محمد انور سولنگی میر محمد مراد عمرانی میر بشیر خان عمرانی سمیت دیگر بھی موجود تھے ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا ہے کہ بی این پی نے 6 نکاتی ایجنڈا وفاقی حکومت کے سامنے رکھا ہے جن میں سرفہرست لاپتہ افراد کی بازیابی ہیں، انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان بناتے وقت بی این پی کو اعتماد میں نہیںلیا گیا،بی این پی نے 5128 لاپتہ افراد کی لسٹ وفاقی حکومت کے حوا لے کی ہے جن میں سے اگر کچھ افراد کو بازیاب ہو ئے ہیں تو ہم اسے بھی حوصلہ افزا سمجھتے ہو ئے امید کرتے ہیں کہ حکومت ہما رے دیگر 5 نکات پر بھی جلد از جلد عملدرآمد کرائے گی پانچ نکات میں بلوچستان کے وسائل ،سی پیک میں بلوچستان کو پورا حصہ ملنے کی باتیں ہیں بلوچستان میں حکومت بڑے ڈیمز بنائے تاکہ صوبے سے خشک سالی کا خاتمہ کیا جاسکے حکومت پی ایس ڈی پر عملدرآمد کرائیں کرپشن کو کمزور کریں مگر یہ کام کرنا حکومت کے لئے بہت ہی مشکل ہے بلوچستان حکومت بے بس اور ناکام ہو چکی ہے ہمارے شہروں کی حالت یہ ہے کہ بارش کے چند قطرے گرنے کے بعد شہر میں نکلنا انتہائی عذاب نہ ہوتا ہے یہ سب ناقص پالیسیوں کے باعث ہے عوام کے کام ہو نہیں رہے پیسے ہضم کیے جا رہے ہیں جو باعث افسوس ہے حکومت نے اگر اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑا تو بی این پی اس کی سخت مذمت کرے گی اٹھارہویں ترمیم ہی کی بدولت تھوڑے سے پیسے بلوچستان آتے ہیں حکومت اٹھارویں ترمیم کو برقرار رکھ کر اس میں مزید بہتری لائیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.