
- Advertisement -
کوئٹہ کے جید علماءکرام نے کہا ہے کہ پولیو ویکسین میں کوئی ایسی چیز شامل نہیں جو اسلام سے متصادم ہو ، علماءبغیر تحقیق کئے فتویٰ نہیں دیتے ، پولیو جیسی مہلک مرض کا پوری دنیا سے خاتمہ ہوچکا ہے مگر پاکستان اور افغانستان میں اس وقت بھی یہ وائرس موجود ہے ، پاک افغان بارڈر پر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جارہے ہیں کیونکہ وہاں سے 40 ہزار افراد کا آمدورفت ہوتا ہے ، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ ، پشین اور قلعہ عبداللہ کے مختلف علاقوں میں اس وقت بھی سیوریج لائنوں میں پولیو کے وائرس موجود ہےں ۔ ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین مولانا انوارالحق حقانی ، ڈاکٹر عطاءاللہ ، قاری رشید ، عبدالرحیم رحیمی سمےت پولیو ڈویژنل ٹاسک فورس کے آفیسر ڈاکٹر سمیع نے کوئٹہ میں منعقدہ پولیو کے خاتمے سے متعلق آگاہی سمینار کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سمینار کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے مذہبی علمائے کرام کا کہنا تھا کہ پولیو ویکسین میں کوئی ایسی چیز شامل نہیں جو اسلام سے متصادم ہو۔ ہمسایہ ممالک انڈیا اور بنگلہ دیش میں کوئی پولیو مہم چلائی جاتی ، انڈیا کی آبادی ہم سے کوئی گنا زیادہ ہے وہاں غربت بھی اپنے عروج پر ہے مگر انڈیا نے بہتر منصوبہ بندی کے تحت اس موذی مرض سے چھٹکارہ حاصل کرلیا ہے ۔ پہلے پاکستان کے علاوہ نائیجیریا اور افغانستان میں پولیو کا وائرس موجود تھا مگر اب نائیجیریا نے بھی اس سے نجات حاصل کرلی ہے ۔ پچھلے سال دنیا بھر میں مجموعی طور پر 33 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے افغانستان میں 21 جبکہ پاکستان میں 12 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں بلوچستان کے 3 کیسز بھی شامل تھے ۔ بلوچستان میں دکی میں مذکورہ کیسز رپورٹ ہوئے ۔ انکاری والدین کو قائل کرنے کے لئے سب نے مل کر کام کرنا ہوگا ۔ آر ایس پیز اچھے انداز سے کام کررہے ہیں کیونکہ وہ اب تجربہ کار ہوچکے ہیں اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتنی چاہےے ۔ انہوں نے کہاکہ کچھ مسائل صرف علماءکے کہنے سے ہی حل ہوتے ہیں لوگ دوسروں کی باتوں پر یقین نہیں کرتے جب تک علماءکرام نہ کہے اس لئے ضروری ہے کہ علمائے کرام پولیو کے خاتمے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کرے ۔ قرآن سے ثابت ہے کہ آنے والے کسی بھی مصیبت سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے سے ہی منصوبہ بندی کیا جائے لہذا یہ وقت تقاضا ہے کہ پولیو سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لئے بہتر منصوبہ کی جائے ۔ پولیو سے متعلق علماءکا کردار انتہائی ضروری ہے ہے ۔ پولیو ویکسین میں اگر کوئی چیز شامل ہوتی تو دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کے لئے مہم نہیں چلائے جاتے ۔ حالت یہ ہے کہ حج یا عمرہ کے لئے جانے والے تمام افراد کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ پولیو کے وائرس وہاں منتقل ہوجائے اور ان کے لئے مشکل کا سبب بنے ۔ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی پولیو وائرس کی موجودگی دیکھتے ہوئے پاک افغان بارڈر پر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جارہے ہیں کیونکہ وہاں سے 40 ہزار افراد کا آمدورفت ہوتا ہے ، صوبائی دارالحکومت کوئٹہ ، پشین اور قلعہ عبداللہ کے مختلف علاقوں میں اس وقت بھی سیوریج لائنوں میں پولیو کے وائرس موجود ہےں۔ اس سے قبل پولیو ڈویژنل ٹاسک فورسز آفیسر ڈاکٹر سمیع نے سمینار کے شرکاءکو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں پاکستان سمےت صرف دو ممالک پولیو سے متاثر ہے ۔ پولیو مہم میں شہریوں کا تعاون اس مرض سے چھٹکارہ دلوا سکتا ہے ۔ سمینار میں علمائے کرام ، آر ایس پیز ، میڈیا کے نمائندوں سمےت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔