- Advertisement -
ایوان صنعت و تجا رت کو ئٹہ بلو چستان کے صدر جمعہ خا ن با دیزئی,نائب صدر صلاح الدین خلجی نے کہا ہے کہ کسٹم حکام اور اہلکا ر اسمگلنگ کی روک تھا م میں مکمل طور پر نا کا م ہیں بلکہ اسمگلنگ کر نے والوں کو ان کی آ شیر با د بھی حاصل ہے اسمگلنگ میں اضا فہ کے با عث نہ صرف قا نو نی کا روبا ر کر نے والوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے بلکہ اسے ملک اور صو بے کو ملنے والی اربوں روپے کی ریوینیو سے محرو می کا سا منا ہے،اسمگلنگ کو کسی صورت بھی بر داشت نہیں کیا جا ئیگا ہم اسے قا نونی کاروبا رکر نے والوں کی حق تلفی سے تعبیر کر تے ہیں ۔گزشتہ روز صنعت و تجا رت سے وابستہ افراد سے بات چیت کر تے ہو ئے جمعہ خان با دیزئی اور صلاح الدین خلجی کا کہنا تھا کہ چیمبر آ ف کا مرس اینڈ انڈسٹری کو ئٹہ بلو چستان کے عہدیداران اور ممبران کی روز اول سے کو شش رہی ہے کہ ملک اور صو بے میں اسمگلنگ کا خا تمہ کر کے قا نو نی کا روبا ر کو پروان چڑھا یا جا ئے جس کا واضح ثبوت صو بے کی صنعت و تجا رت سے وابستہ افراد کی جا نب سے رواں ما لی سال کے دوران ٹیکسز کی مد میں اربوں روپے قومی خزا نے میں جمع کرا نا ہے جس کا اعتراف خود کسٹم کلکٹریٹ اور ایف بی آر حکام کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ ٹیکسز کی ادائیگی کر نے والے تا جر اور صنعت کا ر زیا دہ حکومتی تو جہ کے مستحق ہیں مگر افسوس ایسا نہیں بلکہ انہیں مختلف مسا ئل اور مشکلا ت کا سا منا ہے جسے چیمبر کے عہدیداران اور ممبران مختلف فورمز پربیا ن کر تے چلے آئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ہما ری ہمیشہ سے کو شش رہی ہے کہ ملک اورصو بے میں قا نونی کا روبا رکو فروغ دے کر زیا دہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس دھا رے میں شا مل کیا جا ئے مگر دوسری جا نب دیکھا جا ئے تو کسٹم حکام اور اہلکا روں کی جا نب سے اسمگلنگ جیسے نا سور کے خاتمے کے لئے کسی قسم کی کو ششیں نظر نہیں آ رہی بلکہ یومیہ بنیا دوں پر ہمسا ئیہ مما لک سے بڑے پیما نے پر بلو چستان اور ملک کے دیگر حصوں کو ٹائلز اور فریش فروٹس و دیگر سامان اسمگل ہو تی ہے ،انہوں نے کہا کہ معدنیا ت سے ما لا ما ل صو بے بلو چستان میں پنجگور با رڈر سے روزانہ ٹائلز اور فریش فروٹس کی سینکڑوں ٹرکس اسمگل کئے جا رہے ہیں جن سے روزانہ کی بنیادوں پر ملکی اور صوبائی خزانے میں جمع ہونے والے کروڑوں روپے جیبوں کی نذر ہو جاتے ہیں اس کے علا وہ بھی اسمگلنگ عروج پر ہے جسے نہ صرف قا نو نی کا روبا ر کر نے والوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے بلکہ قومی خزانے میں ٹیکسز کی مد میں جمع ہو نے والے اربوں روپے بھی جیبوں کی نذر ہو جا تے ہیںجسے بعض لوگ تو خوشحال ہو جا تے ہیںمگر ملکی خزانے اور قا نو نی کا روبا ر کر نے والوں کو بڑے پیما نے پر نقصا نا ت کا سا منا کر نا پڑتا ہے ،انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کے خا تمے کے لئے چیمبر آف کا مرس کسٹم کلکٹریٹ کے احکا ما ت اور اقدا ما ت سے کسی طور بھی مطمئن نہیں بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسمگلنگ کر نے والوں کو ان کی آشیر با د حاصل ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمیںکسی طور بھی اسمگلنگ قا بل قبول نہیں ہے کیونکہ ہم اسے قا نونی کا روبا ر کر نے والوں کی حق تلفی سے تعبیر کر تے ہیں اور اسے وزیرعظم عمران خان کے ویژن کے بھی خلاف سمجھتے ہیں۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان و دیگر متعلقہ حکام سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ اسمگلنگ کا خاتمہ ہی ملکی معیشت کے استحکام کا موجب بنے گی۔