
- Advertisement -
بلوچستان کے ضلع دکی کے علاقے ٹرائیبل ایریا میں مقامی کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھرنے سے کوئلہ کان کے اندر دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 6کانکن جاں بحق جبکہ امدادی کاموں میں حصہ لینے والے19کانکن بے ہوش ہوگئے ،لاشوں اور بے ہوش کانکنوں کو فوری طور پرسول ہسپتال دکی منتقل کردیاگیا۔ایس ایچ او دکی ابرار حسین کے مطابق دھماکے کی وجہ سے کوئلہ کان کا ایک حصہ بیٹھ کر زمین بوس ہوگیا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ کوئلہ کان کےاندر موجود ٹرالی کے دو ٹکڑے ہوگئے .دھماکے کے نتیجے میں کوئلہ کان میں کام کرنے والے چار کانکن ملبے تلے دب گئے .ایس ایچ او ابرار حسین کے مطابق کان کی گہرائی 1700فٹ ہے کان میں کام کرنے والے اکثر کانکنوں کا تعلق افغانستان سے ہے .مرنے والے کانکنوں میں دو بھائی ایک مامو بھی شامل ہے.واقعے کے چودہ گھنٹے بعد صرف محکمہ مائینزکا ایک انپسکٹر اور اعداد وشمار نوٹ کرنے کے لئے ایک کلرک متاثرہ کان پر پہنچ گیا واقعے کے بعد مقامی کوئلہ کانکنوں نےاپنی مدد اپکے تحت ریسکیو آپریشن شروع کردیا جوکہ 19 گھنٹے بعد رات سات بجکر دس منٹ پر اپنی مدد اپکے تحت مکمل کرلیا گیا.ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے دو کانکن عبدالغنی ولد اسپین قوم شمولزئی سکنہ افغانستان زابل اور محمد عمر ولد عبدالشکور قوم شمولزئی سکنہ افغانستان زہریلی گیس سے دم گھٹنے سے جاں بحق ہوگئے.جبکہ پھنسے ہوئے چار کانکنوں کی لاشیں مسلسل 19 گھنٹے بعد کان سے نکال لی گئی جن میں عبدالمنان ولد محمد عیسی ,عبدالولی کال الدین اور محمد ملا شامل ہیں .جبکہ 19 امدادی کانکن زہریلی گیس سے بے ہوش ہوگئے .بے ہوش ہونے والوں میں دلبر ولد سید حسن ,قدرت اللہ ولد حیدر ,محمد ولی ولد عبدالروف ,سرور غلام صدیق ,شیر محمد ولد خان محمد قوم،نورانی ولد عبدالشافع ،مسلم نصراللہ ولد عبدالغفار ،محمد رحیم ولد محمد فضل محمد عالم ولد قابل ,عبدالغفار ولد تاج محمد ,عبدالمالک ولد عبدالرازق ,صفیح اللہ ولد زکریا اور علی زئی ولد محمد صدیق شامل ہیں. تمام زخمیوں اور جان بحق ہونے والے چھ کوئلہ کانکنوں کو سول ہسپتال دکی منتقل کردیئے گئے ہیں.واقعے کے چودہ گھنٹے گزرنے کے بعد مائنز ریسکیو کا ایک ٹیم لورالائی سے دکی پہنچامحکمہ مائینز کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے حادثے کے بعد دو امدادی کانکن جانبحق جبکہ 19 بے ہوش ہوگئے.واضح رہے کہ سال 2018 کے دوران دکی میں مختلف کوئلہ کانوں میں حادثات کے دوران 26 کانکن جانبحق جبکہ 84 زخمی ہوئے تھے .جبکہ رواں سال کے پہلے اکیس دنوں میں اب تک 17 کانکن جانبحق جبکہ دو درجن سے زائد بے ہوش یا زخمی ہوگئے ہیں،کمشنر ژوب ڈویژن بشیر خان بازئی نے واقعے کا نوٹس لیکر محکمہ مائینز کی غفلت اور لاپرواہی کے متعلق تفصیلی رپورٹ ڈپٹی کمشنر دکی اعجاز احمد جعفر سے طلب کرلیا ہے.چودہ گھنٹے بعد محکمہ مائینز کا ریسکیو عملہ جب متاثرہ کان پہنچا اور امدادی کاروائیاں شروع کرنے لگے تو موقع پر موجود مزدور مشتعل ہوگئے اور انہوں نے مائینز ریکسیو عملے کو کان کے اندر داخل ہونے سے روک کر فوری طور پر بھاگا دیا. اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے لیبر فیڈریشن ضلع دکی کے صدر شیر محمد کاکڑ ,صوبائی رہنماہ عبدالحکیم مجاہد ,مولانا دین محمد کاکڑ نے بتایا کہ واقعہ کو چودہ گھنٹے گزرگئے ہم نے اپنی مدد اپکتحت امدادی کاروائیاں شروع کی انہوں نے کہا کہ اگر مائینز ریکسیو عملہ بروقت پہنچتا تو دو امدادی کانکن جانبحق اور 19 امدادی کانکن بے ہوش نہ ہوتے انہوں نے کہا کہ محکمہ مائینز ہمیں انسانوں کی نظر سے دیکھتا نہیں .انکی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے آئے روز کوئلہ کانوں میں حادثات رونما ہورہے ہیں. انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کانکنوں کے تحفظ کے لئے کوئی اقدامات نہیں کررہی جسکی وجہ سے آئے روز حادثات پیش آرہے ہیں۔