بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماءمنظوراحمد کاکڑ 38ووٹ لیکر سینیٹر منتخب

0

- Advertisement -

بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل منظوراحمد کاکڑ 38ووٹ لیکر سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں ان کے مدمقابل بلوچستان نیشنل پارٹی کے غلام نبی مری کو 23جبکہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کے محمد حنیف کو ایک ووٹ ملا ،65اراکین میں سے 63اراکین اسمبلی نے حق رائے دہی کااستعمال کیا جن میں سے ایک ووٹ مسترد کردیاگیاجبکہ مسلم لیگ(ن) کے رکن صوبائی اسمبلی نواب ثناءاللہ زہری اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن بلوچستان اسمبلی سرداریارمحمد رند نے ووٹ استعمال نہیں کیا۔پیر کے روز بلوچستان میں سینیٹ کی خالی نشست کیلئے پولنگ کا عمل بلوچستان اسمبلی کی عمارت میں صبح9بجے سے شام 4بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا پرائزیڈنگ آفیسر کے فرائض صوبائی الیکشن کمشنر غلام اسرار خان نے انجام دئےے ،پیر کے روز ووٹنگ کے عمل کاآغاز ہوا تو سب سے پہلا ووٹ بلوچستان عوامی پارٹی کے میٹھا خان کاکڑ نے استعمال کیا جس کے بعد اراکین اسمبلی کی آمد اور ووٹ کاسٹنگ کا سلسلہ جاری رہا 65کے ایوان میں 63اراکین نے حق رائے دہی کااستعمال کیا غیر سرکاری نتائج کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے منظوراحمد کاکڑ 38ووٹ لیکر سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے غلام نبی مری23ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے ،پشتونخوامیپ کے محمد حنیف ایک ووٹ حاصل کرسکے جبکہ ایک ووٹ کو مسترد کردیاگیاتاہم پاکستان مسلم لیگ(ن)کے رکن صوبائی اسمبلی وسابق وزیراعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری اور پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صدر ورکن صوبائی اسمبلی سرداریارمحمد رند نے ووٹ استعمال نہیں کیا ووٹنگ کے دوران صوبائی اسمبلی کی عمارت کی سیکورٹی کے انتظامات انتہائی سخت کئے گئے تھے ،پولنگ کے دوران پولیس ،ایف سی اور دیگر جوان سیکورٹی پر تعینات رہے ۔واضح رہے کہ بلوچستان اسمبلی کے کل 65اراکین میں سے سب سے زیادہ بلوچستان عوامی پارٹی کے 24،متحدہ مجلس عمل کے 11،بلوچستان نیشنل پارٹی کے 10،پاکستان تحریک انصاف کی7اراکین ،عوامی نیشنل پارٹی کے 4،بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)کے3،ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے2،پاکستان مسلم لیگ(ن)،پشتونخواملی عوامی پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے ایک ایک جبکہ ایک آزاد رکن اسمبلی ہیں ۔بلوچستان عوامی پارٹی کو پی ٹی آئی ،اے این پی ،بی این پی (عوامی)ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کی حمایت حاصل تھی۔حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے اراکین کی تعداد 40 ہے جب کہ حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کے اراکین کی تعداد 23 ہے ۔واضح رہے کہ پشتونخوا میپ کے سینئر رہنماءوسینیٹر سردار محمد اعظم موسی خیل 15 دسمبر 2018 کو عارضہ قلب کے باعث انتقال کر گئے تھے۔اعظم موسی خیل مارچ 2015 میں بلوچستان سے جنرل نشست پر سینیٹر منتخب ہوئے تھے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.