دینی علوم کیساتھ ساتھ عصری علوم کا حصول وقت کی اہم ضرورت ہے، سیکرٹری تعلیم محمد طیب لہڑی

0

- Advertisement -

سیکرٹری ثانوی تعلیم محمد طیب لہڑی نے کہا ہے کہ عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مدارس اصلاحات متعارف کروا رہے ہیں ۔ تمام مکتبہ فکر کے علماءو مشائخ کو اعتماد میں لے کر ایک قابل قبول اصلاحاتی قانون لانا چاہتے ہیں ۔ ملکی صورتحال بالخصوص بلوچستان کے حالات اسی بات کا متقاضی ہیں کہ مدارس ریفارمز لائے جائیں ۔ دینی علوم کیساتھ ساتھ عصری علوم کا حصول وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے محکمہ تعلیم بلوچستان اور بی آر ایس پی کے تعاون سے بلوچستان مدرسہ ایجو کیشن ریگو لیٹری اتھارٹی ایکٹ 2018 ءکے عنوان سے منعقدہ مشاورتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سکولز سید انور شاہ ایڈیشنل سیکریٹری ترقیات جہانگیر خان کاکڑ ، ڈاکٹر عامر حسین ، فیض اللہ ، ملک سکندر ایڈووکیٹ حافظ حسین احمدشرودی ، مولانا انوار الحق حقانی ، عبدالمتین اخوندزادہ ،محمد ہاشم موسوی ، صاحبزادہ کمال الدین ، علی محمد ابو تراب، ڈاکٹر عطاءالرحمن ، قاری عبدالرشید سمیت کثیر تعداد میں صوبے کے علماءو مشائخ نے شرکت کی ۔ مقررین نے مجوزہ قانون کے مختلف پہلو¶ں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام دین فطرت ہے علوم دینہ کو 1400 سالوں سے قائم رکھنے کا سہرا دینی مدارس کو جاتا ہے دینی مدارس نے ملت کو یکجا کیئے رکھا ہے ملی وحدت ، اخوت ومساوات کے فروغ میں مدار س کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔ مقررین نے کہا کہ مجوزہ قانون کوقابل عمل اور آسان بنایاجائے تاکہ قانون دینی معاملات سے متصادم نہ ہو ۔ سیکریٹری ثانوی تعلیم محمد طیب لہڑی نے شرکاءکو یقین دلایا کہ آئین و قانون سے متصادم کوئی بھی قانون نہیں لایاجائے گا ۔ مجوزہ ایکٹ کے حوالے سے قابل عمل آراءاور تجاویز کو کھلے دل سے قبول کیا جائیگا ۔ انہوںنے کہا کہ مدارس کو آزادانہ اور جدید تقاضوں کے مطابق چلانا چاہتے ہیں ۔ انہوںنے علماءپر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں انہوںنے اس امید کا اظہار کیا کہ علماءومشائخ اس حوالے سے جلد مثبت تجاویز کے ساتھ محکمے کی معاونت کریں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.